Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » آرکائیوز » بلوچستان کے مجاہد اعظم خان عبدالصمد خان اچکزئی کا پشین کی عدالت میں بیان

بلوچستان کے مجاہد اعظم خان عبدالصمد خان اچکزئی کا پشین کی عدالت میں بیان

حقائق و بصائر کی مُنہ بولتی تصویر
عبدالصمد اچکزئی

ہفت روزہ’’بلوچستان جدید‘‘۔ 8 مئی، 1934 سے آگے چار قسطوں میں
ایڈیٹر: نسیم تلوی
ڈپٹی ایڈیٹر: محمد حسین عنقا

میں سب سے اول یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میر ا اس بیان سے ہر گز یہ مقصد نہیں کہ میں موجودہ عدالت کی رائے پر اثر ڈال کر اس میں تبدیلی پیدا کروں۔ بلکہ میں یہ بیان ایک اور عدالت میں دیتا ہوں جو خدا کی عدالت کہلاتی ہے ۔ وقت جس کا جج ۔ آئندہ کا مورخ جس کی جیوری و رائے عالمہ جسکا فیصلہ ہوتا ہے۔ اُس عدالت کا بھی قانون ہے ۔ اُس قانون کے بھی دفعات ہوتے ہیں۔
وہاں اُس وقت یہی مقدمہ کسی قدر عنوان کی تبدیلی کے ساتھ پیش ہے۔ بالکل وہاں باطل بنام حق ہے ۔باطل کویہ شکایت ہے کہ حق میرے تباہ کرنے کے درپے ہے ۔ وہاں کی عدالت کے قانون کے بموجب حق کے ظہور کے ساتھ باطل کا تعدم لابدی ہے۔ اس لیے مقدمہ کا فیصلہ حق کے لیے ہونا یقینی ہے۔ مگر جس طرح وہاں کی عدالت کا فیصلہ اٹل اور مضبوط ہے۔ اسی طرح اُس کی جرح و تعدیل بھی گران ہیں۔ وہاں زبانی کراس ایگزامیشن نہیں ہوتا۔ بلکہ عملی آزمائش ہوتی ہے۔ یہ آزمائش اس عدالت کا ٹسٹ ہے۔ یہ آزمائش کبھی کبھی اس قدر کڑی ہو اکرتی ہے کہ مدعیان حق کو کبھی آریوں کے نیچے سر دینا پڑتا ہے، اور کبھی صلیب پر چڑھ کر ثابت کرنا پڑتا ہے کہ حق کے مدعی محض مدعی نہیں بلکہ عین حق ہیں۔ ان آزمائش کے بعد جب عدالت فیصلہ دے دیتی ہے تو وہ کوئی مہینوں یا سالوں کی قید یا عارضی زندگی کی برائے نام سزا نہیں ہوتی۔ بلکہ باطل کا بالکل مٹ جانا اور حق کا اس پر چھا جانا ہوتا ہے۔ جسے پھر کوئی بھی ایک گھڑی کے لیے پس و پیش تک نہیں کرسکتا۔
جہاں میں آج کھڑا ہوں اس جگہ کو کہٹرہِ ملزمان کہا جاتا ہے۔ مگر میں آج اس جگہ کھڑا ہوکر اپنے نہان خانہ دل میں بہت بڑی مسرت محسوس کررہا ہوں یقیناً اس سے بہت زیادہ جس قدر کہ عدالت کا جج اپنی کرسی پر محسوس کرتا ہوگا ۔ بلکہ اس انسان سے بھی زیادہ جسکے پنجہِ اقتدار میں جج کا بنانا اور معزول کرنا ہے۔ کیونکہ یہ عظیم الشان جگہ اپنے ساتھ عجیب و غریب اور نہایت قدیم تاریخ رکھتی ہے۔ یہاں اگر بد سے بد انسان کھڑے کیے جاتے ہیں، تو اعلیٰ ترین انسان کے کھڑے ہونے کا شرف بھی اسی مقام کو حاصل ہے۔ کیونکہ جج کی کرسی جس کی اہمیت اور شہرت کا تنہا یہی باعث ہے، کہ وہ اس کٹہرہ کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ اس لیے تاریخ بیان کرتے وقت مجھے دونوں کو ملا کر عدالت گاہ کی تاریخ بیان کرنی پڑے گی۔ دنیا کی سب سے بڑی تاریخ جو میرے علم کا ماخذ ہے ۔( جسے ہم مسلمان کلام الٰہی مانتے ہیں) بیان کرتی ہے کہ بہت قدیم زمانہ میں ایک بت تراش کے لڑکے نے اپنی قوم کو شاہِ وقت کی مرضی کے خلاف د عوت الٰہی کی تعلیم دینی شروع کی۔ تو غالباً نقصِ امن یا اس کے مترادف کسی دفعہ کے تحت وہ عدالت میں حاضر کیا گیا۔وہاں اس کا بیان عدالت کی جرح ان کا جواب سب کچھ لکھا ہوا ہے۔ آج بھی کوئی اس کو دیکھ کر انصاف کا فیصلہ دے سکتا ہے۔ مگر اس بندہِ خدا کو جرم کی سزا میں آگ میں جلائے جانے کا حکم دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو عدالت کے ہی حکم سے پاک دامنی کے جرم میں سالہا سال اسیرِ زندان رکھا گیا۔
موسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ ایمان لانے والے ساحر وں کو عدالت ہی نے شاہ وقت کے حکم کے بغیر صداقت کے ساتھ دینے کے جرم میں فریق ان سب کے ہاتھ پیر کاٹ کر اونچے درختوں میں موت تک لٹکائے جانے کی سزا دی۔
حضرت مسیح جیسے پاک انسان کو جنہیں اگرچہ میں بحیثیت مسلمان انسان کہتا ہوں مگر دنیا کا ایک بہت بڑا طبقہ تو انہیں خدا کا بیٹا بلکہ خدا خیال کرتا ہے۔عدالت ہی نے صلیب پر موت تک لٹکائے جا نے کی سزا دی تھی۔ ان مقدمات کی تفصیل عنوان ۔ جرم، ملزموں کے بیان۔ جس طرح اور فیصلہ جات قرآن کریم میں موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ سکتا ہے۔ یونان کے مشہور فلسفی سقراط کو عدالت ہی نے اس جرم میں کہ وہ اپنے مقدمات کو جھٹلانا سکا۔ زہر پی کر مر جانے پر مجبور کیا ۔ اس مقام کی تاریخ جہاں لوگ انصاف چاہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانیت پر آج تک میدانِ جنگ کے بعد جس قدر بھی مظام ہوئے ہیں۔ عدالت ہی سے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اس مقام کی پرانی تاریخ کو دُور رکھیں اور وسطی یورپ کے مذہبی عدالتوں کے ان بے پناہ مظالم کو بھی نظر انداز کردیویں جبکہ ایک خاص عقیدہ کے انسان دوسرے عقیدہ کے انسان کو زندہ آگ میں جلاتے تھے۔ شیروں سے پھڑواتے تھے۔ اور ہم انقلاب فرانس، انقلاب آئرلینڈ اور انقلاب روس کے اُن مقدس شہداکے خون کے قصہ کو بھی جانے دیں، جو حب وطن و جذبۂ پاک کی خاطر عدالتوں کے ہی ذریعہ فنا کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں۔ تو بھی ہمارے پاس موجود ہ زمانہ کے وہ ایسی مثالیں موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ عدالتیں اور پھر خصوصاً سیاسی عدالتیں کسی ملک کے نمائندہ نہیں ہوتیں۔ بلکہ یہ ایک خاص طبقہ جس کے ہاتھ میں طاقت ہوئی کے ظلم و استبداد کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک روس کی ایک عدالت ایک شخص کو سائبریا کے برفانی جیلوں میں عمر بھر کی قید بھگتنے کے لیے بھیج دیتی ہے ۔ مگر وہاں سے فرار ہوکر وہ تھوڑے دنوں میں نہ صرف اس ملک کے لیے ناجی کی حیثیت سے وہاں ڈکٹیٹر ہوجاتا ہے۔ بلکہ دنیا کے تمام انسان اس کی خوبیوں اور عظمتوں کے سامنے سر جھکا کر اسے لیننِ اعظم کا غیرفانی خطاب عطا کردیتے ہیں۔ اسی سلطنت کی ایک عدالت ( جس کے ہم رعایا ہیں۔ اور جس کے راج میں موجودہ عدالت بھی ہے ) آئرلینڈ کے ایک ملزم کوسزائے موت دیتی ہے ۔ جو بعد میں عمر بھر قید کی سزا میں تبدیل ہوتی ہے۔ اور پھر عام معافی میں رہا ہوتا ہے ۔ اس مستوجب قتل قیدی کو آج ہم اس ملک کی جمہوریت کے صدر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اور آج دنیا کے ان اہم ترین شخصیت میں سے جنہوں نے اپنے ممالک کو مکمل آزادی دلانے کا تہیہ کرلیا ہے ۔ ایک وہی قیدی ہے ۔ جیسے دنیا ڈی ویرا کے پر شکوہ نام سے یاد کرتی ہے۔
لیکن اس مقدمہ کو آج کہاں تک بیان کرتے جائیں۔ اس کی کو کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی۔
الغرض اس شاندار تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے اس کٹہرہ جسے ظاہر میں نگاہیں قاتلوں اور رہزنوں کا مقام خیال کرتے ہیں میں بادشاہوں کے ایوانوں اور امرا کے تخت گاہوں سے زیادہ باوقار اور زیادہ شاندار خیال کرتا ہوں۔
موجودہ مقدمہ کے وجوہ
اگرچہ یہ مقدمہ اُن بہت سارے مقدمات میں سے ایک ہے جو دنیا کے قیام سے آج تک حکومتیں اپنے رعایا کے نیم بیدار اور بیدار افراد پر چلاتی رہتی رہی ہیں۔ خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ حکمرانوں اور محکوموں کی قومیت اور وطنیت اور تہذیب ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ اگرہم دنیا کی پرانی تاریخ کو نہ چھیڑیں تو بھی ہندوستان کی موجودہ تاریخ جس میں ہمارے ہم قوم اور ہم سایہ صوبۂ سرحد کی تاریخ بھی موجود ہے،ایسے واقعات سے پُر ہے۔اور یہ امر قدرتی بھی ہے کیونکہ ہر چیز کو اپنی حالت پر قائم رہنے کے لیے قدامت پسند بننا پڑتا ہے۔ اور اپنے میں تغیر آسانی سے پسند نہیں کرتی۔خواہ دنیا کی پسماندہ اقوام قیدِ مذلت سے نکال کر اوج رفعت پر پہنچا نے کی سب سے زیادہ ڈھنڈورہ پیٹنے والی حکومت ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس کی یہ قدامت پرستی خواہ خطرناک نتائج اور اپنے خلاف عوام الناس کے جذبات کے اشتعال ہی کا باعث کیوں نہ ہو۔
ہماری آنکھوں کے سامنے صوبہ سرحد کے آزاد خیال افراد نہایت نرمی اور جائز طور پر حکومت سے التجائیں کرتے رہے کہ آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے کہ اپنے صوبہ کی حکومت میں جودخل باشندگانِ پنجاب کو حاصل ہے وہ نہیں۔ ہم بھی تو انسان ہیں۔ ہم کو بھی اپنے اوپر آپ ہی حکومت کرنے کی خواہش ہے۔ توا نہیں یا تو نظر انداز کیا جاتا رہا کہ تم مفلس ہو نا مہذب ہو ناشائستہ ہو۔ وغیرہ ۔ اس لیے تم کو حکومت نہیں دی جاسکتی ہے ۔پھر کچھ زیادہ سختی شروع کی گئی جو بیدار افراد کی گرفتاری کی صورت نمودار ہوا۔ اس کا نتیجہ جو کچھ ہونا تھا ۔ وہی ہوا کہ سرحد کے بلند و بالا کم تعلیم یافتہ اور دیہاتی افغان کے زیر انقیاد صوبہ کے غیور باشندے اپنی جانیں اور مال حکومت کی سختیوں کے مقابل میں ہیچ خیال کرنے لگے۔ تب مصداق آنچہ دانا کندکند نادان۔ لیک بعد از خراب بسیار۔ نہ صرف سرحد میں اصلاحات نافذ ہوئیں۔ بلکہ تحریک آزادی ہند کی مدد میں سب سے زیادہ مشکل جو حکومت وقت کو پریشان کیے دیتی تھی۔ وہ باشندگان سرحد اور ان کے زعما کی غیر تسلی بخش روش تھی۔ لیکن تاہم اس خاص مقدمہ کے لیے خاص وجوہ ہونی چاہیے۔ جو اغلباً حسب ذیل ہیں:
-1 اصلاحات بلوچستان کے لیے میری اور میری جماعت کی وہ کوششیں جو بصورت تجاویز یا میمورنڈم بلوچستان سے نکل کر حکومت ہند اور وہاں سے بھی گزر کر انگلستان کے ایوانوں تک پہنچیں۔ جن کی کامیابی یقینی ہوتی اگر مقامی حکومت وہاں تک واقعات کو صحیح رنگ میں پہنچانے میں مائل نہ ہوتی۔ مقامی حکومت خیال کرتی ہے کہ اب ہمارے بیانات کی تکذیب کا وقت آرہا ہے۔ اس لیے اس کا بے قرار ہونایقینی ہے۔
-2 واقعات و حالات کو دنیا پر صحیح رنگ میں ظاہر کرنے کے لیے موجودہ وقت میں تہذیب مغرب نے صرف دو ذرائع اختیار کیے ہیں: پریس اور پلیٹ فارم ۔ واقعہ یہ ہے کہ جب کبھی سنٹرل گورنمنٹ سے اصلاحات بلوچستان کی کوئی تجویز اٹھتی ہے۔ یا اہلیان ہندکے مطالبات کی کوئی صدائے باز گشت اٹھتی ہے ۔ تو مقامی حکومت نا مقامی حالات سے پنبہ درگوش ہوکر آنکھیں بند کرلیتی ہے۔ اور کمال اطمینان سے فرما دیتی ہے کہ باشندوں میں ایسی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اور وہ موجودہ طرزِ حکومت سے مطمئن ہیں۔ اس لیے قبل از وقت ہے ۔ لیکن اب حالت وہ نہیں رہی۔ یہاں کے مظلوم باشندوں کو جب یہاں اپنے وطن میں مذکورہ ہر دو ذرائع یعنی پریس اور پلیٹ فارم دینے کا موقع نہ دیا گیاتوانہوں نے ملک سے باہر ہندوستان کے دیگر صوبہ جات کے اخبارات اور پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرنا شروع کیا۔ ہندوستان کے ان صوبہ جات کے حریت پسند باشندگان نے ہماری کافی امداد کی۔ اور ہر طرح سے امداد کرنے پر آمادہ ہوئے۔ اس سلسلہ میں بندہ کی تازہ سرگرمیوں یعنی کوئٹہ سے ایک ہفتہ وار اخبار کی اجازت کا مطالبہ اور پھر یہاں کے حکام کے بے معنی جواب پر جو وطن اور خود حکومت کے مفاد کا منافی تھا۔ صبر نہ کرکے معاملہ کو مرکزی حکومت تک میں پہنچانے گیا۔ اور مٹکاف فارن سیکرٹری کے ہمدردانہ رویہ نے گویا آگ پر تیل کا کام کیا۔ حالانکہ میں نے امکان بھر کوششیں فوری طور پر بھی کرلی تھیں۔ افسر مجازسے بذریعہ خط و کتابت معاملہ پر بحث کرنے کی اجازت طلب کی۔ جواب نہ ملا تو بذریعہ ای ۔ اے ۔ سی او پشین اجازت طلب کی ۔نظر انداز کردیا گیا۔ میں نے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ کوئٹہ سے نکلنے والا اخبار حکومتِ بلوچستان کے حق میں کبھی اس قدر آزاد نہیں ہوسکتا جس قدر لاہور کا ایک قوم پرست روزنامہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ یہاں کا اخبار آپ کے بے پناہ اختیارات سے بخوبی واقف ہوگا۔
ہر گز کوئی اپنی تمام عمر و ملکیت کو صرف اخبار کے چند پرچوں کی اشاعت پر قربان کرنے کے لیے تیار نہ ملے گا۔ یہاں کے حالات کے پیش نظریہ بعید از قیاس چیز ہے ۔ یہ تھا نفرت پھیلانے کا میرا پہلا اقدام۔
مگر حکومت وقت اس خیال سے کہ لاہور ، کراچی اور ہندوستان کے دیگر حصص کے اخبارات کو تو ہم بلوچستان کے حق میں بیرونی کہہ کر نظر انداز کئے جانے کے مستحق بتلایا کرتے تھے۔ مگر کوئٹہ سے شائع ہونے والا اخبار اگر وہ جائز سے جائز اور نرم سے نرم الفاظ میں مطالبہِ اصلاحات کی تائید کرے گا ۔ تو وہ بلوچستان کی آواز منظور ہوگی۔ دوسری جانب حکومت ہند کی فارن سیکرٹری نے اسمبلی کے سوالات کے جواب میں فرمایا تھا کہ اگر حکومت بلوچستان کا رویہ غیر معتدل نا مناسب اور حکومت ہند کے عام پریس پالیسی کے خلاف ہوگا تو ہم دخل دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ تھی نفرت پھیلانے کی انتہا۔
-3 پلیٹ فارم ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ابتدا میں مقامی طور پر باقاعدہ جماعت بنا نے کی کوشش نہیں کی۔ جس کی وجہ ہمارے و ہ تلخ تجربات تھے جو ہمیں اپنی گذشتہ گرفتاریوں ،سزا یابیوں اور بعض مذہبی مواعظ کے کرنے کرانے میں ہوئے تھے۔
جس کا ذکر آگے آئے گا ۔ پہلے سال1932 کے آخر میں صوبہ سے باہر جیکب آباد (سندھ )میں ایک کانفرنس کی بنیاد ڈالی۔ جس کی مخالفت میں اعلیٰ حکام نے بہ نفس نفیس حصہ لیا۔ پہلے ہی اجلاس کے موقعہ پر حکومت کی دہشت انگیزی کی یہ حالت تھی کہ کانفرنس حدودِ بلوچستان کے باہر منعقد ہورہی تھی۔ لیکن پھر بھی بلوچستان کے کم وبیش دودرجن پولیس آفیسر پنڈال میں اپنی موجودگی سے کانفرنس کی شان کو دوبالا کر رہے تھے۔ سنا جاتا ہے کہ سپرنٹنڈ نٹ پولیس خود اپنے حدود کے آخری حد پر اُس وقت تک قیام رکھتے تھے جب تک کانفرنس جاری رہا۔ اس کے بعد وہاں سے واپسی پر سر کردہ نمائندگان کو تنگ کیا۔ اس لیے اس سال حکومت کو یقین تھا کہ گذشتہ تمام سال کے خلاف پروپیگنڈہ اور سختیوں کی وجہ سے امسال کانفرنس میں بلوچستان کے نمائندہ شامل نہ ہوں گے ۔بلکہ وہ بیرونی بلوچوں کی جماعت بن کر رہ جائے گی ۔ مگر جب اس کے بالکل برخلاف باوجود کانفرنس کے اجلاس کے یہاں سے بہت دور ہونے کے ، اور پھر رمضان شریف کے مہینہ میں جسمیں ہندوستان کی بڑی بڑی مسلم جماعتیں بھی اپنے اجلاس کے انعقاد سے گھبرایا کرتی ہیں۔ اس کا اجلاس نہایت شاندار طریقہ پر منعقد ہوا جس میں بلوچستان کے ہر ضلع اور تحصیل کے نمائندے سالِ گذشتہ سے دو چند تعداد میں شامل ہوئے۔ تب حکومت کو لازماً تحریک کے بظاہر چلانے والوں پر ہاتھ ڈالنا پڑا۔
اس کانفرنس کے دوسرے سالانہ اجلاس میں ایک قرارداد بدین مضمون پاس ہوا۔ اس کانفرنس کی ایک صوبہ جاتی شاخ بلوچستان میں قائم کی جاوے جسے یقیناً حکومت بعد میں بیرونی تحریک نہ کہلاسکتی۔ اس لیے حکومت کو اپنے دعوے کے لیے کہ بلوچستانی مطمئن ہیں۔ کانفرنس کے اس شاخ کے قیام میں حتیٰ الوسع رکاوٹیں پیدا کرنی پڑیں۔ جو اس کے خیال میں عبدالصمد اور عبدالعزیز کرد کی گرفتاری سے پورے ہوجائینگے۔ مگر حکومت کو یقین رکھنا چاہیے کہ اگر یہ تحریک صحیح وقت پر حقیقی ضرورت میں خلقِ خدا کو شروں سے بچانے اور ان کو بہتری کی راہ پر لگانے کے لیے پیداوار شروع ہوئی ہے۔ تو اس کا سرسبز رکھنے اور اس کا حقیقی چلانے والاہزاروں بلکہ لاکھوں عبدالصمد اور عبدالعزیز پیدا کرسکتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا ہے کہ تاریخ بھی بتاتی ہے کہ کبھی انسانوں سے نہیں بلکہ پرندوں ، پتھروں، درختوں،اور ہواؤں اور مچھروں اور سمندروں کے پانی سے بھی ظلم کے خاتمہ کا کام لیا گیا ہے۔ کیا بنی اسرائیل کو پانی کے ایک ہی ریلے نے اس ظلم سے نہیں بچایا جس میں کہ وہ یہاں تک گرفتار تھے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے فرزند قتل کیے جاتے تھے اور بدنصیب لڑکیاں ذلت کی زندگی بسر کرنے کے لیے زندہ رہنے دی جاتی تھیں ۔مذکورہ بالا تمام حقائق ہیں۔ مگر ان کو قطعی طور پر اس مقدمہ کی وجوہات قراردینے میں بدطنی یا کسی کی نیت پر شبہ کرنا پایا جاتا ہے، جو ایک اخلاقی گنا ہے ۔ اس لیے میں آخری اور قطعی وجہ کو اپنے بیان کے اخیر میں بیان کروں گا۔ اور اسی پر اپنی آئندہ کی بنیاد رکھوں گا۔

موجودہ مقدمہ دفعہ نمبر40 جرائم سرحدی
میں پہلے ذکر کرآیا ہوں کہ میں صرف اس کٹہرہ تک ہی جہاں کھڑا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شہداء نے اپنی قیمتی زندگیاں اپنے اپنے عقائد پر قربان کردیے ہیں، اپنی رسائی بھی اپنے لیے بادشاہی سے بہت زیادہ قابل فخر خیال کرتا ہوں۔ لیکن جبکہ مجھ پر دنیا کے سیاہ ترین قانون جرائم سرحد کے دفعہ نمبر 40 کے تحت مقدمہ چلایا گیا تو میر اسر فخر سے بہت اونچا ہونے کے لیے ساتھ ساتھ ایک اور بڑی امید سے جسے آپ ضرور تو ہم اور اندھی عقیدت کہیں گے، دل ہی میں بہت بڑا مسرور ہورہا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ سرحدی اقوام کا میرِ قافلہ فخرافا غنہ عبدالغفار خان کو جب وطن کی تحریک حریت میں موجودہ دور سول نا فرمانی سے گرفتار کیا تھا۔ تواسی دفعہ کے تحت ان پر مقدمہ چلا گیا تھا۔ اور ضمانت نہ دینے کی صورت میں تین سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ اس سزا کے ختم ہونے پر جب وہ باہر تشریف لائے تو آپ اسے زمانہ کی روش کہیں ۔ لیکن میں ان کی خاموش قربانی کا اثر لکھوں گا۔ کہ ان کی خفتہ قوم بیدار ہوچکی تھی۔ اور قوم کے وہ تمام نقائص جو اس وقت سے قبل بصورت نفاق اور شقاق اور کمزوری قلب کے ان میں موجود تھے، غائب ہوگئے تھے۔ اور وہ جہادِ حریت کے لیے بالکل آمادہ تھے۔ مجھے امید ہے کہ اگر اس عاجز میں خان موصوف جتنی صداقت نہ بھی ہو۔ تاہم ایثاور قربانی کا اثر کسی بھی صورت میں رائیگاں نہ جائے گا۔ اور اس کا اثر میری ذات کے لیے اگرچہ اس قدر شاندار نہ ہو۔ اور مجھ میں قوم کی اس فقید المثال طور پر رہنمائی کرنے کی صلاحیت نہ بھی پیدا ہو جو خان موصوف کا مخصوص حصہ ہے اور میری نا چیز خدمات کے ہمہ گیر نتائج نہ بھی برآمد ہوں جس قدر کہ اس صداقت مجسمکی قربانیوں سے برآمد ہوئے تھے، تو بھی مجھے یقین ہے کہ میرے اہل ملک کا ایک حصہ چاہے وہ کس قدر قلیل نہ ہو، میری مصائب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔
خود چلے آئیں گے نالوں میں اثر ہونے تو دو

قانون جرائم سرحدی
ملک کے عام قانون کو چھوڑ کر مجھ پر سرحد کے اس مخصوص قانون کے تحت مقدمہ چلا یا گیا جو سرزمینِ بے آئین بلوچستان کے سوا دنیا کے کسی حصہ کے لیے بھی قانون نہیں۔ دو سال قبل جس حصہ میں یہ قانون مانا جاتا تھا وہاں سے بھی یہ داغ مٹادیا گیا ہے۔ یہی وہ خرابی ہے جس کی وجہ سے ہمارے وطنِ عزیز کو سرزمینِ بے آئین جیسا نفرت انگیز خطاب دیا جاتا ہے۔ یہی وہ لعنت ہے جسے ہم اپنے ملک سے مٹانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہی وہ طوق ہے جسے باشندگانِ بلوچستان اپنے گردنوں سے اتار پھینکنے کے لیے بے تاب ہورہے ہیں۔ یہی وہ خوفناک اور وحشیانہ حربہ ہے جس کے یہاں کے حکومت کو باشندگان کے خواہشات سے اس قدر بے پرواہ بنا دیا ہے۔ اور جس کو حکومت کے ہاتھوں سے چھیننے کے لیے نوجوانانِ بلوچستان ایک نئے عزم اور ایک نئے ولولے کے ساتھ اُٹھے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کی موجودگی کو صوبہ کے نوجوان اپنے تمام ترقیوں کی سدِ راہ خیال کرتے ہیں۔یہی وہ مذموم قانون ہے جس نے اسگنبدِبے درمیں گنہگار اور بے گناہوں کے فطری فرق کو نا بود کردیا ہے۔ یہی وہ غیر فطری قاعدہ ہے جس کے ذریعہ ان گنت بے گناہ ، یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کیقوت لاہوت کو حکومت اجتماعی جرمانوں کی صورت میں بعض مجرموں کے گناہوں کے عوض میں چھین سکتی ہے ۔ یہی وہ طاقت ہیجس نے یہاں کی حکومت کو اپنے اندر اصلاح کی طاقت کو معدوم دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہی وہ قانون ہے جس نے یہاں کے حکام کو آئینی حکام کہلانے اور رعایا کو خوش حالی کے ذوق سے محروم کردیا ہے۔ مرحوم سررا میگرنتھ جب صوبہ سرحد کے چیف کمشنر تھے۔ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں نہایت حسرت کے ساتھ کہا تھا کہ میری دلی تمنا ہے کہ میں کبھی آئینی افسر کہلایا جاؤں ۔ انہوں نے موت سے قبل اپنی یہ خواہش پوری کردی۔ کاش یہاں کے حکام آئینی بننے کے ذوق کو محسوس کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اس حکومت میں اس قانون کے استعمال سے جس قدر خرابیاں پیدا کردی ہیں کہ اب وہ اپنے متعلق اس قدر بدظن ہوگئی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے کہ جہاں کسی نے میرے عیوب کھلے طور پر ظاہر کردینا شروع کردیا۔ میرے خلاف نفرت پھیل جانا یقینی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ بلکہ نفرت پھیل جانے کی اور وجوہات ہیں۔ جن کامیں آگے ذکر کروں گا۔
مجھے امید ہے ۔ اور میں آپ کو بھی اسی امید میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں کہ عنقریب وہ دن آئے گاکہ یہ قانون جسے قانون کہنا ہی لفظ قانون کی ہتک ہے، صفحہِ دنیا سے بے فائدہ ثابت ہوکر مٹ جائے گا۔

اقرار
میں اقرار کرتا ہوں کہ استغاثہ کا یہ کہنا کہ میں نے حیدر آباد میں تقریر کی۔ کراچی میں کی۔ یا جس قدر اخباری مضامین پیش کیے تھے ، میرے قلم سے نکلے ہیں۔ واقعی سب کچھ میں نے کیا ہے ۔ اس قدر ہیں میں استغاثہ کے گواہوں کی تمام کمزوریوں کے باوجود جس پر آگے جا کے کچھ کہو ں گا۔ یہاں اقرار کرتا ہوں کہ میں نے ان مضامین کا ایک ایک لفظ لکھا ہے۔ اور ان تقاریر کا ایک ایک حرف کہا ہے ۔میں نے ان مضامین اور تقاریر میں بالکل سچے واقعات لکھے اور کہے ہیں۔ جو درحقیقت حکومتِ بلوچستان کے بے اثر نقائص میں سے صرف چند ہیں۔ میں نے بلاشبہ حکومت بلوچستان کو برا اور قابل اصلاح کہا ہے۔ بلکہ ان مواقع کے علاوہ جب سے میں نے ہوش سنھالا ہے۔ بے شمار موقعوں پر حکومت کے اپنی اور ان جیسے دیگر مظالم پر بحث کی ہے ۔ اور ان کو بے نقاب کرتا رہوں۔ خصوصاً گذشتہ پانچ برس سے تو میں نے گھر میں، باہر بلوچستان میں۔ ہندوستان میں۔ رعایا کے ساتھ ، سرکاری حکام کے ساتھ، اسمبلی اور مرکزی حکومت کے ممبروں کے ساتھ اخبارات اور مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعہ شاید ہی دنیا کے کسی اور حقیقت پر زبان کھولی ہے۔ یا قلم اس کے عشر عشیر کے برابر بھی اٹھایا ہے جس قدر کہ اس حکومت کی کمزوریوں اور اس کے اصلاح کے ذریعوں پر کہا یا لکھا ہے۔ ایسی حکومت کو جس کے عہد میں رعایا کی جائز آواز کو دبانے کا اس قدر شوق اور مواقع ہوں کہ اگر گلستان کا ایک فرد اپنے گاؤں کے ایک مسجد میں قرآن کریم کے ترجمہ سنائے جانے کی تحریک کرتا ہے تو سپرنٹنڈنٹ پولیس فوراً موقع پر پہنچ کر اہل قریہ کو متواتر تین یوم تک تھانہ میں بلاتا رہتا ہے ۔ اور اس کے بیان قلم بند کرتا ہے اور ہر طرح تخویف اور تحریص سے انہیں ہدایت کرتا ہے کہ خبردار آئندہ ایسا موقعہ نہ آنے دینا کہ کوئی شخص مسجد میں قرآن کریم کا ترجمہ سننے اور سنانے کی کوشش نہ کرے۔ اور جس کے عہد میں ایک اخبار میں جائز مضمون کی اشاعت کے عوض ایک نوجوان نواب زادہ کو اس نے ہزار روپیہ جرمانہ اور دو سال کے قید و بند کی سزا دی جاتی ہے جس کے عہد میں سرحد پار کے چند مجرموں کے افعال کے باعث اچکزئی قوم کے مختلف قبائل سے بلالحاظ یتیم و بیوہ نو ہزار روپیہ کی گران قدر رقم بطور جرمانہ وصول کی جاتی ہے۔ اور جہاں سرحد پار کے چند جرائم پیشہ لوگوں کے کسی پرامن قبیلہ کے گاؤں کے ایک میل فاصلہ پر گزر جانے کے عوض اہل قریہ سے بلالحاظ غریب و امیر مختلف جرمانے وصول کیے جاتے ہیں۔ اور نہ دینے کی صورت میں بے گناہ جیلوں میں بند کیے جاتے ہیں۔اس بیسویں صدی میں جبکہ روئے دنیا سے غلامی اور بردہ فروشی کی لعنتی رسم اڑادی گئی ہے لیکن وہ حکومت جس کے عہد میں بروئے معاہدات بعض افراد کے اس غیر فطری حق کو تسلیم کیاگیا ہو کہ وہ لونڈی غلام رکھ سکتے ہیں۔ اور جس کے وقت میں ہزاروں مستورات کی عصمت صرف اس لیے اپنے آقاؤں کی مرضی پر ہو کہ وہ کنیز ہیں ۔نہ صرف یہی بلکہ مسلمان کنیز کہلانے والیوں کی عصمتیں غیر مذہب کے مالکوں پر بھی جائز خیال کی جاتی ہوں اور جس کے عہد میں افسرانِ وقت کے دورے ، شکار ، اور مختلف تفریحات کے مواقعہ پر پکٹ وغیرہ کی صورت میں غریب زمینداروں سے بیگار لینا عام دستور ہو ۔جس کے عہد میں ایک بد نصیب زمیندار کا یہ بھی فرض ہو کہ وہ اپنی اس زمین میں جو اس کی جائے رہائش سے میلوں دُور ہو، نصب شدہ تار کھمبوں اور اس کے اوپر سے جانے والے تاروں کی حفاظت کرے۔ اور اگر کبھی کوئی شخص اس کا نقصان کرے، جو اگرچہ معلوم بھی ہوجائے کہ فلاں ہے، فلاں جگہ کا باشندہ ہے ۔ تو بھی زرِ تاوان غریب زمینداروں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ اور جس کے عہد میں جیل میں بند قیدیوں پر باہر کے آزاد انسانوں کے افعال کے عوض مقدمہ چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں۔ اور جس کے عہد میں ملک میں ایک ہی قانون ہونے کی بجائے ہر فیصلہ کے لیے نیا قانون ہو۔ اورجہاں رسم و رواج بھی بطور قانون کے تسلیم کیے جاتے ہوں۔ جس کے عہد میں عدالت نام ہو جرگہ کا۔ جس کے ممبر نہ پنچائیت کے اصول پر منتخب ہوں اور نہ عدالت کے اصول پر کوالیفائیڈ امتحان متعلقہ پاس شدہ ہوں۔ بلکہ محض علاقے کے سرکاری افسر کے منظورِ نظر ہونا ہی ممبری کے لیے سند ہے۔ جہاں ان ممبروں کی رہنمائی کے لیے نہ تو کوئی قانون ہو اور نہ کوئی قاعدہ۔ بلکہ قانون نام ہو اُن کے ہر دم ہونے والے خیالات کا۔ جہاں شہادت کے لیے پولیس کے ایک سراغی کی گواہی کو ثبوتِ جرم سنگین کے لیے بھی کافی خیال کی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی ایک برائے نام گواہ ہی مل جاوے۔ تو ثبوت کے لیے کافی سے زیادہ سمجھا جاتا ہے۔بسا اوقات ایسے ہی نا مکمل ثبوت کی بنا پر بعض بے گناہ ملزموں کو سنگین سزائیں دی جاتی ہیں۔ جو بعد میں سرحدی نزاعات ایک صورت اختیار کرکے کئی دیگر جرائم کے سبب بن جاتے ہیں۔ جہاں کہ ان نام نہاد ججوں کو کوئی صلہِ خدمت نہ دیا جاتا ہو۔جہاں حکومت عورتوں کو اپنے رشتہ داروں کی ملکیت بمثل دوسرے اشیاء جائیداد تسلیم کرتی ہے۔ جہان حکومت بیوہ عورت کو اپنے مرحوم شوہر کے ورثاء کا ورثہ خیال کرتی ہو۔ میرے سامنے تھوڑے دنوں پیشتر اسی عدالت میں ایک فیصلہ ہوا ۔ جس میں کہ ایک بیوہ کو مرہوم خاوند کے ورثا نے انتخابِ شوہر کے لیے اپنے طرف سے آزادی دی تھی۔ مگر اس کے بھائی نے دعوے کرکے بذریعہ عدالت اس کے خاوند سے اس کے دوبارہ نکاح کے عوض کچھ روپیہ وصول کیے۔ گویا ایک عورت کسی صورت میں بھی اپنی مرضی کی مالک نہیں ہوسکتی۔ اگر ایک جائز وارث اسے آزاد بھی چھوڑ دے تو یہاں کی حکومت اس کے سابق وارث کے حق کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ اور وہ اس کی آزادی میں مخل ہوسکتا ہے۔تاآ تکہ عورت کو ضرور سامان ہی کی طرح فروخت ہونا پڑے۔ جس حکومت کے تحت تمام صوبہ کے باشندے تہذیب جدید کے سبب سے بڑے ذریعہ تشہیر یعنی اخبار کے اجراء سے محروم ہوں۔ جس حکومت کے عہد میں ایک مذہبی پیشوا کو اپنے اہل ملک کو مذہب سکھانے سے منع کیا جاتا ہے۔ جو حکومت جیل میں لازماً قیدیوں کو اپنی خوراک کھانے پر مجبور کرتی ہو۔ اور جس حکومت کے عہد میں ضلع کوئٹہ جیسے سرد مقام کے تھانوں میں قیدیوں کو آگ جلانے کے لیے لکڑی اور بسترہ کے لیے کپڑے نہ مہیا کیے جاتے ہوں اس حکومت کو اگر میں برا، قابلِ قابلِ اصلاح ناموزوں اور دقیانوسی نہ کہوں تو آخر کیا کہوں؟۔ کیا اسے اچھا ،موزوں ،غیر اصلاح طلب ،اور جدید کہوں ۔ نہیں میں سیاہ کو سفید کہنے سے انکار کرتا ہوں ۔ مجھے میرا مذہب ، میرا ضمیر ، میراایمان ، میری قوم کی تاریخ اور جذبہِ صداقت یہی کہتے ہیں کہ میں سیاہ کو سیاہ ہی کہوں۔ نرم سے نرم الفاظ جو میرے علم میں ہیں یامیرے کانوں نے سنے ہیں، وہ یہی ہیں جو میں ابھی کہتا ہوں کہ یہ حکومت بری ہے، قابلِ اصلاح ہے ، اور نا موزوں ہے۔ اچھے سے اچھا اور مفید سے مفید فقرہ جو اس حکومت کے لیے اپنی زبان سے کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ درست ہوجا۔ صحیح سے صحیح پیشنگوئی جو اس حکومت کے حق میں کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یا تو درست ہوگی، یا مٹا دی جائے گی ۔ میں نے یہی کہا ہے ، اور کہتا ہوں بلکہ جب تک منہ میں زبان اور زبان میں طاقتِ گویائی رہے گی یہی کہتا رہوں گا۔

انکار
یہاں تک تو تھا میرا اقرار ۔ اب میں انکار کرتا ہوں ۔ کس سے ؟ ۔ استغاثہ کی اِس خبر سے کہ میں نے تقاریر نفرت پھیلانے کی غرض سے کی ہیں۔ اور لکھے ہیں؟۔ یا ان سے نفرت پھیلی ہے یا نفرت پھیلنے کا اندیشہ بھی ہے۔

میرا عقیدہ
کیونکہ میرا عقیدہ ہے کہ میں محبت ، صداقت ، جرات ، قربانی اور عدم تشدد کے ذریعے اپنے مذہب ، وطن اور خلقِ خدا کی خدمت کر سکتا ہوں۔

بد ترین گناہ
اس لیے میرے نزدیک جھوٹ ، نفرت اور فریب وہی جس میں ہر قسم کی خفیہ سرگرمیاں بھی شامل ہیں، بد ترین گناہ ہیں۔ ان کے بعد تشدد کو بھی میں گناہ خیال کرتا ہوں۔ لیکن دوسرے درجہ پر ۔ کیونکہ میں بعض حالات میں اسے صرف جائز نہیں بلکہ ضروری سمجھتا ہوں۔ میں اپنے نفع کے لیے یا نقصان کے بدلے ایک مچھر تک کو آزار دینا گناہ خیال کرتا ہوں۔ لیکن خداوند کریم کے حکم سے اس کے قائم کردہ حدود انسانیت کے قیام کے لیے جو امن عامہ اور آزادئ مذاہب کے مترادف ہے۔ میں تمام جانداروں کے قتل کو بھی اگر ضروری ہو جائے گناہ نہیں خیال کرتا ۔ مجھے امید ہے اور میں اللہ سے توفیق چاہتا ہوں۔ کہ وقت آنے پر میں اپنا عزیز سے عزیز متاع اور رشتہ دار حتیٰ کہ اپنا بھائی اور والدہ اور چھوٹی بچی تک کو اس کے حکم پر قربان کردوں گا۔ شاید میں ایسا نہ کرتا۔ مگر چونکہ میں مسلمان ہوں ۔ اور ایک مسلمان کے متعلق اللہ نے پہلے ہی سے فیصلہ سنادیاہے کہ وہ اور اس کا مال اللہ کی مرضی کے عوض فروخت ہوچکے ہیں۔ اس لیے میرے نسبت یہ کہنا کہ میں نے اس حکومت سے نفرت پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ صریح بہتان ہے۔ میں اب تک اس حکومت سے نفرت نہیں کررہا ۔ بلکہ میں اس کی بعض معمولی تبدیلیوں کے عوض بھی اس کا مشکور ہوں گا۔ میں نے اپنے مقاصد اوران کے حصول کے ذرائع اور طریقوں کے متعلق مسٹرونگیٹ پولٹیکل ایجنٹ کوئٹہ سے گفتگو کی۔ وہ کاملاً مطمئن ہوگئے۔ مگر اس صاف گو انسان نے مجھ سے صاف کہہ دیا کہ ہندوستان کے عام سوال کے فیصلہ ہونے تک حکومت کسی بھی تحریک کو بلوچستان میں جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔ جس کا مقصد تھا آنے والی اصلاحات میں ۔بلوچستان کا چپ چاپ اپنی محرومی پرصبر کرنا، جو نا ممکن تھا ۔ سٹرویکھم نے ایک ملاقات کے دوران صاف تسلیم کیا کہ تمہاری اور حکومت کے مقاصد بلکہ طریق کار میں کوئی تفاوت نہیں۔ اس وقت میں بھی وہی ہوں۔ حکومت بھی وہی۔ اگر کوئی فرق آگیا ہے تو یقیناًنیتوں میں۔ اصلاحات بلوچستان کے وقت کے متعلق ممکن ہے حکومت کا خیال ہو کہ آنے والی اصلاحات میں بلوچستان کو کچھ بھی حصہ نہیں ملنا چاہیے۔ جو میرے خیال کے بالکل مخالف ہے۔میں اور میری جماعت چاہتی ہے کہ ہمیں آنے والی اصلاحات میں دیگر صوبجات ہند کے مساوی حصہ ملنا چاہیے۔ اس سے یہ مقصد نہیں کہ میں حکومت سے نفرت کرنے لگا ہوں۔ یہ نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہوں۔ یہ ہے میرے انکار کا پہلاجزو یعنی یہ کہ میں حکومت سے نفرت نہیں کرتا۔اور میں نے تفرقہ پھیلانے کی کوشش نہیں کی ۔ باقی رہا یہ کہ اگرچہ میں نے نہ کی ہو۔ مگر میری تقاریر اور مضامین نے نفرت پھیلائی ہے ۔ اس سے بھی انکار کرتا ہوں۔ کیونکہ مجھے اپنے ملک پر اپنے مضامین کا اثر بخوبی معلوم ہے۔ لیکن تقاریر کے متعلق تو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے وہ جلسے بھی دیکھے ہیں، جہاں نفرت پھیلتی ہے یا پھیلائی جاتی ہے ۔ میں نے ان کے شرم شرم اور برطانیہ برباد کے نعرے بھی سنے ہیں۔ میں نے اس جوش کو بھی دیکھا ہے جو ایک ایک نظم کے پڑھنے اور ایک ایک تقریر سے مجمع میں پھیل جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ جلسے جن میں میری تقریریں ہوئیں۔ ان کے سکوں کو بھی دیکھا ۔ میں جانتا ہوں کہ بلوچستان کے جوشیلے فرزندوں کو صبرو سکوں کی تعلیم دینی ضروری ہے اور جلسوں میں اس قدر ضرور ہوا کہ اہالیان بلوچستان کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوگئی۔ جیسے کہ کراچی کے جلسہ کی تجویز سے واضح ہے۔ اگر وہاں نفرت پھیلتی تو حکومت بلوچستان کے برخلاف اظہار کا نفرت ریزولیوشن پاس ہوتا۔ نہ کہ صرف ہمدردی کی تجویز اس لیے مجھے یقین ہے کہ میری تقاریر اور نہ مضامین سے نفرت پھیلی ہے اور نہ پھیل سکتی ہے۔ در حقیقت اگر مجھے یقین ہوجائے کہ میری کسی حرکت سے حکومت یا کسی فرد کے خلاف نفرت پھیلنے کا اندشیہ بھی ہے تو میں اس کے کفارہ کے لیے شاید عمر بھی اس حرکت سے رضا کارانہ طور پر باز آؤں۔ خواہ وہ تقریر وتحریر ایک مذہبی فرض ہی کیوں نہ ہو۔

نفرت کس طرح پھیلتی ہے
در حقیقت حکومت کے خلاف نفرت پھیلتی ہے۔ وہ کسی کی تقریر کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ وہ حکومتوں کے بعض اعمال کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔بالخصوص اس وقت جبکہ حکومت یہ خواہش رکھے کہ میں بری بھی ہوں،درست بھی نہ ہوجاؤں۔ اور لوگ میری درازیِ عمر کی دعائیں بھی مانگتے رہیں۔ اگر حکومت اہلِ ملک کی خواہشات کے ساتھ یا کچھ دیر میں بھی اپنے اندر کم از کم تبدیلیاں پیدا کرتی جائے تو نفرت کی بجائے محبت پھیلے گی ۔ جوتقاریر کی جاتی ہیں یا جو مضامین لکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان میں قوم کو بھی خطاب کیا جاتا ہے۔ لیکن اکثر اس لیے رکھے جاتے ہیں کہ حکومت ان پر غور کرکے اپنے اس شعبہ میں تبدیلی پیدا کرے۔ مثلاً میرا وہ مضمون جس میں جیل کے متعلق صحیح واقعات درج ہیں۔ خالصتاً اس جذبہ کے تحت لکھا گیا ہے ۔ اگر حکومت اپنے اس شعبہ میں تبدیلی پیدا کرتی تو وہ دیکھتی کہ ساری دنیا بھی اگر عبدالصمد بنتی تو بھی اس کے خلاف نفرت پیدا نہ کرسکتی لیکن حکومت اس کے خلاف اس پر مصر رہے کہ جیل خانہ میں بھی یہی حالت ضرور رہے گی اور لوگ اسے اچھا بھی کہیں۔ تب نفرت کا پھیل جانا ضروری ہے۔اس کے بعد لا اینڈ آرڈر کے محافظ محکمہ کے بعض اوقات اس آرڈر کے لیے سختی کرنے سے بھی کبھی کبھی نفرت پھیل جایا کرتی ہے۔ مثلاً کراچی کے جلسہ میں ایک پارسی بھائی نے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ اپنا ایک واقعہ بیان کیا کہ مجھے کوئٹہ میں صرف اس واسطے داخل ہونے نہیں دیا کہ میرے کوٹ پر ایسے بٹن لگے ہوئے تھے جن پر ہندوستان کے قومی جھنڈے کی تصویر تھی۔ اور مجھ سے مطالبہ کیا گیا کہ اسے اتاردیں تو آپ شہر جاسکتے ہیں۔ ورنہ نہیں۔ ایک اور پنجابی حضرت نے ذکر کیا کہ مجھے کوئٹہ میں مسلم یتیم خانہ کے افتتاح کرانے میں پولیس کے ہاتھوں میں کیا مصائب برداشت کرنی پڑیں۔ میرا ایک دوست جو سندھ کا باشندہ ہے ۔ اور جس کا والد صاحب حکومت کا نہایت درجہ فرمان بردار تھا۔ اور نواب شاہ ڈسٹرکٹ بورڈ کا صدر تھا۔ جب وہ اگست1932میں میرے پاس گلستان آنے کے لیے کوئٹہ اترا تو پولیس ان کو پکڑ کر لے گئی اور کئی گھنٹہ تک پولیس سرائے میں کوئٹہ کے غلیظ کمروں میں بٹھانے اور کئی تھانوں میں در بدر پھرانے کے بعد رہا کیا۔ یا اس جماعت کا جیسا کہ میں نے سنا ہے ۔ تلک ہورزی فیکٹری کے سائین بورڈ پر اس لیے اعتراض کرنا کہ اس میں مہاتما تلک کا اسم گرامی درج ہے۔ یا کوئٹہ کے کپڑا مارکیٹ کے ایک ہندو دکاندار کو صرف اس لیے گرفتار کرنا کہ غالباً اس نے دیسی کپڑے کے فروخت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیا ان واقعات سے نفرت پھیلنے کے سوا کچھ اور حاصل ہوسکتا ہے؟۔ اگر کسی حکومت میں ایسی خرابیاں نہ ہوں یا صرف ان کو ہمیشہ قائم رکھنے پر اصرار نہ ہو تو یہ بات خلاف عقل ہے کہ اس کے خلاف خود بخود کسی کی کوشش کرنے سے نفرت پھیلے۔ غرض یا تو بمصداق ( تو نیکوروش باش ۔ یا تابد سگال ۔۔۔۔۔۔ مجال)
پھر جائز اور سچی نکتہ چینی کو برداشت کرنا چاہیے۔ وہ کیسی بھی تلخ کیوں نہ ہو۔ نہ صرف برداشت کرنی چاہیے بلکہ اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے نہ کہ اسے نفرت کے نام پر بند کرانے کی بے سود کوشش کی جاوے۔

ایک کمزور استغاثہ
میرے بر خلاف موجودہ استغاثہ کی کمزوری آفتاب آمد دلیل آفتاب کی مانند اپنی مثال آپ ہے ۔ ملک کے عام قوانین کو چھوڑ کر سرحد کے کالے قوانین کے تحت مقدمہ چلانے کا مقصد ظاہر ہے۔ ورنہ میں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا کہ جسے ہندوستان کے کسی دیگر حصہ کی حکومت بھی گرفت کرسکے۔ بلوچستان کی حکومت جو حد درجہ محتاط ہے۔ وہ اسے جرم قابلِ گرفت خیال کرتی ہے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ کسی جرم کے وقوع کو ثابت کیا جاوے۔ بلوچستان کے عقابی نگاہوں والی حکومت کو یہ خطرہ ہے کہ کہیں میرے خلاف نفرت نہ پھیل جائے ۔اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو میں نے کوئی جرم کیا ہے اور نہ کرانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ مگر ہاں ’’ چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ کے مطابق حکومت جب اپنے سیاہ اعمال پر نظر ڈالتی ہے تو اسے خوف ہوجاتا ہے کہ کہیں اگر میر ے پیارے عیوب کھل گئے تو میرے خلاف نفرت کا پھیل جانا یقینی ہے۔ لیکن یہ اس کی بھول ہے۔ کیونکہ اس کی حالت اب نفرت کرنے کی نہیں بلکہ اس سے صرف ہمدردی ہی کی جاسکتی ہے۔

استغاثہ کے ثبوت
جیسی روح ویسے فرشتے ، جس طرح کہ استغاثہ کمزور ہے، اس سے کہیں زیادہ اس کے ثبوت بودے ہیں ۔ایک گواہ نے جو حیدر آباد سے تشریف لائے ہیں، میری حیدرد آباد والی تقریر کے نوٹ پیش کیے ۔ اور اپنے آپ کو اگرچہ اردو کا ماہر کہتا ہے تسلیم کرتا ہے کہ اس نے یونٹ مختصر نویسی سے نہیں لیے کہ فقرہ نقط کرکے لیے ہیں۔ اردو دان اصحاب جانتے ہیں کہ اس طرح مضمون کا مفہوم کس قدر بدل جاتا ہے۔ البتہ اگر کوئی ادب اردو کا ماہر ہو ۔ تو وہ کسی قدر مفہوم ادا کرسکتا ہے ۔ اگر میرے اس درست کی اردودانی اس تجویز کی نقل سے واضح ہوتا ہے جو انہوں نے اس نوٹ کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ اگر کوئی بھی شخص جسے اردو سے کچھ بھی تعلق ہو وہ اس تجویز کے الفاظ سے کوئی مفہوم اخذ کرسکے۔ تو اس کے بے ضرر گواہی کی تصدیق کے لیے کافی ہے ۔ میرا جو بھائی کراچی سے تشریف لارہے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو اردو شارٹ ہینڈ کا ماہر بتاتا ہے ۔ مگر تقریر کے جو نوٹ انہوں نے عدالت میں پیش کیے ہیں وہ ان کے اسی فن کی بولتی نشانی ہیں ۔ مگر یہی چیز ا ن کی اردودانی کی بھی قلعی کھولتی ہے۔ یہی نہیں کہ اسے میں یااور کوئی سمجھ نہ سکا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ صاحب خود اس کے اکثر و بیشتر حصہ کو نہیں سمجھ سکتے۔ دراصل اس میں ان اصحاب کا کچھ قصور نہیں ۔وہ کیا جانیں کہ اردو اور علم ادب سے واقفیت کیا چیز ہے۔ وہ بمثل نیم حکیم خطرہ جان ہوتے ہیں۔ ان کو تو صرف اپنے مشاہرہ سے کام ہوتا ہے۔ اور اپنے سفید فام آقاؤں کی خوشی تک ان کے فرائض محدود ہوتے ہیں۔ ا ن کے یہآقا جن کو ہندوستان پر آج تک دو صدیاں حکومت کرتے گزر رہے ہیں۔ اور ان کا ہر فرد بد نصیب ہندوستان سے لاکھوں روپے اپنی تنخواہوں اور پنشنوں کے عوض لے جاتا ہے۔مگر ان کی ملکی زبانوں سے واقفیت اس حد تک ہوتی ہے کہ گائے کو بیل کا میم صاحب اور خرِنر کو صاحب جیسا گدھا کہتے ہیں۔ مجھے ان کے انگریزی تراجم سننے کا اتفاق نہیں ہوا۔ کہ آیا وہاں بھی یہی اناپ شناپ ہے۔ یاوہ کچھ مفہوم میری تقریر کا کسی بھی انسانی زبان میں ادا کرتے ہیں۔ یا وہاں بھی ایسا جناتی زبان ہے ۔ امید ہے کہ وہاں ایسے بے ربط جملے نہ ہوں گے جو کچھ بھی معنی نہ رکھتے ہوں ۔ کیونکہ آخر وہ آقاؤں کے پاس جاتے ہیں۔

ایک عجیب و غریب گواہ
گواہ میرے دوست ملک عبدالغنی صاحب تھا نیدار پشین تھے۔ انہوں نے میری جامہ تلاشی سے چند کاغذات پیش کیے جنہیں بحیثیت ثبوت کے کچھ اہمیت نہ تھی۔ کیونکہ وہ بعض اخبارات میں شائع شدہ مضامین کے نقول ، بلوچستان کا نفرنس کے اجلاس کی کاروائی، اور چند دیگر غیر متعلقہ کاغذات تھے۔ مگر اس لحاظ سے یہ بہت اہم تھا، کہ میرے یہ کاغذات اپنے دیگر سامان کے ساتھ پشین جیل کے حوالہ میں تھے۔ جہاں میں زیر سماعت قیدی کی حیثیت سے رہتا ہوں، نہ کہ پولیس حوالات میں یہ صاحب پولیس کا سب انسپکٹر رہتے ہوئے جیل کا داروغہ بھی ہے۔ دراصل پولیس نے گرفتاری کے وقت میری کوئی تلاشی نہیں لی۔ بلکہ عدالت کو بحیثیت سپرنٹنڈنٹ جیل کے علم ہے کہ میرا سامان یہاں سے بحیثیت زیر سماعت قیدی اٹھا کر بھجوادیا گیا تھا جہاں اس سب انسپکٹر نے بحیثیت جیلر کے تلاشی لی۔ مگر جب مقدمہ کی پیشی کے ایک یوم پہلے پولیس کے چند افسر پشین میں جمع ہوگئے۔ تو استغاثہ کے کمزور ثبوتوں کی مزید تصدیق کے لیے انہیں یہ تجویز سوجھی کہ ملزم چونکہ سیاسی آدمی ہے اس کے سامان سے ضرور ہمیں کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔۔۔۔۔۔ غالباً ان کو خفیہ یا جائز کاغذات کی تلاشی نے اس پر آمادہ کیا ہوگا ۔ جو بحمداللہ اپنے لیے کوئی وقعت ہی نہیں رکھتے۔ اس لیے غالباً رات کوجیل کے مذکورہ داروغہ صاحب کو مجبور کیا ہوگا کہ وہ میرے ٹرنک کو ڈاک بنگلہ پر لے جائیں۔ جہاں پولیس نے چند افسر اور غالباً میرے وکیل دوست جو حاضر خدمت ہیں ( یہ وکیل پیشی کے دن حاضر نہ تھے) بھی موجود تھے۔ اور اس طرح ناجائز طور پر میرے کاغذات کو ٹٹول کر اپنے اسی جرم کے ثبوت میں چند کاغذات چُن لیے، جو عدالت میں پیش کیے گئے۔ ممکن ہے یہ کام دن کو کسی اور جگہ سرانجام دیا گیا ہو۔ یہ ممکن تھا۔ مجھے اس کی خبر تک نہ پڑتی ۔ مگر 3 فروری یعنی پیشی والے دن صبح دفعتاً پہرے والے سنتری نے آکر میرے کمرہ کے تختے کا دراوازہ بند کیا۔ جس سے کمرہ میں اندھیرا ہوا ۔ میں اس وقت پڑھ رہا تھا ۔ اس لیے اٹھ کر میں نے دروازے کو کھولا مگر سپاہی نے اصرار کیا کہ ملک صاحب کا حکم ہے کہ بند کرو۔اس لیے مجھے خیال ہوا ادھر ادھر دیکھا تو اپنے ٹرنک پر نظر پڑی۔ جو ایک آدمی باہر سے لا رہا تھا۔ تاہم میں سمجھ نہ سکا مگر عدالت میں کاغذات دیکھ کر مجھ پر اس سازش کا راز کھلا ۔ میں نے یہ واقعہ اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اس سے مجھے نقصان ہوا ؟ یا سرکاری افسروں کے لیے ایک قیدی کے سامان کی تلاشی کوئی بڑی بات ہے ؟ ۔مگر یہاں ایک اور نکتہ ہے جو نہایت اہم ہے۔ وہ یہ ہے کہ انگریزی لفظ’’ سنٹر لائز یشن آف پاورز‘‘ جس کے لیے مجھے موزوں اور لفظ نہیں مل سکتا۔ سوائے ’’ مجموعہ اختیارات‘‘ کو جو بلوچستان میں بالکل عام ہے ۔ قریباً ہر افسر دو دو تین تین مختلف محکموں کا انچارج ہوتا ہے۔ جو ان کو ہر وقت صحیح فرائض کی بجا آوری سے اس طرح معذوررکھ سکتا ہے جس طرح کہ اس سب انسپکٹر کو معذور رکھا ۔ یہ جملہ معترضہ تھا۔ اب میں پھر استغاثہ کی طرف آتا ہوں۔

ایک معمہ
اس مقدمہ میں جو چیز میرے لیے راز ہے، اور غالباً راز ہی رہے گا ۔ وہ یہ ہے کہ استغاثہ نے مجھ سے ضمانت اخذ کیے جانے کا مطالبہ کیا ۔ میں وکیل نہیں کہ اس نکتہ پر قانونی بحث کروں۔ اور نہ مجھے پشین میں رکھے جانے کے باعث کسی قانونی مشیر سے امداد حاصل کرنے کے قابل چھوڑا گیا ہے۔ ورنہ میں ضرور پوچھتا۔ غالباً استغاثہ کا فاضل وکیل اور استغاثہ کے اجازت دینے والے افسر اگر کسی نے اجازت دی یا لی ہے ۔ کیونکہ عدالت کے ساتھ اس کا ذکر نہیں ہوا۔ اور خود عدالت اسی حقیقت سے لا علم نہیں ہے کہ میں نے گذشتہ دفعہ جیل سے رہا ہوتے وقت مبلغ دو ہزار روپیہ سکہ شاہی کی مصدقہ ضمانت نیک چلنی بدیں غرض سرکار امین دی ہے۔ کہ حکومت اور اس کی رعایا کے حق میں نیک چلن رہو ں گا۔ جس کی مدت ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ پورے پانچ مہینہ کی مدت باقی ہے۔ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ میں یہ نہیں جانتا کہ آیا قانون اس امر کی اجازت دیتا ہے یا نہیں کہ ایک ضمانت میں بند ہوئے شخص سے دوسری ضمانت طلب کی جاوے۔ لیکن اگر قانون بھی اس بے قانونی کی اجازت دیتا ہو۔ تو عقل انسانی ایسے قانون اور ایسے ملک پر جس کی حکومت کے لیے ایک ضمانت کافی نہ ہو، اور متعدد ضمانتیں چاہتی ہوں۔ جس قدر ماتم کرے کم ہے ۔ آخر کیوں ؟ ۔اس ضمانت کا کاغذ پرانا ہوگیا ہے ؟۔یا وہ کسی اچھے اور مضبوط ورق پر نہیں لکھی ہوئی ۔ اور اب ان نقائص کو دور کیا جانا منظور ہے ؟ ۔یا وہ کسی ماہر فن منشی کی لکھی ہوئی نہیں۔ اب کسی اچھے منشی سے لکھوانا مطلوب ہے۔ اگر یہ سب کچھ نہیں تو آخر کیوں ؟۔ دوبارہ ضمانت لینے کی ضرورت پڑی۔ اس سے اگر صرف تسلی مقصود ہوتی تو وہی ضمانت کافی ہے ۔ اور اگر جذبات کی آزمائش اور طاقت کا مظاہرہ مقصود ہے۔ تو بہتر ۔

ضمانت
جہاں تک میں نے غور کیا ہے ضمانت کے مقصد میں صرف یہ اطمینان سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی اچھا انسان ہوگا تو اس کو اپنے وعدہ کا پاس، اور اگر لالچی انسان ہوگا تو اُسے اس رقم کے چلے جانے کا خیال ارتکاب جرم کے مانع آئے گا۔ میں اپنے متعلق اس دوسرے شق کولیتا ہوں۔ کہ رقم کی تضیع کو مجھ پر کس قدر اثر پڑسکتا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض سرکاری افسروں کی نیم سرکاری تحقیقات کا یہ نتیجہ ہے کہ میں گذشتہ چند سالوں میں اس تحریک کی وجہ سے پندرہ ہزار روپیہ تک مقروض ہوچکا ہوں۔ اگر معاملہ صرف اس قدر ہو تو پھر بھی یہ کیسے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص دو تین سال کے عرصہ میں اپنااس قدر روپیہ تحریکِ وطن کے نذر کرچکا ہے۔ وہ دو چار ہزار کے مزید نقصان کے خوف سے اپنے معتقدات کی ترمیم کرنے کے لیے کس طرح تیار ہوگا۔ مزید براں صرف میرے نہیں ۔ بلکہ میرے خاندان کے اموال کو کب حکومت کے وسیع خزانوں میں چلے جانے سے روکا گیا ہے۔ یا روکا جاسکتا ہے۔ گذشتہ چندسالوں میں ہم نے بار ہا ہزاروں روپے اجتماعی جرمانوں کی صورت میں دوسروں کے افعال کے عوض حکومت کو ادا کردیے ہیں۔ تو کیا ہوگا اگر دو چار ہزار اور بھی چلے جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے عسا کرتلخ تاثر کے چند روز تفریح کے لیے جسے وہ ’’ منواز‘‘ کہتے ہیں۔ اگر ہر سال نہیں تو دوسرے تیسرے سال ضرور جو نقصان ہماری جائیدادوں کو پہنچتا ہے وہ اندازہ لاکھوں سے کم نہیں۔ جہاں یہ سب کچھ بخوشی برداشت کیا جاتا ہے۔ وہاں اگریہ چند روپے اور بھی ضبط کرنے کی خاطر لیے جاتے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ نے ہمارے علاقہ میں ایک شخص کو آئل انجن کی بصیدگی کی اجازت دی ہے ۔ جس سے ہمارے خاندان کی اجازت کو صرف دہ لاکھ روپیہ کا نقصان ہوتا ہے۔ جس میں ہمارے ذاتی حصہ کی قیمت کم از کم دس ہزار روپیہ ہے۔ ان تمام نقصانات کو جب بخوشی برداشت کیا جاتا ہے تو کیا چند ہزار اور بصورت ضمانت ضبط کرانا کوئی بڑی بات ہے؟۔ نہیں، ہر گز نہیں ۔ یوں بھی جبکہ میں مقدس تحریکِ وطن کو اپنا مذہبی فرض خیال کرکے اس میں حصہ لے رہا ہوں۔ بہ حیثیت ایک مسلمان کے میراسبسے پہلا فرض اس میں اپنا تمام مال صرف کر ڈالنا ہے۔ سورۃ توبہ میں اللہ نے اپنے رسول کی زبانی مسلمانوں سے حسب ذیل خطاب کیا ہے۔ کہ اگر تمہارے والدین واجداد بہن بھائی یا بیوی بچے یا جمع کیے ہوئے مال یا چلتی تجارت یا عمدہ مکانات اور محبوب وطن تم کو اللہ ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں زمین پر برائیوں کے روکنے سے زیادہ پیارے ہیں تو اللہ کے عذاب کے آنے کا انتظار کرو۔ پس اگر میں وطن کی مقدس تحریک میں کسی بھی وقت ان چیزوں کے قربان کرنے سے رُک جاؤں تو بیک وقت فاسق بھیلکھاجاؤں گا۔ اور اللہ کی خدا ئی دھمکی کا بھی سزاوار ہوجا ؤ ں گا۔ کیا ایک کمزور انسان سے یہ ہوسکتا ہے ۔ اگر اس کو آنکھیں ہوں ۔رہی دوسری بات اگر میرے قول کو کچھ بھی ہو تو میں اپنے بیان میں کہہ آیا ہوں کہ میں ہر قسم کی نفرت کرنے یا کرانے سے عقیدتاً ہوں۔

میں طبعاً تعاون پسند ہوں
اگرچہ میں طبعاً تعاون پسند ہوں۔ لیکن جس طرح میں نے پہلی بار صرف اس خیال سے ضمانت دی تھی کہ شاید اس طرح میں حکومت کو اپنا تعاون پیش کرسکتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی میں نے اس جذبہ کے تحت بہت ساری ایسی باتیں کیں جسے میرے احباب بے اصولیاں خیال کرتے ہیں۔ مگر میں نے صرف اپنی طبعی تعاون پسندی ہی کے خیال سے ان پہ عملکیا ہے۔ جس کا نتیجہ اب یہ ہے کہ ضمانت کی معیاد کے اختتام سے قبل نئی ضمانت کی بیہودہ ضرورت لاحق ہوگئی ہے۔

اِس مقدمہ کا آخری سبب
میں اُوپر ذکر کرآیا ہوں کہ اگرچہ میں نے کئی وجوہات کی طرف اپنے بیان میں اشارہ کیا ہے ۔ مگر اخیری وجہ جس کے تسلیم کرنے میں کسی کو انکار نہیں ،صرف یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ اس غلطی میں مبتلا ہوکرکہ میرے سیاسی معتقدات اس وقت بلوچستان کے لیے غیر موزوں ہیں۔ یا میں اگر موجودہ بلوچستان میں اپنے خیالات کی تشہیر آزادی سے کروں گا تو بلوچستان کے بہترین مفاد کو نقصان ہوگا ۔ اور اس کے علاج کے لیے اس نے اپنے خیال کے مطابق یہ بہتر خیال کیا ہو کہ مجھ سے ضمانت طلب کی جاوے۔ چاہے اس کے لیے اس نے کیسا ہی ضعیف بہانہ ڈھونڈلیا ہو۔ میرے اُوپر بیان کیے ہوئے معتقدات کے پیشِ نظر یہ خیال اور نسخہ دونوں غلط ہیں۔ خیال کی درستی اس وقت میرے ا مکان سے باہر ہے۔ مگر نسخہ کی اس قدر تصحیح میں کرسکتا ہوں کہ اگر یہی کمزوری ہے کہ مجھ پر کوئی پابندی ہو تو میں چونکہ حکومت کے متعلق اپنے عقائد میں کسی تغیر سے عاجز ہوں۔ اور اگرچہ میں کوئی رقم حکومت کے خزانہ میں جمع کرانا ہی کوئی شئے نہیں سمجھتا ۔ لیکن یہ بھی کوئی صداقت اور تعاون پسندی نہیں کہ میں ضمانت دوں۔ مگر ضبطی کے لیے اور نہ بقول مہاتما گاندھی جی کہ ’’ یہ بلی چوہے کا کھیل ہے‘‘ کچھ موزوں ہے کہ میں ضمانتیں دوں اور حکومت ضبط کرے۔ اس سے تو یہی بہتر ہے جیسا کہ ستمبر1932 میں میں نے موجودہ اے جی جی صاحب کو اس وقت جبکہ میں بعض حکام وقت کے شدائد سے تنگ آچکا، ایک خطمیں تحریر کیا تھا کہ میں بخوشی آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ میری ضمانت منسوخ کرکے اس وقت تک مجھے جیل میں رکھیں جب تک حکومت بلوچستان کے شکوک اس حد تک رفع ہوجائیں کہ میں اپنے جیل اور باہر کی زندگی میں فرق محسوس کرسکوں۔ یا بلوچستان ایک آزاد عبدالصمد کو اپنے اندر رہائش کی اجازت دے۔ میں بھی بخندہ پیشانی اپنے آ پ کو اس وقت تک جب تک حکومت چاہے اس کی کامل نگرانی میں رہوں ۔ اور اطمینان سے اس اچھے وقت کا انتظار کروں۔ جبکہ وقت یا میری قربانیوں کا اثر حکومت پر یہ ثابت کردے کہ واقعی یہ خط کا اثر ہے صرف اس صورت میں میری روح مطمئن ہوگی۔ ایسا مطمئن کہ مسٹر مجسٹریٹ اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ استغاثہ نے پہلے سے ہی آپ کے اس مقدمہ میں اختیارات محدود کردیے ہیں۔ یعنی آپ صرف ضمانت کا مطالبہ اور اس کے عوض یا محدود معیاد کی قید کی سزا تجویز کرسکتے ہیں۔ اگر زیاد ہ سے زیادہ اور سخت سے سخت سزا جو آپ کے اختیار میں ہو، بلا تاملمجھے دیجئے اور یقین رکھیے کہ سزا دیتے وقت جس طرح اضطراب آپ کے دل کو ہوگا، اس کا عشرِ عشیر بھی سزا سن کرمجھے نہ ہوگا۔

تشکر
سب سے اول میں حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنی سابقہ عادت اور میرے گذشتہ تجربہ کے خلاف میری گرفتاری کے لیے بارِ سابق کی طرح کسی جھوٹی بہانہ یا بناوٹی ثبوت کی بہم رسائی کی کوئی کوشش نہ کی۔ اور نہ ہی اِسی اپنی تکالیف کے اضافہ کے ساتھ میری بدنامی کی حسبِ سابق ناکام کوشش کی۔
دوم غالباً بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملکی آدمی کے مقدمہ کو جرگہ کی بے قاعدہ عدالت میں بھیجنے کی بجائے کم از کم قانونی عدالت میں سماعت کرایا۔ جس میں اگر چہ میں نے بوجوہ اپنے مقدمہ کے مختصر کرنے کے کوئی حصہ نہ لیا۔ جہاں اس مثال میں ضمنی طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ نوجوان بلوچستان کو غیر آئینی طریقِ عدالت سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر اس مثال کو تھوڑی سی اور وسعت دی جاتی تو میرے ساتھ تمام بلوچستانی نوجوان اس شکریہ میں شامل ہوتے۔

استغاثہ
میں استغاثہ کے عام رویہ کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خصوصاً اس لیے کہ اول میری گرفتاری کے لیے جو دستہ بھیجا گیا تھا وہ کسی قسم کی شیطانی اسلحہ سے مسلح نہ تھا۔ دوئم اس لیے کہ انہوں نے میرے خلاف دفعہ 40قانون جرائم سرحد کے تحت مقدمہ چلاکر دنیا کے سامنے میری بے گناہی کا اقرار کیا۔ اور اس کے بعد اُن کے گواہوں نے اپنی اپنی گواہیوں میں کسی قسم کے تصنع سے کام نہ لیا۔ اور جو کچھ اُن کے ہاتھوں میں دیا گیا، اسے بغیر کسی ترمیم کے پڑھ سنایا۔

عدالت
میں عدالت کے اس رویہ پر جو دورانِ مقدمہ رکھا گیاکامل اطمینان کا اظہار کرتا ہوں۔ اور اس کے لیے مجسٹریٹ کا شکریہ ادا کرتاہوں۔

خاتمہ
اس سے قبل ، میرا بیان ختم ہو میں ایک حسرت کا اظہار ضروری خیال کرتا ہوں۔ جس نے میرے دل میں بے چینی پیدا کی ہے۔ وہ یہ کہ بدقسمتی سے میری گرفتاری ایسے ایام میں واقعہ ہوئی، جبکہ ہمارے وطن کے ایک حصے میں زلزلے کی مصیبت نازل ہوئی ہے۔ جہاں کے باشندے اس وقت امداد کے مستحق ہیں۔ اگر میں آزاد ہوتا تو شاید ان کی کچھ خدمت کرسکتا۔
بس یہ میر ا بیان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *