Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » ناقابلِ اشاعت ۔۔۔ محسن شکیل

ناقابلِ اشاعت ۔۔۔ محسن شکیل

میری یہ نظم شائع نہیں ہوسکتی
یہ اشاعت کے قابل نہیں
اس میں شامل ہے گہرا دکھ
ہم سب کا مشترکہ دکھ
جسے محسوس کیا جاسکتا ہے
بیان نہیں

احتجاج اور مذمت اِس کے لفظوں میں نعرہ زن
آنسو اور آہیں اِس کا دریا
سطح پہ بہہ جاتی ہے سسکی لیکن

میں یہ نظم دیوار پر کیسے لکھوں
کہ ہر دیوار ہوئی ہے بہری
اب یہ پیسوں کا
چند ٹکوں کا
کھوکھلا گونگا اظہار ہوگئیں ہیں محض
اِن پر لکھا کوئی نہیں پڑھتا

میں یہ نظم درد کے سمندر میں
پھینک دوں گا
یا ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا
یا جلا دوں گا
میں اِسے شائع نہیں ہونے دوں گا
ہر گز
شائع ہوئی تو شریک ہوجائیں گے
اِس میں سب
محبت کرنے، جاننے اور سمجھنے والے
سب کے سب

پھر بھی میں لکھوں گا ضرور
کہ نظم ہی ہے میرا احتجاج
مذمت
نعرہ
اور محبت

میں خاموشی اور کُھلے اندھے پن کے ماحول میں
ایک نظم لکھوں گا ضرور!۔

Check Also

غزل ۔۔۔۔ افتخار عارف

قصہِ اہلِ جنوں کوئی نہیں لکھے گا جیسے ہم لکھتے ہیں، یوں کوئی نہیں لکھے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *