Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

جب روشنی چمکی تو اٹھایا سرِ ساحل
مٹی کے پیالے میں تھا سونا، سرِ ساحل

پانی پہ مکاں جیسے مکیں اور کہیں گم
کچھ ایسے نظر آئی تھی دنیا سرِ ساحل

جب طے ہو ملاقات اْس آشفتہ سری سے
تم اور ہی کچھ رنگ پہننا سرِ ساحل

کشتی میں نظر آئی تھی جنت کی تجلی
پتوار اٹھاتے ہی میں بھاگا سرِ ساحل

اب قوم اتارے کوئی سینے پہ ہمارے
پہلے تو اتارا تھا صحیفہ سرِ ساحل

میں ہاتھ بڑھاتا تو بھلا کیسے بڑھاتا
تصویر میں تھے ساغر و مینا سرِ ساحل

ہم لوگ کَراچی کے عجب لوگ ہیں صاحب
کھانا ہے سمْندر میں تو پینا، سرِ ساحل

Check Also

ایک آواز ہے ۔۔۔ گلناز کوثر

کیا کہوں۔۔۔ایک آواز ہے بھیگے پتوں پہ بارش کی بوندیں بجاتی۔۔۔ بہت کھنکھناتی ہوئی۔۔۔ ایک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *