Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لیبر قوانین ۔۔۔ اعظم جان زرکون ایڈووکیٹ 

لیبر قوانین ۔۔۔ اعظم جان زرکون ایڈووکیٹ 

انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2012 قابل عمل نہیں ہے اس لیے ملک میں 50 سے زیادہ لیبر کورٹ ہیں اور یہ کام این آئی آر سی کے چھ ممبران کے بس کی بات نہیں اور اس وقت بچلے دو سالوں سے دو ممبر نہیں اور چھ ماہ سے دو اور ممبران کی پوسٹیں خالی ہو گی ہیں حکومت ہمیشہ ممبران کی تحیناتی میں کافی تاخیر کرتی ہے اور پھر اپیل فُل بینچ میں کرنی پڑتی ہے جو فوری طور پر میسر نہیں اس لیے سٹے آرڈر نہیں مل سکتا اور بعض دفعہ اپیل کے لیے ممبران موجود نہیں ہوتے کیونکہ فُل بینچ کیلئے تین ممبران کا ہونا ضروری ہے اگر ایک صوبے میں بینچ تشکیل دیا جاتا ہے تو باقی صوبوں میں بینچ کی تشکیل نا ممکن ہوتی ہے جبکہ لیبر کورٹ کے فیصلے کیخلاف لیبر ٹربینول اپیل کرنی ہوتی ہے جس میں ایک ہی ممبر ہوتا ہے اس کے علاوہ مزدوروں کو تقریباً اپنے ہی ضلعے میں لیبر کورٹ میسر ہوتی ہے اور صرف چند جگہ پر ڈویژن کی سطح پر لیبر کورٹ ہیں کراچی میں پانچ لیبر کورٹ ہیں جبکہ سندھ میں عرصہ دراز سے این آء آر ۔ سی کاایک ہی ممبر ہے اور ایک بر طرف مزدور کاگوادر سے کوئٹہ میں آکے این آئی آر سی میں کیس کرنا ناممکن ہے اور پھر وہ بھی بیس پیشیوں کے بعد فیصلہ بڑی مشکل سے ہوگا اور ایک بر طرف ملازم کے لیے کشمور سے کراچی ڈیرہ غازی خان سے لاہور کیس کرنا ناممکن ہے اور پھر ٹیکس مرکزی حکومت لے جائے اور ابھی تک مرکزی حکومت نے محکمہ لیبر کے لیے کوئی بجٹ ہی نہیں رکھا پانچ سال ہوگئے ہیں صوبائی محکمہ لیبر کیوں مرکزی حکومت کے اداروں کی مرکزی قانون کی موجودگی میں سپرویژن کرے اور پھر صوبائی حکومتیں ایسے کارخانوں کے لیے زمینیں کیوں دیں اور صوبائی پولیس امن و امان کی ذمہ داری کیوں لے اور صوبائی محکمہ ماحولیات ان اداروں کی ذمہ داری کیوں قبول کریں اور صوبائی اینویرمنٹل ٹریبونل ان مقدمات کی پیروی بھی نہیں کر سکتا اس لیے یہ قانون ہر حوالے سے ناقابل عمل ہے اس کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسے کے 2006 میں سروس ٹریبونل میں 2A کی ترمیم کا ہوا 11 سال کے بعد سپریم کورٹ نے اس ترمیم کو غیر قانونی قرار دیا اور 18000 مقدمات سپریم کورٹ اور سروس ٹریبونل سے واپس کیے گئے جن میں سے پہلے ہی بہت سے سائلان فوت ہو چکے تھے اور کچھ نا اس فیصلے کا سنتے ہی ہارٹ اٹیک ہوگے اور بے شمار مقدمات ابھی تک زیر سماعت ہیں اور کچھ کی پیروی کے لیے نئے سرے سے ان کے ورثا نے درخواستیں دی ہیں اور دوسری طرف یہ حال ہے کہ ہر چھوٹی بات پر سوموٹو لینے والے چیف جسٹس چوہدری افتخار نے اتنے اہم معاملے کو ہائی کورٹوں کے حوالے کیا اور ابھی تک سپریم کورٹ نے ان اپیلوں پر کوئی فیصلہ نہ کیا اور مقدمات فٹ بال کی طرح ایک عدالت سے دوسری عدالت بھیجے جارہے ہیں جہاں تک بلوچستان ہائی کورٹ کا مسلہ ہے وہ ہر معاملے میں مالکان کو سٹے دیے دیتے ہیں اور دس سال تک مقدمہ ہائی کورٹ سے نہیں نکلتا اور ابھی تک پچھلے دس سالوں میں دس مزدوروں کی داد رسی نہیں ہوئی ہے ایک معاملے میں تو انہوں نے ایسا فیصلہ دیا کہ ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش کے ہزاروں فیصلوں کو نظر انداز کر کے فیصلہ دیا ہے کہ مزدور بحالی کی صورت میں صرف تین مینے کی سابقہ تنخواہ کا حقدار ہے دس سال مزدور مقدمہ چلائے گا پھر تین ماہ کی تنخواہ پر بحال ہوگا اور اگلے ماہ اُسے پھر بر طرف کیا جائے گا اور دس سال مزید مقدمہ چلے گا تو اسطرح بیس سال کے بعد صرف چھ تنخوائے لے گا پہلے حکومت اور مالکان محکمہ لیبر کے زریعے مزدوروں کو ذلیل کراتے تھے اب عدالتوں کے زریعے مقدمات اور قانون کو لٹکا لیتے ہیں پتا نہیں کے لیبر تنظیمیں اس معاملے پرکیوں خاموش ہیں چند بڑی تنظیمیں کہتی ہیں کہ صوبائی لیبر قوانین سے مزدوروں کے کے اتحاد کو نقصان ہوا ہے یہ وہ لیڈر ہیں جو اسلام آباد کے حکمرانوں کی طرح اختیارات اور بجٹ کیسی بھی طرح نچلے اداروں اور صوبوں کو منتقل نہیں کرنا چاہتے چند مرکزی تنظیموں کی مجبوری سمجھ آتی ہے لیکن باقی کی خاموشی کی وجہ کیا ہے خاص کر صوبائی تنظیموں کی میرے خیال میں یہ مکمل مایوسی کا شکار ہیں جو تنظیمیں صوبائی قانون کے مزدوروں کے اتحاد کو جواز بناتیں ہیں ان کو یہ بھی معلو م ہے کہ آئی آر اے 2012 میں سی بی یو موجود ہے اور اسی سی بی یو کی وجہ سے پہلے بھی مرکزی اداروں میں صوبائی فیڈریشنیں رجسٹرڈ ہوئی ہیں اور بے تہاشہ چھوٹے اداروں میں بھی این آئی آر سی نے ایسا ہی کیا ریلوے میں اُپن لین اور ورکشاپ میں الگ یونینیں تھی یہی حال واپڈا حبیب بینک نیشنل بینک اور تمام مرکزی اداروں میں تھا اور بہت سے لیبر لیڈروں نے خود سی بی یو کے لیے درخواستیں دی اور جہاں کسی اور کی فیڈریشن کی یونین تھی تو انہوں نے اور یونین رجسٹرڈ کرا لیں اور آئی آر او 1969 کے تحت ایک ادارے میں دس دس یونینیں بھی تھی آج بھی بے تہاشا فیڈریشنیں ہیں کافی جگہوں پرتو مرکزی یونینوں کی بجائے صوبائی یونینیں زیادہ میسر رہی ہیں مرکزی یونینوں میں تو الیکشن نا ممکن تھا البتہ ریفرینڈم شاز و نادار ہو جاتا تھا اب تو حالات بدل گئے ہیں این اے آر سی نے واپڈا کی تمام کمپنیوں کے بارے میں فیصلہ دیا کہ یہ صوبائی لیبر کورٹ کا معاملہ ہے اور تما م ہائی کورٹوں نے بھی فیصلہ کر دیا اور حال ہی میں بلوچستان ہائی کورٹ نے بھی واپڈا بنام عبدالستار میں فیصلہ دیا کہ عبدالستار کو لیبر کورٹ نے درست بحال کیا اور کیسکو کا اختیار لیبر کورٹ کو ہے اور میں نے خود عبدالستار کے کیس کی پیروی کی تو این آئی آر سی آئندہ ان کمپنیوں میں ریفرینڈم کیسے کرائے گی بد قسمتی سے بہت مشہور لیبر لیڈر جنہوں نے ملکی لیبر فیڈریشنیں بنائی تھی لاہور اور کراچی شہر سے ایک دن کے لیے بھی دوسرے صوبے نہیں گئے جبکہ صوبائی لیبر لیڈر دوسرے صوبوں کے دورے بھی کرتے رہے اور مزدوروں کے اتحاد بناتے رہیں جبتک نچلی سطع پر یعنی ضلع اور وصوبوں کی سطع پر مزدوروں کو منظم اور متحرک نہ کیا جائے گا لیبر تحریک مزید مشکلات کا شکار ہوگی اور آئی آر اے 2012 نہ صرف صوبائی خود مختاری سے متصادم ہے بلکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بھی خلاف ہے صوبائی فیڈریشنیں ملکی لیول پر کنفیڈریشن بنا سکتیں ہیں اور الائنس بنا سکتے ہیں اور بنائے بھی ہوئے ہیں تو مزدوروں کے اتحاد کو کیا نقصان ہو گا حالیہ دنوں میں کچھ مزدور دوست پارٹیوں اور لیبر پر ریسرچ کرنے والے ادارے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یونینوں کی بجائے لیبر کمیٹیاں بنائی جائے یہ تو اور ہی افسوس ناک سلسلہ ہے ۔

Check Also

بزنجو کی صد سالہ تقریبات ۔۔۔ شا ہ محمد مری

کتنا مزیدار خبط ہے اِس غلط العام بات کا باطل قرار دینا کہ : ’’ہم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *