Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ دلاورعلی آزر

غزل ۔۔۔ دلاورعلی آزر

زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی
وہ دن بھی دور نہیں زیست چھٹ رہی ہوگی

بڑھا رہا ہے یہ احساس میری دھڑکن کو
گھڑی میں سوئی کی رفتار گھٹ رہی ہوگی

میں جان لوں گا کہ اب سانس گھٹنے والا ہے
ہرے درخت سے جب شاخ کٹ رہی ہوگی

نئے سفر پہ روانہ کیا گیا ہے تمہیں
تمہارے پاؤں سے دھرتی لپٹ رہی ہوگی

غلط کہا تھا کسی نے یہ گاؤں والوں سے
چلو کہ شہر میں خیرات بٹ رہی ہوگی

فلک کی سمت اچھالی تھی جل پری میں نے
ستارے ہاتھ میں لے کر پلٹ رہی ہوگی

بدن میں پھیل رہی ہے یہ کائنات آزرؔ
ہماری آنکھ کی پتلی سمٹ رہی ہوگی

Check Also

یاخداوند قُدرتانی ۔۔۔ شوکت توکلی

یا حْداوند قْدرتانی کْل چاگِرد مالِکئے ھْشک تر و کوہ وکھلگر مزن کسانئے واژہے باطنَئے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *