Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » آدم کاجئی ۔۔۔ جاویدحیات

آدم کاجئی ۔۔۔ جاویدحیات

سورگدل گراؤنڈتماشیوں سے کھچاکھچ بھر چکا ہے۔واپڈا کی دیوار کے اُوپر اور تاج محل سنیماکی چھت تک لوگ بیٹھے ہیں۔
آج ینگ بلوچ اور محمڈن فٹبال کلب کے مابین فائنل میچ کا سِکنڈہاف شروع ہو چکاہے۔باتیل کا سایہ پوری طرح گراؤنڈ میں پھیل گیا ہے۔ریفری کی سیٹی اور کمنٹری کرنے والے لاؤڈ اسپیکروں کا شور بڑھتا ہی جارہا تھا۔ہرشخص اپنی ٹیم کی جیت کی سیٹی سُننے کو بہت بے قرار تھا،اِس جمگھٹے میں وہ بوڑھا شخص اپنی چھلّی اُٹھائے گراؤنڈ میں چیزیں بیچ رہاتھا۔اُس کے چہرے پر جیت کی خوشی چھلک رہی تھی۔اُس کی ٹیم کو دو کے مقابلے میں ایک گول کی برتری حاصل تھی، اور یہ گول کچھ دیر پہلے پینلٹی کِک کے ذریعے قادر چائنانے گول پوسٹ میں داغا تھا۔
کھیل کے آخری لمحات میں ینگ بلوچ کے کھلاڑی نصیر راج کی کارنر کِک پرسارے تماشائی اُٹھ کھڑے ہوگئے،اور محمڈن فٹبال کلب کی جیت کی سیٹی بج گئی۔جیت کی خوشی میں وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا، اور چھلّی کی بقیہ چیزیں چھوٹے بچوں میں بانٹ دیں۔
آدم کاجئی سورج نکلنے سے پہلے کام کیلئے گھر سے نکل پڑتاتھا۔وہ صبح علاؤالدین کے بکھار میں کیکڑا اور جھینگوں کو ہانڈیوں میں اُبال کر بکسوں میں بند کرتا تھا، سنگارکی آخری کشتی آنے تک یہ سلسلہ چلتارہتا۔شام کو اپنا بیڑا اُٹھائے فٹبال گراؤنڈ آتا،اور اگرگراؤنڈ میں اُسے خبر ملتی آج فلاں محلے میں محفل ہے تووہ عشاء کی نماز پڑھ کر گھر نہیں جاتا،بلکہ محفلِ موسیقی میں مونگ پھلی،چنے،گوبن،اناردانہ،ٹیپ ٹاپ بیچنے چلاآتا۔وہ فجر کی اذان تک گھر آتا، توکبھی رات بکھار یاکسی دکان کی فرش پر بسر کرتا۔شام کو وہ اکثر بوڑھے بزرگوں کے ساتھ مُکھی نزرکی دکان کے سامنے والے زینوں پر بیٹھتا رہتا۔اُس نے زندگی کا ہر لمحہ ا پنے بچوں کی کفالت میں وقف کر رکھا تھا۔وہ اپنے بچوں کاپیٹ پالنے کیلئے اپنی کومل نیندیں بوجھل کرتا۔وہ اپنے کام سے کتنا مطمئن اور خوش تھا،جو اپنا آرام ،سُکھ ،چَین سب بھول چکاتھا۔
اُسے زندگی کاجوپل میسر آتا،وہ اُسے اپنے خاندان کی پرورش میں لگا دیتا۔
گراؤنڈ میں وہ روز دسیوں چکّر کاٹتا، اور اپنی چیزیں بیچتا رہتا۔ ’’بیا کاجااِنت،شیلّانچ اِنت، نو داِنت، بیدّام اِنت،ٹیپ ٹاپ اِنت،سُرمگ اِنت۔آدم کاجئی کی ٹوکری میں ہرموسم میں چنے ،مونگ پھلّی، گوبن،اناردانہ اور سُرمے کی بہار رہتی۔
وہ ایسا شخص تھاجو اپنی زندگی کے انمول پل صرف ایک دو روپے میں بیچ رہا تھا۔وہ اِتنی ساری محنت صرف پیٹ پالنے کیلئے کرتاتھا۔
اچھا بتاؤ،اُس نے اپنی ساری زندگی اِس کام میں لگائی تو کتنے پیسے کمائے ہونگے؟ آپکے خیال میں مونگ پھلی،چنے،شیلّانچ،اناردانہ اور ٹیپ ٹاپ بیچ کر اُس نے کتنا کمایا ہوگا؟ ہرچیزپہ پندرہ سے بیس روپے کا منافع ملتا تھا،روزانہ سو ڈیڑھ سوروپے ہی ملاکرتے تھے۔لیکن وہ اپنے کام سے بیحدشانت اور خوش تھا۔وہ پیسہ کمانا چاہتا تھامگر کتنے تھوڑے پیسوں سے راضی تھا۔نہ کبھی کسی سے کچھ مانگا، نہ کسی سے کوئی اُمید رکھی۔اُنکے لبوں پر کوئی شکایت نہیں تھی اور نہ ہی وہ کبھی ایک پل کیلئے زندگی سے مایوس تھا۔وہ اِس سماج میں صرف زندہ نہیں رہا،وہ زندگی جی بھر کے جیا بھی ہے۔
وہ ہر سال رجب،شعبان اور رمضان کے مہینے میں روزے رکھتا تھا،اور شوال کے چھ دن بھی باقاعدگی سے نفلی روزوں کا اہتمام کرتا تھا۔شہر میں کہیں بھی کوئی فوتگی ہوتی تو وہ جنازے میں ضرور شرکت کرتا۔تمباکو والے چِلم کا تووہ دلدادہ تھا۔صبح اپنے گھرحقّہ پیتا اور ظہر کوغلام زرگر کے گھرچِلم کے کش لینے ضرور جاتا۔
بلّیوں سے اُسے بہت پیار تھا، سردیوں میں بلّیاں اُس کی کمبل میں سوتیں،اور وہ اپنی آدھی روٹی ہمیشہ بلّی کو کھلاتا ۔ ایک عادت اُس میں یہ تھی،وہ تندرست لوگوں کی طرح بنا کھائے پیئے بڑے لمبے ڈکار مارتا تھا۔اُس کے تین بچے ہیں ، دو بیٹیاں اور ایک اکلوتا بیٹا۔ اُس کا بیٹا عبدالرّشید والد کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگا، ’’وہ بہت ہی مہربان اورنیک انسان تھا۔ابّا کی خواہش تھی کہ میں پڑھوں، میری تعلیم کے حصول کیلئے اُس نے مجھے لاہور بھیجا۔ میں بارہ سال تک لاہور میں پڑھتا رہا،میرے تمام تعلیمی اخراجات میرے والد نے برداشت کیں۔اُن کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن نہیں تھا، وہ مونگ پھلّی اورچنے بیچ کر اپنا وقت گزارتے تھے۔ میرے باپ نے اپنا بدن کاٹ کر میری تعلیم کے خرچے پورے کیے۔آخری وقتوں میں بھی بکھارمیں اُنکی تنخواہ صرف ساڑھے چارہزار تھی۔وہ اپنے قریبی دوستوں میں کاکا صوالی اورعیسٰی چائے والے کا کافی ذکر کرتاتھا۔میٹرک کرنے کے بعد بوڑھے کندھوں کا سہارا بننے میں لاہور چھوڑ کر آگیا۔گھر میں ضرورت کی ہر چیز ابّالاتے تھے، میں اُسے بہت مِس کرتا ہُوں۔‘‘ اُس نے بڑے دھیمے اور درد بھرے لہجے میں کہا۔
آخری ایّام میں جب آدمی اپنے جوتے رسّی اور کپڑوں کی مدد سے پیروں میں باندھے رکھے، وہ اِس حالت میں بھی ٹھوکری اُٹھائے چیزیں بیچتا تھا۔اِس لازوال کریکٹر کویوں قریب سے جاننے کے بعد مجھے ہر مونگ پھلّی بیچنے والے شخص میں کاکا آدم کاجئی دِکھتا ہے۔
اِس شہر میں دولت کمانے کے ہزاروں طریقے ہیں ، مگر وہ مُٹھی بھر تھوڑی سی ریزگاری سے راضی تھا۔وہ بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھتاتو اُس کے من میں پھول کھلتے۔ وہ شخص اب آنکھوں کو نہیں دِکھتا، مگر اُس کے قدموں کی آہٹ، آواز کی سرگوشی بازار کی گلیوں میں محسوس کی جاتی ہے۔
اُس کی چھلّی اب برآمدے میں ٹنگی ہے۔ اُس میں مونگ پھلّی، اناردانہ، چنے ، چاکلیٹ کچھ بھی نہیں ہے، ، سُرمے کی ڈِبیہ بھی نہیں رکھی، جس میں سے دودھار سُرمہ میں اپنی آنکھوں میں رچا لیتا۔چھوٹے کام ہمیشہ بڑے لوگ کرتے ہیں۔اُس کے پاس سب سے بڑی دولت یہ تھی وہ کسی کامقروض نہیں تھا۔کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا جو کہے کہ میرا آدم کاجئی سے کسی بات پر جھگڑا ہُوا تھا۔
ہمارے آس پاس ایسے کئی کردار ہونگے، جو اپنی خوداری کے لباس میں ہمیں نظر نہیں آتے۔ ہم اُن سے ہاتھ نہیں ملاتے،کبھی اُنہیں گلے نہیں لگاتے،وہ ہم سے گلہ نہیں کرتے۔آدم کاجئی بھیڑ میں تھا، پر اپنی جگہ پہ تھا۔ اُسے صرف اِتنی زمین چاہیے تھی جہاں چیزیں بیچنے کیلئے وہ صرف اپنے پیر رکھ سکے۔
عشاء کے بعد وہ مکّی مسجد کے سامنے ماما کی سوزوکی میں بیٹھ کر گھر جاتا۔ اُنہیں یاد کرتے ہوئے ماما کاکہناتھا، ’’وہ میرا پسینجرنہیں تھا،میرا ہمسفر تھا۔اُس ایک کے چلے جانے سے میری طرح جانے کتنے لوگ اکیلے رہ گئے۔‘‘
آدم کاجئی یکم مئی 2015ء کو مزدور ڈے پر اپنی مزدوری چھوڑ کرہمیشہ کیلئے دنیا سے چل بسا۔
سورگدل گراؤنڈ آج پھر رنگ برنگی جھنڈیوں سے سج گیا ہے۔ یہ تیسرابڑاسندھ بلوچستان فٹبال ٹورنامنٹ ہے۔کھیل شروع ہوتے ہی ریفری کی سیٹی بج گئی، اور تماشیوں کا شور سمندر کی موجوں کی طرح کنارے پہ ٹوٹ گیا۔تالیوں کا شور کم ہُوا تو ڈھول باجے بجنا شروع ہوگئے۔کھلاڑی، تماشائی، ریفری سب لوگ گراؤنڈ میں موجود تھے، وہ شخص کہیں نہیں دِکھاجوچھلّی اُٹھائے بھیڑ میںیکتا نظر آتا تھا۔وہ مونگ پھلّی ،چنے اور اناردانہ بیچ کر صرف دو پیسے کماتا تھا۔اُس نے گراؤنڈ میں کوئی انعام یا ٹرافی حاصل نہیں کی،لیکن وہ زندگی کا کڑا مقابلہ جیت چکا تھا۔

Check Also

واہگ ۔۔۔ میکسم گورکی / عبداللہ شوہاز

پیپے آ دہ سال اِنت ، بلئے انگت گشئے چو چیچّی ئے پیما سہر سہر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *