Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » احمد شہریار

احمد شہریار

آنکھوں میں ایک باغ تھا، جانے کہاں گیا
دل میں کوئی چراغ تھا، جانے کہاں گیا!

ہر ذرہ کہہ رہا ہے: ابھی میرے ہاتھ میں
افلاک کا سراغ تھا، جانے کہاں گیا؟

میری طرح کا شخص تھا جس کے نصیب میں
میری طرح کا داغ تھا، جانے کہاں گیا

مصروفیت کے روز و شب و مہ و سال میں
اک لمحہِ فراغ تھا، جانے کہاں گیا

یہ پرسکون شخص خدا جانے کون ہے؟
اور وہ جو بد دماغ تھا، جانے کہاں گیا!

وہ داغ ، وہ چراغ، وہ باغ اور وہ بددماغ
اڑتا ہوا کلاغ تھا، جانے کہاں گیا

Check Also

ٹکڑیاں (چھوٹی نظمیں) ۔۔۔۔۔ تمثیل حفصہ

۔1۔کشتی جل جاؤ۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔۔ چاند کے پار۔۔۔۔ اک ندیا بہتے پانی کی۔۔۔۔ نیند کی لوری ...

One comment

  1. بہت عمدہ شاہکار ہے۔ کیا کہنے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *