Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » کپٹلزم کے رنگ روپ

کپٹلزم کے رنگ روپ

تاریخی مادیت کے کسی طالب علم کایہ دیکھ کر دماغ چکراجاتا ہے کہ بڑی بڑی منڈیوں کے لیے پیاسے کپٹلزم (کے ہیڈ کوارٹر امریکہ) میں ایک شاونسٹ نیشنلسٹ شخص صدارتی الیکشن جیت جائے۔ یہ بات آپ کس طرح کسی فارمولے میں ٹھونس کرفٹ کر پائیں گے کہ پوسٹ ٹکنالوجیکل دنیا کے مرکز امریکہ میں کوئی بنیاد پرست آدمی صدر بن جائے ۔ سٹڈی سرکلوں میں پڑھایا گیا تھا کہ بورژوازی بورژواجمہوریت کے علاوہ کسی نظام کو نہیں مانتی۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ پانچ سو سال قبل اپنے بادشاہ اور شاہی نظام کو پھانسی چڑھانے والا برطانیہ سعودی بادشاہ اور بادشاہت کو گودلیے بیٹھاہے۔ ملٹی نیشنل کارپوریشنوں سے بھی ایڈوانس مغربی دنیا سعودی، قطری،اور اردنی بادشاہی نظام کی حفاظت و دفاع کررہی ہے۔
یعنی دو سوال ہیں:۔
۔1۔ کیا کپٹلزم محدود نیشنلزم میں سما سکتا ہے؟
۔2۔کیا صنعتی معاشرہ بورژوا جمہوریت کے بجائے بادشاہی نظام کا محافظ ہوسکتاہے؟

مگر عملاً ایسا ہیہورہا ہے۔مندرجہ بالا مظاہر ایک دوسال کے بھی نہیں کہ انہیں محض اتفاق قرار دیا جائے۔ نہ ہی یہ ایک آدھ ممالک تک محدود ہیں جسے کوئی حادثہ کہا جائے ۔ویسے بھی واقعات واقعات نہیں ہوتے،اور حادثات حادثات نہیں ہوتے بلکہ یہ خود پراسیسوں کے صفتی اظہار ہوتے ہیں۔ دنیاکو حادثات پہ نہیں بلکہ پراسیسوں سے ہی چلنا چاہیے۔
جب اوپر کی دوعجائبات باتیں ہم آپ نے دیکھ لیں تو پھراس بات میں توکوئی تعجب رہ ہی نہیں جاتا کہ گیلیلیو سے لے کر سٹیفن ہاکنگ تک کی سائنس نگری یعنی صنعتی یورپ بنیاد پرست ترینِ ریاستوں کو پال پوس رہا ہے۔
یہ سارا ماجرا کیا ہے ؟۔ یہ گورکھ دھندا ہے کس طرح کا؟
مثلاًہم یہودی مذہب کے نام پر قائم اسرائیلی ریاست کو دیکھتے ہیں جو کہ تاریخ میں ایک عجیب و غریب مظہر ہے۔ اس ریاست کی خاصیتوں میں سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اُس ماضی کوواپس لانا چاہتی ہے جو اُس کی نظر میں بہت شان و شوکت والا تھا۔ یہ تو بذاتِ خود سوچنے کی بات ہے کہ آج کی سائنسی صنعتی اور ٹکنالوجیکل ترقی کے مقابلے میں ماضی کی کیا شان وشوکت ہوگی؟۔ لیکن فرضی ہی سہی اسرائیل اُس ماضی کو واپس لاگو کرنا چاہتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے قالب میں ہزاروں برس پرانی صہیونیت بالکل بھی نہیں سما پائے گی۔اس لیے کہ اگر سو فیصد نہیں تو کم از کم 4،5فیصد بنیادی ڈھانچہ تو اُس کی مطابقت میں ہونا ہی چاہیے ۔مگر کوئی بُن اور بنیاد نہ ہوتے ہوئے بھی یہ بنیاد پرست ریاست نہ صرف قائم دائم ہے بلکہ موج موج ترقی کرتی جارہی ہے۔
تو پھر ایسے کسی ملک کے وجود کا جواز اورمقصد کیاہوسکتا ہے ؟ ۔یہی ناں کہ اُسے نہ تو حال سے کوئی غرض ہوگااور نہ ہی مستقبل سے۔ اس کی ساری مثالیں، استعارے، تشبیہات اور منزل ماضی ہے،ماضی بعید ہے ۔بھیڑ بکریوں سے بھی پرے کازمانہ ۔
ماضی کے عقیدے کو آج لاگو کرنے کا ایک دوسرامطلب ’’بے ریاستی‘‘ ہے کہ اُس زمانے میں ریاست قائم کرنے جتنی ترقی نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ریاستوں سے پرے اپنی ماضی کی دنیا قائم کرنے کے لیے ایسی بنیاد پرست ریاست کے لیے توسرحدیں، سا لمیت، پڑوسی ،علاقائی اتحادیے اور اقوام متحدہ سب کچھ بے وقعت ہوگی ۔بس صیہونیت ہی صیہونیت۔
اور یہ صیہونی ریاست خود داخلی طور پرکیا ہوگی؟۔ ظاہر ہے وہ ایک بنیاد پرست ریاست ہوگی۔ بنیاد پرستی سے ذرہ بھر اِدھر اُدھرسُرکنا ناقابلِ قبول۔ آکسیجن کے سارے دریچے بند۔ یہودیت سے باہرسارے مذاہب کے لیےNO کا بورڈ۔ فلسطین ، آزادی ، بنیادی حقو ق، حقِ خود اختیاری ۔۔۔۔۔۔سب کچھ آؤٹ آف کورس ۔ جمہوریت ، پارلیمنٹ ، آئین حقوق وغیرہ تو بس ’’آئی واش‘‘ ہی ہوں گے۔
اسرائیل جیسی ریاستیں ایک ایسی جاندار ہوتی ہیں جو باہر کے ہر فکر اور نظریے کو روکنے کے لیے بنی ہوتی ہیں۔ایسے مدافعتی جانور،جن کا انٹی بایوٹیکس ، سائنس ، ٹکنالوجی، اقوام متحدہ ،بین الاقوامی کنونشنیں کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ اس لیے کہ ان کی بنیاد پرستی نام بدل بدل کر، حلیہ شکل بگاڑ بگاڑ کر اپنی سلامتی یقینی بنانے میں مہارت رکھتی ہے۔ان کے سماج کے ریشے ریشے میں ماضی پرستی اور بنیاد پرستی جذب ہوچکی ہوتی ہے ۔ یہ پرندہ بے شک آس پاس جنگلوں پہاڑوں مُلکوں میں دانہ چگنے، انڈے بچے دینے آتا جاتا ہوگا مگر رات کا بسیرا بہر حال اپنے گھونسلے میں کرے گا۔یعنی نہ گھونسلہ بغیر بنیاد پرستی کے رہ سکتا ہے اور نہ پرندہ بغیر گھونسلے کے۔ایسی ریاست اندر باہر سے ایک بنیاد پرست ریاست ہوتی ہے۔
پھر یہ بھی دیکھیے کہ بنیاد پرستی ہمیشہ شاونزم اور فاشزم کی طرف لے جاتی ہے ۔اور یہی کچھ دراصل کپٹلزم ہی ہے۔جسے سمجھنے میں ہم اکثر غلطی کر جاتے ہیں۔کپٹلزم کے جینز میں یہ تینوں مظاہر پیوست ہوتے ہیں۔یعنی جب تک کپٹلزم ختم نہ ہوگاتو نہ بنیاد پرستی ختم ہوگی، نہ شاونزم مٹے گا اور نہ فاشزم مرے گا۔
ایک سماج کی بنیاد پرستی دوسرے سماج کی بنیاد پرستی کی بہن ہوتی ہے۔محض ایک طرح کی بنیاد پرستیاں باہم بہنیں نہیں ہوتیں بلکہ مختلف ناموں صورتوں کی بنیاد پرستیاں بھی باہم بہنیں ہوتی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے مقابلِ نظر آنے کے باوجود ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔
بنیاد پرستی کپٹلزم کا اٹوٹ حصہ ہونے کے سبب ہر طرح کے حالات میں زندہ رہنے کی عظیم صلاحیت رکھتی ہے۔اور کپٹلزم نے ثابت کردیا ہے کہ وہ مارشل لا سے لے کر شہنشاہیت تک خود کو برقرار اور قائم رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح مذہبی ریاست سے لے کر سیکولرزم تک خود کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ہم اور بھارت اس کی مثال ہیں۔
بنیاد پرستی(کپٹلزم )دوست نہیں بناتی، یہ اپنے مفادات ہی کی پرورش و پرستش کرتی ہے۔ اورمفاد توانسانی خصلت نہیں ابلیسی کرتوت ہوتا ہے۔بنیادپرستی کا مفاد خود کو برقرار رکھنے کے لیے بستیاں اجاڑ دینا ہے، کھنڈرات قائم کرکے اُن پہ الوّؤں سے فریادیں کرانا ہے۔جوکپٹلزم اپنے مفاد کی خاطر بکھنگم پیلس سے بادشاہ کی پھانسی کی مَفل موسیقی ’’شادیانے‘‘ کی شہنائی بناتا ہے۔ وہی کپٹلزم اپنے مفاد کی خاطر ریاض و عمان و مسقط میں بادشاہت کے خلاف تحریک کی مارشل موسیقی کو مفل موسیقی میں بدلنے کے لیے سارے سائنسی معلومات تج دیتا ہے۔
آج ایک عجب مظہر کا سامنا ہے انسانیت کو۔ ایک بہت ناپاک اتحاد سے ہمارا واسطہ ہے۔ صنعتی امریکی ٹرمپ کی تنگ نظر نیشنلزم ،سیکولر صنعتی بھارت میں مودی کا ہندووتا،اسرائیل جیسے ممالک کی بنیاد پرستی، اور شاہوں کا فاشسٹ مشرقِ وسطیٰ !!۔۔۔۔۔۔ایسا اتحاد کہ حیرانگی کا لفظ تک ششدر ہے۔
یہ مجموعہ غیر سائنسی ہے۔ دنیا بھر میں استحصالیوں، مراعات یافتوں، کروڑ پتیوں اور سامراجیوں کا مجموعہ غیر فطری ہوتا ہے ۔یہ ساری چوکڑی غیر فطری ہے۔ یہ چوکڑی انسان کی اب تک کی حاصل کردہ ہر نعمت چھیننا چاہتی ہے۔ اس نے مرجانا ہے لوگو!، عالم لوگو!
اِس نظام اور اس کی ساری شکلوں کی او بچوری دو سو سال قبل فلاسفروں نے ’’ کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ کی صورت لکھ ڈالی تھی اور انسانی تاریخ میں کروڑوں انسان اپنے خون سے اس کے کتبے پر دستخط کرتے رہے۔ سو سال پہلے روس اور اُس کے بعد بے شمار ممالک نے تو دفن کردہ نظام کے بطور اس کی موت کا تصدیق نامہ بھی لکھ ڈالاتھا۔
مگرجون بدلتے رہنے والا یہ راکھشس ایک بار پھر زندہ ہوگیا اور دنیا پر چھاگیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان اور کپٹلزم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یا یہ زندہ رہے گا یا وہ ۔کپٹلزم ہی مرے گااس لیے کہ یہ ضرورت کے وقت انسان کی بڑھوتری کے لیے انسان کی اپنی ایجاد تھا۔ اب یہ انسانی ترقی میں مدد کے بجائے اس کے پاؤں کی بیڑی بن گیا ہے۔ اب یہ تریاق نہیں ، زہرِ قاتل بن گیاہے۔لہٰذا حتمی ہے کہ اس نے مرنا ہے ۔ اس لیے تاریخ کے لوحِ ازل پر لکھی اِس کی اوبچوری میں اپنے اپنے فقروں کا اضافہ کر لو۔
کیسے ؟۔۔۔۔۔۔سیاست کرکے ، سیاسی کام کرکے، سیاسی سرگرمی میں حصہ لے کر۔

Check Also

تعلیم ،مکمل طور پر صوبائی سبجیکٹ

آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *