Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » ماما عبداللہ جان ۔۔۔ وحید زہیرؔ 

ماما عبداللہ جان ۔۔۔ وحید زہیرؔ 

سچے انسان، اچھے آدمی، پیارے بزرگ، نرم قبائلی معتبر ، شفیق استاد ، ذمہ دار گھر کے سربراہ اور باخبر دانشور ماما عبداللہ جان جمالدینی نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی، سیاست کی، بطور استاد پڑھایا، بحیثیت دانشور مسائل سلجھائے ۔ اس میٹھے معاشرے سے ظلم کی بڑی ظالم چونٹیاں ہمیشہ چمٹی رہیں۔ یہ مٹھاس ہی اس سرزمین کا عیب بن چکا ہے۔ جس کی دولت کی کشش نے کئی سکندر اعظم، تیمور لنگ چنگیز و ہلا کو خان پیدا کیے۔ وہ اپنی طاقت کے ذریعے غریب اور معصوم عوام کو روندتے رہے اور اب بھی روند رہے ہیں۔
انہیں روکنے اور راہِ راست دکھانے کے لیے ماما عبداللہ جان اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر جدوجہد کرتے رہے۔ چند چنگیز اور ہلا کو خان اندر سے بھی جنم لے چکے جو اجنبی یلغاریوں کے ساتھ مل کر سرزمین پر خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ جسے قبائلی نا عاقبت اندیشی کا نام دیا گیا ۔ یہی کتاب قلم دشمن ثابت ہوئے۔ جو عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ بن کر ہمیشہ اندیشے پیدا کرتے رہے۔ جنہوں نے قبائلی دشمنی کو ہوا دی۔ جو علم کا مقابلہ گولی اور تلوار سے کرتے رہے۔ جنہوں نے گسٹا پو کا کردار بھی ادا کیا۔
اس کے باوجود وہ ماما جیسے عالم کو زندگی بھررام نہ کرسکے۔ لٹ خانہ سے لے کر سنڈے پارٹی تک سرزمین کے سنجیدہ نوجوانوں نے کسی بھی موقع پر صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور پہلودار جدوجہد سے منسلک رہے۔ اور کاروان محبت میں قلمی، انتظامی، روحانی، خصوصیات کو جمہوریت کا منبع سمجھ کر اپنے حصہ کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ آج بھی جب عالمی سیاست کے گھوڑے گوادر سے ژوب تک دوڑائے جارہے ہیں ، وہ تماشہ دیکھنے کی بجائے گھوڑوں کی چاپ پر عوامی بیداری پھیلا رہے ہیں۔ یہ سب ماما اور اس کے قبیل کی تربیت اور تعلیم کی مرہونِ منت ہے کہ حلقۂ یاراں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماما نے ہی کہا تھا کہ ’’ اور کچھ نہیں کرسکتے کم از کم اپنے اِردگرد سے جانکاری ضرور رکھو۔ با علم آدمی بہ نسبت بے علم کے کم نقصان اٹھاتا ہے ‘‘۔
مجھے ماما سے تعلیم کے حوالے سے نسبت رہی ۔وہ ہیڈ آف بلوچی اور براہوی ڈیپارٹمنٹ تھے۔ اب بھی مجھے سردیوں کی وہ صبحیں یادہیں جب گٹکے والے سٹوپ کے اردگرد ماما عبداللہ جان جمالدینی، پروفیسر نادرکمبرانڑیں اور میر عاقل خان بیٹھے ہوتے ۔میں بھی ان کی محفل میں خاموش بیٹھا ان کی باتیں سنتا۔ میر عاقل خان قلات میں ان کے قریبی رشتہ داروں میر شائستہ خان مینگل کے ہمسائے کے حوالے سے مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ سب میرے والد حاجی عبدالکریم کے نام اور کام سے بھی واقف تھے جو ایک سماجی شخصیت اور سماجی خدمت گزار تھے۔ یوں تو ماما والے سب طالب علموں سے محبت کرتے تھے۔خاص طور پر جن طالب علموں کا خاندانی پس منظر مثبت سیاست کے حوالے سے اجاگر ہوتا ان سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں مزہ آتا۔ ایک مرتبہ میر عاقل خان نے نادر کمبرانڑیں سے کہا کہ نادر مثبت سیاسی تربیت یافتہ طالب علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور جراتمندی ان کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔ ماما نے بھی اس موقع پر اس بات کی تائید کی۔
کبھی کبھار ان عظیم شخصیات کے بارے میں سوچتا ہوں تو خود سے سوال کرتا ہوں ۔ ان لوگوں نے جو ہر اعتبار سے قابلیت اور دانشمندی کے معراج پر تھے ۔ انہوں نے محض سیاست ہی کیوں نہ کی۔ پھر اس کا جواب بھی فوری طور پر کسی جانب سے آتا ہے۔کاش یہ نام نہاد قبائلیت کی بھینٹ نہ چڑھتے ۔ یہ مغرب کے کسی ملک میں ہوتے تو ان کے علم و فلسفہ کے چرچے ہوتے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی مرتے دم تک بمشکل ایک یا دو کتابیں چھپی۔ ماما عبداللہ جان ایک بڑی تقریب میں شریک ہوئے تو وہاں صاحب صدر کو ہر آنے والا دانشور اپنی درجنوں کتابیں پیش کرتا رہا۔ اور ماما کے پاس اس وقت ان کی ایک چھپی ہوئی کتاب بھی نہیں تھی۔ یہ اس صوبے کی پسماندگی کا بیانیہ بھی ہوسکتا ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ ایک اچھا استاد قابل ، فرمانبردار شاگر د ہی پیدا کرتا ہے۔ اپنے کردار سے آنے والے زمانوں میں محبت کشید کرتا ہے۔ بے بنیاد معاشرے میں اچھی بنیادیں تعمیر کرتا ہے۔ تاکہ آنے والے وقتوں میں معاشرہ صحیح سمت میں رواں دواں ہو۔
ماما فارسی زبان کے دلدادہ تھے۔ اکثر حافظ کے اشعار محفلوں میں دہراتے تھے اور ہمیں بھی تنبیہ کرتے تھے کہ حافظ کو پڑھو۔
ماما عبداللہ جان جمالدینی خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا تذکرہ بھی کرتے اور یہی کہتے کہ خواتین کے علم وشعور کے اضافے میں ان کا ساتھ دو ۔ کتنے بد بخت ہیں وہ معاشرے جو جانوروں سے بھی بد تر سلوک اپنی خواتین کے ساتھ کرتے ہیں ۔اب ماما کے نام پر مختلف شہروں میں لائبریریاں تعمیر ہوں۔ ان کے کاموں کے حوالے سے کوئی اکیڈمی بننی چاہیے۔ ماما کے حوالے سے اس کے فکر کے حامی اور ان کی فکر کی ترویج میں پیش پیش افراد کو ایوارڈ کا باقاعدہ اعلان کرنا چاہیے۔ ہم اور آپ تصور نہیں کرسکتے آج سے پچاس سال قبل بلوچستان کا قبائی معاشرہ کس نہج پر تھا۔ اور یوسف عزیز مگسی سے لے کر عبداللہ جان جمالدینی تک اس معاشرے کے سدھار کے لیے کتنی محنت کی گئی ہے۔

Check Also

انجیلا ڈے وس(خودنوشت) ۔۔۔۔ ترجمہ:سید سبطِ حسن

اتفاق سے اُنہیں دنوں میری ملاقات کئی کمیونسٹ گھرانوں سے ہوئی اور بٹینا اپٹھیکر جو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *