Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔عمار اقبال

غزل ۔۔۔عمار اقبال

تین رنگوں سے مرے رنگ میں آئی ہوئی آگ
ہے مرے چاروں طرف اپنی لگائی ہوئی آگ

تو چراغوں پے جمی برف کا معبود چراغ
میں اسی برف کے معبد سے چرائی ہوئی آگ

ہیں عقیدت سے مرا راستہ تکتے ہوئے لوگ
اور عقیدت مرے قدموں میں بچھائی ہوئی آگ

لمس در لمس گھٹی روشنی تقسیم ہوئی
دیپ سے دیپ جلا اور پرائی ہوئی آگ

آگ میں صرف ہوئے میرے سنائے ہوئے شعر
تو تمھیں کیسی لگی میری لگائی ہوئی آگ

آ گئی آگ کی تصویر مرے کینوس تک
جل گیا دیکھ کے میں اپنی بنائی ہوئی آگ

آگ حشرات نگل جاتی ہے دیکھا تم نے
تم نے دیکھی کبھی حشرات کی کھائی ہوئی آگ؟

ہے الگ آگ جو سینے میں چھپائی ہوئی ہے
اور جدا ہے مری آنکھوں کی بہائی ہوئی آگ

 

Check Also

کھڑکی میں چاند ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

میں جس کمرے میں رہتی ہوں اس کمرے میں اک کھڑکی ہے گر رات کو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *