Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ یاسین ضمیر

غزل  ۔۔۔ یاسین ضمیر

سانس لیتے ہوئے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو
سانس رکتی ہے تو مر جاتے ہو حد کرتے ہو

جب بھی آتے ہو تو خوشبو کی طرح آتے ہو
پھر ہواؤں میں بکھر جاتے ہو حد کرتے ہو

تم تو ویسے ہی ستاروں سے حسیں ہو لیکن
اس پہ تم اور سنور جاتے ہو حد کرتے ہو

بن کے بادل تو چلے آتے ہو صحرا کی طرف
پھر بنا برسے گزر جاتے ہو حد کرتے ہو

گرتے قطرے کہیں ہونٹوں کو نہ چھولیں ٹھہرو
ایسی بارش میں بھی گھر جاتے ہو حد کرتے ہو

اب جو نکلے ہو تو آنکھوں سے تعلق کیسا
یونہی! پلکوں پہ ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو

Check Also

The Axiom of connectivity

نوشین قمبرانی زندگی ہے روح مزیخ اور زمیں ہم ۔روح ہیں اپنے اپنے اُوربِٹ کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *