Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ نورخان محمد حسنی 

غزل ۔۔۔ نورخان محمد حسنی 

گزری رُت کے سارے منظر یاد آتے ہیں
سارے حُسن کے جلوے کیوں کر یاد آتے ہیں

ساری رات بُھلانا جن کو پڑھتا ہے
رات کے پچھلے پہر میں اکثر یاد آتے ہیں

بھوک میں چاند روٹی کا ٹکڑا لگتا ہے
پیاس میں صحرا اور سمندر یاد آتے ہیں

رہزن تم بھی اب معصوم سے لگتے ہو
تجھ کو دیکھ کر اپنے رہبر یاد آتے ہیں

لیلیٰ لیلیٰ کرکے پھرنے والوں کو
جسم پہ کھائے اپنے پتھر یاد آتے ہیں

Check Also

انسان کی موت کے بعد ۔۔۔ نور محمد شیخ

انسان کی موت کے بعد:۔ اُس کی ، ۔ ساری ذمّے داریاں ختم نہ زندگانی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *