Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » چھوٹی سی کہانی ۔۔۔ آمنہ ابڑو

چھوٹی سی کہانی ۔۔۔ آمنہ ابڑو

جْوس کے اسٹال پر پہنچ کر کافی دیر تک وہ بڑی بڑی کالی کار پارکنگ ڈھونڈتی رہی۔
بھیِڑ اتنی تھی کہ لگا جیسے اْس گاڑی کو پارکنگ نہیں ملے گی اور اسے واپس جانا پڑے گا۔ لیکن معجزاتی طور پر سامنے پارکنگ لاج میں سے ایک گاڑی باہر نکلتے ہوئے نظر آئی۔ اور اس بڑی کالی گاڑی کو رْکنے کی جگہ ملنے کا آسرا ہوا۔ بلآخر آھستہ آھستہ تنگ سی پارکنگ میں اْس گاڑی کو جگہ مل گئی۔
سامنے فْٹ پاتھ پر سے دو ننھے بچے اْجلت میں اْٹھ کر کار کی طرف دوڑے، اور دوڑتے دوڑتے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو کچھ سمجھایا جیسے دشمن پر حملہ آور ہونے سے پہلے اپنے اپنے مورچے کا فیصلہ کْن تعین کیا ہو۔
لڑکی نے کار کو دائیں طرف سے اور لڑکے نے بائیں جانب سے گھیر لیا تھا۔
سامنے ڈرائیونگ سیِٹ پر ڈرائیور ایک روبوٹ کی طرح بے تاثر چہرہ لئے پیٹھ سیدھی کئے بیٹھا ہوا تھا اور اس کے پاس والی سیٹ خالی تھی۔
ڈرائیور کے چہرے پر کرخت بیگانگی دیکھ کر دونوں بچوں کے چہرے پر لمحے بھر کے لئے مایوسی اور ناکامی کی لہر د?وڑ گئی۔ “ڈرائیور بلکل کھڑوس مرچوس ہوتے ہیں۔۔ایک دھیلا نہیں دیتے۔” لڑکی کو بھائی کی کہی بات یاد آتی ہے اور وہ پل بھر میں ہی سوچتی ہے، “نا نا ایک مرتبہ ایک ڈریور نے کیسے مجھے پورے کے پورے سات روپے دیئے تھے، وہ تو نا تھا کھڑوس وڑْوس۔۔ کھڑوس مرچوس تو مائی ہے۔۔۔سب پئسے چھین لئے تھے۔” اْس کے خیالوں کے ریلے میں اْس کی ماں کا وجود ابھرتے ہی ڈوب گیا۔ اس کے سیکھتے کانوں نے بھائی کی صدا لگاتی آواز کو جھڑپ لیا تھا۔ “اے بھائی، اے چھوٹے صاب، او ماں جی، او میڈم صرف دس روپے دے دو۔۔روٹی کھانی ہے” لڑکی نے بھائی کو ایک ہی وقت میں آسمان کی طرف دیکھتے، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے دس کی گنتی بتاتے اور منہہ اور پیٹ کی طرف اشارا کرتے دیکھا اور اْس کی آنکھوں میں بھائی کی مہارت کے لئے ایک ستائشی چمک بجلی کی طرح کوند گئی اور اس نے ایک متجسس اور پرامید نگاھ گاڑی کے اندر پچھلی سیٹ کی طرف بچھا دی۔
گاڑی کے اندر بھی تقریباً اْنہی کی عمروں کے دو بچے بیٹھے تھے۔
“او میڈم، او چھوٹے صاب اوپر والے مالک کے نام پر صرف دس روپے۔۔۔روٹی کھائیں گے” دونوں بچوں نے ر?ٹے ہوئے گیت کی طرح ایک ہی سْر تال میں اور ایک ہی ل?ے پر مل کر گانا شروع کر دیا۔
گاڑی میں اندر بیٹھے بچوں نے حیرت اور دْکھ کے ساتھ باری باری مانگنے والے بچوں کی طرف دیکھا اور اپنے ساتھ بیٹھی عورت کی طرف دیکھ کر اْسے کچھ کہا۔ عورت نے بات سنتے سنتے آنکھوں پر سے بڑا سا کالا چشمہ ہٹایا اور ایک طائرانہ سی نگاہ باہر کھڑے بچوں پر ڈال دی۔ اْس کی خاموش اور سپاٹ نظر کو دیکھ کر باہر کھڑے بچے کوئی اندازہ نہیں لگا پاتے کہ انہیں کچھ ملے گا بھی یا نہیں۔
عورت اپنے بچوں کو کچ?ہ کہتے ہوئے اپنی چمکتی زنجیر والی پرس کھول کر کچھ ڈھونڈھ کر ایک چھوٹا سا بٹوا نکالا اور کھول کر دیکھا۔۔۔۔بٹوے میں سے دو سو کے نوٹ نکال کر اپنے ساتھ بیٹھے بچوں کو دکھائے اور باہر کھڑے بچوں کے دل کچھ لمحوں کے لئے دھڑ دھڑ کر کے تیز تیز دھڑکنے لگے۔ وہ پرس بند کر کے کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ باہر کھڑے بچوں کی آنکھوں میں مایوسی اور ناامیدی کا اندھیرا اْتر آیا۔ عورت گاڑی میں بیٹھے بچوں کے ساتھ پھر کوئی بات کرنے لگی جیسے انہیں کچھ سمجھانے یا منوانے کی گوشش کر رہی ہو۔ اندر بیٹھے بچوں نے اداس نظروں سے پہلے اپنی ماں اور پھر باہر کھڑے بچوں کو دیکھا۔
باہر کھڑے بچوں میں سے لڑکے کی آنکھوں میں امید و ناامیدی کی لڑائی چھڑ گئی تھی، جب کہ لڑکی کے چہرے پر اب بھی نرم نرم پرسکونیت نظر آرہی تھی۔ اْسے گاڑی میں بیٹھی عورت کی آنکھوں پر ٹِکی بڑی کالی عینک، اس کے شانوں پر پڑ ے کْھلے بال اور ہونٹوں پر لگی ہلکی گْلابی لپ اسٹک بہت موہ رہی تھی۔ اور “اور۔۔وہ دونوں بچے بھی کتنے اچھے ہیں۔۔” اْس نے سوچا اور ایک شرمیلی سی مسکراہٹ اس کے پورے سراپا پر پھیل گئی۔
لڑکے نے گاڑی کے اندر جھانکا، وہ اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ اْسے یہاں سے کچھ ملے گا بھی یا نہیں۔ اس نے دو انگلیوں کو موڑ کر گاڑی کے چڑھے ہوئے شیشے کو ہلکا سا کھٹکھٹایا۔ اندر بیٹھے دونوں بچوں نے بیچینی نے اسے دیکھا اور نظریں ماں پر مرکوز کردیں۔ شاید اْنہیں بھی پتہ نہیں کہ ان کی ماں کیا کرے گی، وہ کچھ قدر بے آرام سے ہوگئے تھے۔
جوس کا آرڈر لینے والا لڑکا آرڈر لینے کے لئے ڈرائیور کے کے پاس چلا گیا تھا جسے ڈرائیور نے ہاتھ کے اشارے سے پیچھے بھیج دیا۔ اور کسی بٹن کو دباتے عورت کی طرف سے کھڑکی کے شیشے کو نیچے سِرکا دیا۔ عورت نے فیصلہ کْن انداز میں پرس سے پیسے نکالے اور سو سو کا ایک ایک نوٹ دونوں بچوں کے ہاتھوں میں تھما کر پھر سے لاتعلق بن گئی۔
سو سو کا نوٹ اپنے ہاتھوں میں پکڑے گاڑی کے اندر بیٹھے دونوں بچوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کوئی فیصلہ کر کے جوس والے کو جوس کا آرڈر دے دیا۔
باہر کھڑے بچے اب کسی حد تک پرسکون خاموشی کے ساتھ اندر بیٹھے بچوں کو دیکھنے لگے۔ اب انہیں جوس کے آنے، جوس کے ختم ہونے اور باقی بچے ہوئے پئسوں کے واپس آنے کا انتظار کرنا ہے۔
جوس کے اسٹال پر کام کرنے والا لڑکا لال رنگ کے جوس سے لبالب بھرے ہوئے دو بڑے گلاس لے کر عورت کی طرف والی کھڑکی کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔ ماں نے دونوں بچوں سے پئسے لے کر جوس لانے والے کو دیتے ہوئے گلاس لے کر ایک ایک کر کے اپنے بچوں کی طرف بڑھا دیئے۔
ماحول پر ایک بار پھر سکون اور خاموشی چھا جاتی ہے۔
کچھ لمحے گذرنے کے بعد عورت نے اپنے بچوں کی طرف دیکھا، گلاس نصف سے زیادہ خالی ہو چکے تھے۔ اس نے ڈرائیور کو کچھ کہا۔ ڈرائیور نے کسی روبوٹ کی طرح ہارن پر ہلکے سے اپنا ہاتھ رکھ کر جوس والے کو بلایا۔ لڑکے نے گلاس واپس لیتے ہوئے باقی بچے پیسے واپس دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو عورت کے بجائے اندر بیٹھے بچوں نے اس سے پیسے لے لئے۔
اب باہر کھڑے بچوں کا پورا وجود متحرک ہو گیا۔ اب وہ دونوں گاڑی کے ایک ہی طرف کھڑے ہوکر پھر سے ایک ہی سْر میں دس روپے کا الاپ کرنے لگے۔ گاڑی میں بیٹھے بچوں میں سے چھوٹے بچے نے آنکھ کے ایک ہلکے سے اشارے سے باہر کھڑی چھوٹی لڑکی سے بچا ہوا جوس پینے کے لئے پوچھا، جواب میں لڑکی نے منہہ میں بھر آئے پانی کو نگلتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ کھڑکی کا شیشہ خود کار انداز میں نیچے سرکا اور چھوٹے بچے نے اپنا جوس کا گلاس اور بیس روپے لڑکی کے ہاتھ میں تھما دئے۔ بڑے بچے نے بھی ویسا ہی کیا۔
اسٹال والا لڑکا ہلکا سا غرا کر مانگنے والے بچوں کی طرف لپکا لیکن عورت کی سخت اور تنبیہی نگاہ نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔۔۔۔۔۔
گاڑی چلنا شروع ہو چکی تھی۔ گاڑی کے اندر اور گاڑی کے باہر۔۔ سب بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور اطمینان جھلک رہا تھا۔ اندر بیٹھے بچوں نے مانو جیسے خوشی بانٹی تھی اور باہر کھڑے بچوں نے آج خوشی کو چکھ لیا تھا۔۔۔زندگی کو چکھ لیا تھا۔
عورت کے چہرے پر سْکھ، سْکون اور اطمینان کے احساس عیاں تھے۔ اس نے اپنے بچوں کے من میں مل بانٹ کر خوش ہو کر جینے کا جذبا بویا تھا۔ اور اب اْس نے غیریت، بییقینی اور بیگانگی کی تپش سے بھرے زمانے میں چھاؤں دینے والے وجودوں کے لمبے گھنے تناور پیڑ بننے کی آس میں اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔

Check Also

سمندر کے نام ایک غنائیہ ۔۔۔ سبین علی

میرے اردگرد بے شمار لوگ ہیولوں کی مانند رواں ہیں۔ مگر ان کے سر نظروں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *