Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » Axiom of Infinity —- Nosheen Qambrani

Axiom of Infinity —- Nosheen Qambrani

جنگلوں میں گھنی جھاڑیوں سے نکلتی ہوئی
کس نے دیکھی تھیں
صحراؤں میں تِشنگی ناپتی
ڈر کے غاروں میں سہمے ہوئے
چار۔پایوں کے تن پہ برستی ہوئی مہرباں وْسعتیں؟

ذہنِ انساں کی خستہ عِمارت کی تنگی میں آکر بسیِں
سنگ سے برق تک
دَورِ وحشت سے تہذیب تک
کس نے دیکھی تھیں پگڈنڈیوں پہ جو لرزاں ہوئیں وْسعتیں؟

کس تخیّْل کی تخلیق ہیں،
کن قوانین نے اِنکو پیدا کیا؟
ہر سَبب اور مْسَبّب سے بالا
ازل کی سْرنگوں سے ہوتی ہوئی
یہ ابد گھاٹیوں میں اتر جائیں گی

عالمی دونوں جنگوں سے پہلے کے سب عارِفوں،
عارِفاؤں کے غم
بعد کی آندھیاں
ساتھ لے جائیں گی۔

کیا خبر اْن ابد گھاٹیوں سے پَرے
ڈر کے غاروں میں سِہمے ہوئے چار۔پائے کہیں
دَورِ وحشت سے تہذیب تک کے بڑے
المیے کے ہوں پھر منتظر۔۔؟
اور اْن پر برسنے لگیں مہرباں ہو کے
شیطان۔گَر وْسعتیں۔

Check Also

ٹکڑیاں (چھوٹی نظمیں) ۔۔۔۔۔ تمثیل حفصہ

۔1۔کشتی جل جاؤ۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔۔ چاند کے پار۔۔۔۔ اک ندیا بہتے پانی کی۔۔۔۔ نیند کی لوری ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *