Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وحید نور

غزل ۔۔۔ وحید نور

‘‘دانش کو ،آگہی کو، نہیں کر سکو گے قید
تابندہ روشنی کو ، نہیں کر سکو گے قید

مٰٹھی میں جگنوؤں کو دباؤ گے کب تلک؟
گٰھنگرٰو میں راگنی ، کو نہیں کر سکو گے قید

کٹ جائیگی چٹان ہر اک ظلم و جبر کی
بہتی ہوئی ندی کو ، نہیں کر سکوگے قید

سونا ہے جن کا کام، اٰنہی کے لیے ہیں جال
بیدار آدمی کو نہیں کر سکوگے قید

کب تک ہماری سوچ پہ پہرے بٹھاؤ گے؟
پھیلے گی، چاندنی کو نہیں کر سکو گے قید

زنجیرِ دشمنی پہ بہت فخر ہے تمہیں
یاروں کی دوستی کو نہیں کر سوگے قید

سارا ہی شہرِ جب ہو سراپا ئے احتجاج
ایسے میں ہر کسی کو نہیں کرسکوگے قید

گزرے ہوئے زمانوں سے زِنداں تو بھر دیے
اکیسویں صدی کو نہیں کر سکوگے قید

Check Also

کورا کاغذ! ۔۔۔  امداد حسینی

(“آصف فرخی“ کے لیے)   وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *