Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بلوچستان تاکیوبا(سفرکہانی) ۔۔۔۔ ڈاکٹرمحمدشیرکھوہ قیصرانی

بلوچستان تاکیوبا(سفرکہانی) ۔۔۔۔ ڈاکٹرمحمدشیرکھوہ قیصرانی

اللہ کے فضل وکرم سے ہم12مارچ 2007ء کو فیدل کاستروکے دیس کیوباکے صوبہ ماتن زاس ،شہرہاگوئے گرندے کے نواح میں مقام میکسیموسان تیاگوہٰذا،کے میڈیکل کالج میں پہنچ چکے تھے۔

ہوسٹل کی عمارت:۔
ہمارا پہلا تین سال کا عرصہ جن میں سے ایک سال ہسپانوی زبان سیکھنے اور دو سال طبی تعلیم حاصل کرنے میں صر ف ہوئے وہ صوبہ ماتن زاس (Matanzas)کے ایک شہرہاگوائے گراندے (Jaguey Grande) کے نواح میں گزرے ۔ یہ شاداب علاقہ شہر سے تقریباً تین کلو میٹر کے فاصلے پرتھا ۔اگر ہمیں کبھی شہر جاناپڑ تا توہم نے ٹیکسی ڈرائیوروں کے فون نمبرلکھ رکھے تھے انہیں بذریعہ فون بلا کر تین ڈالر میں شہر پہنچتے۔وہاں سے واپسی کے لیے بھی متعدد ٹیکسی دست یاب ہوتی تھیں۔لیکن یہ سفر مہنگا ہونے کے باعث، ہم نے متبادل کے طورپر ایک ٹرک نما بس کا بندوبست کر لیا تھا جو ہمیں سستے داموں روزانہ شہر چھوڑ آتی اور مقررہ وقت واپس ہاسٹل لے آتی ۔ ہاسٹل کاعلاقہ شہرسے دور ہونے کے باعث شورو غل سے محفوظ تھا۔یہ سر سبز و شاداب جگہ تھی۔ہمیں ہر کلومیڑ فا صلے کے بعد کسی دوسرے ملک کے طلبہ کا میڈیکل سکول نظر آتاتھا۔ہمارے ہاسٹل کی طرزِتعمیر و عمارت ایسی تھی جیسے دیگر ممالک کے طلبہ کو دی گئی تھیں۔
ایک روزہاسٹل کی چوتھی منزل سے گننے پر مجھے ایسی چوبیس دیگرعمارتیں دکھائی دیں۔ان عمارات میں: بولیویا، جمیکا، وینزویلا، میکسیکوایکواڈور، پیرو، یوراگائے، کولمبیا، ارجنٹینا، برازیل، چلی، جنوبی افریقہ اوردیگرممالک کے طلبہ زیرِتعلیم تھے۔تاہم ہمیں ہاسٹل کے قریب ہسپتال میسر نہ تھا جس کے سبب ہم نے دو بڑے احتجاج کیے جس کے نتیجے میں ہمیں کچھ نقصان اُٹھانا پڑا کہ ہمارے 15 طلبہ کوواپس پاکستان بھیج دیاگیا۔پھرہمیں صوبہ ویژاکلارامیں میڈیکل یونی ورسٹی سے منسلک ہسپتال دیاگیا جس کی بدولت ہماری میڈیکل تعلیم کا معیار مزید بہترہوا۔
صوبہ ماتن زاس کے شہر ہاگوائے گراندے کے نواح میں ہمارے میڈیکل سکول کا نام “Maximo Santiago Haza”تھا جو ایک انقلابی طالب علم کے نام پر قائم ہے۔ اس کا تعلق ہاگوائے گراندے سے تھااوروہ کیوبا کو آزاد کراتے انقلابی جنگ میں مارا گیا تھا۔ہمارے ہوسٹل بلاک کی طرزِ تعمیر ایسی تھی کہ اس کے درمیان میں ہمارے میس ہال کی عمارت تھی۔جس کے جنوبی جانب ہماری کلاسوں کی تین منزلہ عمارت تھی جب کہ میس ہال سے شمالی جانب چارمنزلہ ہاسٹل کی عمارت تھی۔ہمیں صبح ،دوپہر اور شام کومیس ہال میں کھانا مفت ملتاتھا۔ میس میں ہمارے کھانے سے قبل یا بعد میں ہمارے پروفیسر حضرات کا کھاناہوتا تھا۔

پروفیسروں کی رہائش گاہ: ۔
ہمارے پروفیسر حضرات شمالی عمارت کے مغربی کونے کے کمروں میں رہتے تھے ۔یہ تینوں عمارتیں ایک کھلی راہ داری (Corridor )کے ذریعے آپس میں منسلک تھیں۔

ڈی جے روم اور صبح کی اسمبلی:۔
میس ہال کے ساتھ،کمر�ۂڈین کے سامنے ،اطلاعاتی مرکزکاکمرہ تھاجسے ہم ڈی جے روم کہتے ۔جہاں بہ وقت صبح اسمبلی کے لیے ایک راگ بجایا جاتاجس کوسن کرسب طلبہ واساتذہ میس ہال کے سامنے اسمبلی گراؤنڈمیں جمع ہوجاتے۔ پھر پاکستان اور کیوبا کے قومی ترانے بجائے جاتے۔چناں چہ ہم صبح سویرے تیار ہو کراسمبلی گراونڈمیں پہنچتے۔آغازمیں عام لباس میں اوربعدمیں ڈاکٹری ایپرن کے ساتھ آتے۔ہر گروپ اپنی قطار میں کھڑا ہوتا ۔ ان کے ساتھ ان کا گائیڈ ٹیچر ہوتاجو مختلف اوقات میں پڑھائی سے لے کر ہا سٹل کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے تک ہماری مدد کرتا۔اسمبلی ختم ہونے کے بعدایک اورراگ بجایاجاتاجس کامطلب اسمبلی کااختتام اورکلاسوں میں جانے کاپیغام ہوتااورپھرہر گروپ قطارمیں اپنے اپنے کلاس روم میں چلاجاتا۔کمرہ ہائے جماعت میں پہنچ جانے کے بعدڈی جے روم سے ہی ویڈیوکلاسیں چلائی جاتیں اوریہ تعلیمی پروگرام ہرکلاس میں ٹیلی ویژن پردیکھااورسناجاتا۔ڈے جے روم سے ہی دن کو اوقات تفریح یعنی بریک اورپھردن کے کھانے کے آغازمیں بھی راگ بجایاجاتا۔شام کوعصرکی نمازکے بعدموسیقی چلائی جاتی جوعموماًعشاکی نمازتک جاری رہتی۔اس میں کیوبا،پاکستانی اوردیگرملکوں کے گانے سنائے جاتے۔نمازکے اوقات میں اسے بند کردیا جاتا تھا ۔امتحانات سے فراغت کے بعدعموماًکچھ طلبہ ڈی جے روم کے سامنے اکٹھے ہوکراپنی پسندکے نغمے اورگانے چلاکررقص بھی کرتے تھے۔خاص مواقع پرڈی جے رات دس بجے تک بھی موسیقی چلاتاتھا۔دس بجے کے بعدسونے کاوقت مقررتھااورڈی جے کوہدایت تھی کہ وہ اس کے بعدکوئی موسیقی نہ سنائے۔

کلاس روم:۔
صبح کی اسمبلی دس پندرہ منٹ کی ہوتی اورپھر سب گروپ اپنے گائیڈ کے ہم راہ کلاس میں چلے جاتے۔کلاس کے کمرے عمدہ تھے۔ہر دو طالب علم کے لیے ایک پینٹی ایم۔4کمپیوٹر موجود تھا۔ہمارے کل بارہ گروپ تھے اور ہر گروپ میں بیس سے پچیس طلبہ اور دوپروفیسر مع گائیڈ تھے۔طبی تعلیم کے دوران صرف دو پروفیسر ہی ہوتے تھے۔

طریقۂ تدریس:۔
ہر کلاس میں تختۂ سفید( White Board )اورمٹنے والے مارکر(Erasable Marker )موجودہوتے ۔اساتذہ مضامین کے اسباق سمجھاتے ۔ایک ٹیلی وژن کے ساتھ وی سی آر( VCR)بھی تھا۔اور کیسٹ کے ذریعے ہمیں سمعی و بصری طریقے سے پڑھایا جاتا ۔ڈی جے روم سے ٹی وی پر بارہ گروپوں کی کلاسوں میں کانفرنس( Conference) لیکچر ہوتااور ہر ہفتے کے اختتام پر پڑھے ہوئے اسباق کاکلاس ٹیسٹ لیا جاتا۔اس کانفرنس لیکچر کو عمدہ انداز میں ساٹھ تا ایک سو تیس پاورپوائنٹ سلائیڈوں کی صورت میں تیار کیا جاتا۔ ہر ہفتے کا ذمیہ کام ،پورے سمسٹرکاسلیبس یعنی پڑھائے جانے والے مضامین ، ان کے موضوعات،مقاصد، Students Learning Outcomesاورامتحان کی تیاری کا تما م مواد ایک سافٹ ویئرپروگرام سٹوڈنٹ سی ڈی(CD de Estudiantes)میں موجود ہوتا۔بلکہ ریسریچ آرٹیکل اور دیگر متعلقہ مضامین بھی اس میں موجود ہوتے جن کو پڑھ کر ایک عام طالب علم جدید طبی تعلیم سے روشناس ہوتا اوراُسے کسی سینئر( Senior) طالب علم کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔اس پروگرام تک ہرطالب علم کی رسائی ہوتی۔سی ڈی میں موجود مشقیں حل کرنے سے نصاب پر عبور اور بھی پختہ ہوجاتا ۔ہمیں اگر کوئی بات سمجھ نہ آتی تو اساتذہ سے پو چھنے میں بھی کوئی دقت نہ تھی۔دوران تعلیم ہم اساتذہ سے اس طرح مخاطب ہوتے جیسے وہ ہمارے بڑے بھائی اور بہن ہوں ۔وہ کوئی بھی سوال سمجھائے بغیر نہ چھوڑتے۔اگر کوئی انتہائی مشکل سوال ہوتا توپھرسینئر پروفیسروں سے پوچھنے کے لیے بھیج دیتے۔ ایسے سینئر پروفیسر راہ چلتے بھی ہمارے سوالات کافوراًجواب دیتے ،کوئی رکاوٹ نہ ڈالتے۔حتیٰ کہ ڈین سے بھی سوالات پوچھنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔ دن کوبارہ بجے چھٹی ہو جاتی ۔تاہم اگر بعد میں کلاسیں ہوتیں توپھر وہ کھانے کے بعدچاربجے تک جاری رہتیں۔ اس کے بعد کوئی پڑھنا چاہتاتو پڑھتا۔ جو شہر کی سیر کو جانا چاہتا، چلا جاتا۔جو کھیلنا چاہتا ،کھیلتا۔جو سونا چاہتا ،سوتا اورجو ٹی وی پر پروگرام دیکھنا چاہتا تو پروگرام دیکھتا۔تاہم بہت سے طلبہ کلاس میں بیٹھ کر بہ ذریعہ کمپیوٹر اپنے والدین کو E. mailلکھتے ۔کچھ طالبات دیر تک اپنے گھروالوں کوبرقی خط لکھتی رہتیں جو شاید دن بھر کی روداد لکھتیں۔ ہم روزمرہ امتحان کی تیاری کرتے اور پھر سو جاتے ۔

ہوسٹل میں انٹر نیٹ اورای میل:۔
ہوسٹل میں انٹر نیٹ کی سہولت فراہم کر دی گئی تھی جس پر صرف شعبۂ طب کی ویب سائیٹ کھولی جا سکتی تھی۔ یہاں طلبہ جس قسم کی یونی ورسٹی میں پڑھتے ہیں اسی قسم کی ویب سائیٹ مہیا کی جاتی ہیں ،جیسے میڈیکل یو نی ورسٹی میں دنیا کی اکثر میڈیکل ویب سائیٹوں کوملاحظہ کیا جا سکتا تھا۔ ہو سٹل میں فراہم کردہ انٹرنیٹ پرمیڈیکل ویب سائیٹ کے علاوہ کوئی دوسری ویب سائیٹ کھولنا ممکن نہ تھا ۔کیوں کہ کمپیوٹروں کوکنٹرول کرنے والے Main Server سے Passwordلگا دیاگیا تھا۔گویا کیوبا میں طالب علموں کو اپنے خاص شعبہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور اسی سمت میں ہی رہ نمائی کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے اصل مقاصدسے ہٹ نہ جا ئیں اورمیڈیکل دنیا کی ریسرچ ،کتابیات،حوالہ جات ،حواشی اور حالات حاضرہ سے آگاہ رہیں۔ہمیں ای میل کے لیے مین سرورپر جا کر ای میل پتا بنوانا ہوتا تاکہ یونی ورسٹی کی طرف سے بہ وقت ضرورت ای میل استعمال کرنے کی اجازت ہو۔یعنی دوپہربارہ بجے سے رات تک ای میل استعمال کرنے کی اجازت تھی۔دوران کلاس اجازت نہ تھی ۔پاکستانی طلبہ دوران کلاس بھی اپنی ای میل چیک کرلیتے بل کہ کئی توای میل لکھ کر بھیج بھی دیتے۔ای میل پتا:ہر غیر ملکی طالب علم کاشعبہ، ،علاقہ اور یونی ورسٹی وغیرہ کو ظاہر کرتا ہے جیسے کہ میراای میل پتاتھا:muhammadsherkhoh@ucmex.vcl.sld.cu اس طرح:muhammad sher khanمیرا نام ہے۔ucmسے مراد:سنٹرل میڈیکل یونی ورسٹی( universided central de medicina)ہے۔exسے مراد: extranjeroیعنیforeignerہے۔vclسے مراد:صوبہ ویژاکلاراVilla claraہے۔sldسے مراد:salud یعنی شعبہ صحت ہے۔جب کہ cuسے مراد: کیوبا ملک ہے۔گویامیرے ای میل پتامیں میرانام ،میری یو نی و رسٹی ،میرا غیر ملکی ہونا ،میرے صوبے کا نام،میرے شعبہ اور ملک کانام مخفف درج تھاجوکسی ملک کا، انتظامی لحاظ سے، ایک اہم طریقہ کارکوواضح کرتاہے ۔

(Universidad para todos)ٹی وی چینل، تعلیم سب کے لیے۔
کیوبا میں چلائے جانے والے چار پانچ ٹی وی چینل میں سے ایک چینل کا نام “Universidad para todos”یعنی (University for all)تھا جس میں شب و روز ایسے پروگرام دکھائے جاتے جن کے ذریعے بچوں اور بڑوں کو علمی، ادبی، سماجی ،معاشرتی ،مذہبی ،تہذیبی اور دیگر مسائل سے آگاہی اور اصلاح کی جاتی۔ محققین اور سائنس دانوں کی نئی تحقیقی کاوشوں کو بہ ذریعہ لیکچر پیش کیا جاتا ۔اگر کوئی دس منٹ کے لیے بھی وہ چینل چلائے توسامع کے علم میں کسی نئی بات کا اضافہ ضرور ہو تاتھا۔

ہسپانوی ڈرامہ:۔
ہم رات کو کھانے کے بعد کبھی کبھی ٹی وی پر ہسپانوی ڈرامے یا ہسپانوی پروگرام دیکھ لیا کرتے۔پہلے پہل کم سمجھ پاتے لیکن بعد میں زبان پر عبور کے بعد محسوس نہ ہوتا کہ یہ کوئی مشکل زبان بولی جارہی ہے۔ہسپانوی ڈرامے عموماًلاطینی امریکی ممالک کے دکھائے جاتے جس میں ارجنٹینااورکولمبیاکے ڈرامے زیادہ ہوتے۔یہ روزمرہ گذران اورگھریلومسائل پرمبنی ہوتے تھے۔

کیوبا میں وینزویلاکاٹی وی چینل:۔
کیوبا میں وینزویلاکا ایک ٹی وی چینل چلایا جاتاجس سے بین الاقوامی خبریں پیش کی جاتیں ۔دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی اہم رونما ہوتا تواس کاتذکرہ ان خبروں میں موجودہوتا۔ پاکستان ،افغانستان ،عراق،امریکہ اور دیگر ممالک کی صورت حال ہم پر انہی خبروں سے واضح رہتی۔ پاکستان کے کسی بھی چینل میں اس طرح قوم کو جگانے اور با خبر رکھنے کی جامع خبریں نہیں دی جاتیں۔جہاں ان کودیکھنے پر ڈرامے یا نام نہاد سیاسی رہنماؤں کے بے فیض بیانات کی بھر مار اور ہلڑ بازی ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Check Also

اَمن۔۔۔پروفیسر نبیلہ کیانی

بہت سال بیتے ہمارے گھر میں ایک رسالہ چین با تصویر کے نام سے آیا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *