Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

اندر باہر ایک سا موسم، ایک سی وحشت طاری ہے
تازہ تازہ شعر ہوئے ہیں، سرشاری سرشاری ہے

دن نکلا ہے بستر چھوڑو اپنے کام پہ چل نکلو
سورج نے کپڑے بدلے ہیں میلی رات اتاری ہے

اس کو رخصت کرتے لمحے، اس کی ماں نے یہ بولا
بیٹا! اس کو خوش رکھنا تم میری راج دلاری ہے

اپنی گاڑی ہو تو بندہ عیش سے آئے جائے بھی
دشت میں پیدل چل کر دیکھا چلنے میں دشواری ہے

پل میں تولہ، پل میں ماشہ، پل میں سیاہ و سپید
تیری نیّت پہ شک سا ہے، کیونکہ تو سرکاری ہے

Check Also

یاخداوند قُدرتانی ۔۔۔ شوکت توکلی

یا حْداوند قْدرتانی کْل چاگِرد مالِکئے ھْشک تر و کوہ وکھلگر مزن کسانئے واژہے باطنَئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *