Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ امداد حسینی

غزل  ۔۔۔ امداد حسینی

جہاں نہ کوئی خوش گماں نہ بدگماں ، وہاں چلو
سب آئنے اْلٹ دیے گئے جہاں ، وہاں چلو

نہ کوئی جانتا تجھے نہ کوئی مانتا مجھے
نہ ننگ ہو نہ نام ہو نہ کچھ نشاں ، وہاں چلو

حیات کیا ممات کیا حصارِ شش جہات کیا
جہاں چلو مگر بہ طرزِ مئے شاں ، وہاں چلو

زمیں نہیں ہے زیرِ پا ، نہ بوجھ سر پہ عرش کا
نہاں ہو کچھ نہ آنکھ سے ، ہو سب عیاں ، وہاں چلو

نہ لوبھ کوئی سرگ کا ، نہ خوف کوئی نرگ کا
جو چل سکو تو میرے سنگ اے میاں ، وہاں چلو

جلو بْجھو ، بْجھو جلو ،یہ سلسلہ نہ ختم ہو
مگر ہے شرط بْو نہ ہو ، نہ اْٹھے دھواں ، وہاں چلو

مکین سے مکان ہے ، زمیں سے زمان ہے
جہاں نہیں مکیں مکاں ، زمیں زماں ، وہاں چلو

قدم بڑھاؤ ساتھ دو ، لو میرا ہاتھ تھام لو
جہاں زمین چومتی ہے آسماں ، وہاں چلو

صبا کے سنگ جھوم کر ، بْلارہی نئی سحر
رواں رواں وہاں چلو ، کشاں کشاں ، وہاں چلو

یہی ہے رسمِ عاشقی ، یہی ہے طرزِ بندگی
چلو جو بزمِ یار میں لہو لہاں ، وہاں چلو

Check Also

کورا کاغذ! ۔۔۔  امداد حسینی

(“آصف فرخی“ کے لیے)   وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *