Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » میں شاعرہ تو نہ تھی ۔۔۔ سمیرا کہانی

میں شاعرہ تو نہ تھی ۔۔۔ سمیرا کہانی

میں شاعرہ تو نہ تھی
بس شعر شناس اور سخن فہم تھی
جذبہ شناس ،احساس شناس اور خیال شناس تھی
ملکۂ جذبات و احساسات و خیالات تھی
ان کی شاعری کی گرویدہ تھی
ان کے سخن کی دیوانی تھی
راہِ سخن کے لئے بس اتنا کافی نہ تھا
کچھ اور بھی چاہیے تھا
شعر شعار ہونا چاہیے تھا
سو اس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا
ہاں میں نے شعر کو اپنا شعار بنا لیا
اب اس میں راہِ سخن نکلتی ہے
وہ میرے کلام پر واہ واہ کرتے ہیں
میں ان کے شعروں پر داد دیتی ہوں
وہ مجھے شاعری بھیجتے ہیں
میں انہیں ایس ۔ایم ۔ ایس کرتی ہوں
میں شاعرہ تو نہ تھی
مگر اب شاعری کرتی ہوں
سیکھی ہے ہم نے ان کے لئے شاعری
’’ تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے‘‘

Check Also

کورا کاغذ! ۔۔۔  امداد حسینی

(“آصف فرخی“ کے لیے)   وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *