Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » بلیک ہول ۔۔۔ سرور جاوید

بلیک ہول ۔۔۔ سرور جاوید

کبھی جو تاریخ نور لکھیں گے
وہ کہ جن کے قلم شعاعیں تراشتے ہیں
تو اس ستارے سے بات ہوگی
جو درد کی بے کراں خلاؤں میں
روشنی کی نوید لے کر
طلسم گاہ ازل کی خلاق ساعتوں میں
کہیں سے پھوٹا
تو اس کے پیچھے
سفر پہ سب کہکشائیں نکلیں
وہ راہبر ، رہنما ستارہ
کہ پرچم نور جس کے ہاتھوں میں
اور جلو میں نجوم ہائے جہاں کا لشکر
اور ان ستاروں کے کہکشاؤں کے سامنے
انگنت زمانوں کی ایسی ایسی مسافتیں تھیں
جو ماورائے حدود فکر و خیال بھی ہیں
اور ان میں پنہاں
نہ جانے کتنے سوال بھی ہیں
سوال اس بے کراں مسافت کے
جو کسی نقطہ ازل سے
کسی مقام ابد کی جانب مراجعت ہے
سوال ظلمت کی وادیوں میں
اثاثہِ نور کہکشاؤں کی سلطنت کے
سوال فرقت کے، فاصلوں کے
سوال قربت کی روشنی کے
سوال حدت کے زندگی کے
سوال جتنے بھی ہوں
یہ طے ہے
کہ روشنی نے کسی زمانے میں
ظلمتوں سے شکست کھائی
نہ ان کے آگے نظر جھکائی
یہ حلقہ نور کے مسافر۔۔۔ مرے ستارے
مری محبت کے استعارے
ہر اک افق پر
نئے زمانوں کی سمت جاتی
تمام راہوں پہ
روشنی کا علم اٹھائے، رواں دواں ہیں
خلا کے تاریک غار لیکن
مرے ستاروں کو نورپاروں کو
کہکشاؤں کے سلسلوں کو نگل رہے ہیں
یہ کہکشائیں خود ان کی جانب
کھنچی چلی جارہی ہیں شاید
سوال یہ ہے کہ کیا جہان خدائے برتر میں
روشنی کی شکست کا دور آرہا ہے؟
سوال یہ ہے
کہ ظلمتوں کا مہیب سایہ لئے
کہیں شب کا دیوتا مسکرارہا ہے
جو اب یہ ہے
کہ ایسا ممکن نہیں ہے
فطرت کی کارگہ میں
یہ اک تسلسل ہے
روشنی کے اسی سفر کا
کہ جو کبھی
اس طلسم گاہ ازل کی بیدار ساعتوں میں
شروع ہوا تھا
خلا کے تاریک راستوں پر
جو قافلے نور کے رواں ہیں
تو دیکھ لینا
کہ ظلمتوں کے مقدروں میں
شکست ہوگی
خلا کے تاریک غار کے اس طرف
کہیں اک جہان تازہ ہے
جو کسی انتظار میں ہے
کہیں پہ پھر کائنات
شب کے حصار میں ہے
کبھی جو تاریخ نور لکھیں گے
وہ کہ جن کے قلم شعاعیں تراشتے ہیں
تو پھر وہی راہبر ستارہ
نئی ازل کی حسین ساعت سے
پرچم نور لے کے نکلے گا
اور پھر کہکشائیں اس کے جلو میں ہوں گی
میں دیکھتا ہوں
جہانِ تازہ کہ جو کسی انتظار میں ہے
میں دیکھتا ہوں
کہ روشنی کے حصار میں ہے

Check Also

یاخداوند قُدرتانی ۔۔۔ شوکت توکلی

یا حْداوند قْدرتانی کْل چاگِرد مالِکئے ھْشک تر و کوہ وکھلگر مزن کسانئے واژہے باطنَئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *