Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ بارکوال میاخیل

غزل  ۔۔۔ بارکوال میاخیل

دھول ہے اور زندگی تک راستہ پْرخار ہے
اس لئے اس سے نبھانا عشق بھی دشوار ہے
کیا عجب، بے خوف ہم خوابوں کی وادی میں ملیں
کون سی جنت ہے یہ جو بے در و دیوار ہے
دل میں سڑ جائیں گے بکنا ہے تو بس نہ صبر کر
آ چلیں اب حسرتوں کا گرم ہی بازار ہے
لٹ گئے جب روشنی میں گھر کی چیخیں نا سنیں
اب سرِ کوچہ جو واویلا کریں بے کار ہے
بولتا جب ہے مقرر کرتا ہے قدرِ سکوں
درد کی اپنی زباں اپنا الگ اظہار ہے
میں تو شورِ موج سے ہی سیکھتا ہوں زندگی
میں نے خاموشی کے مکتب سے کیا انکار ہے
بندگی نے روح کی آنگن کو ویراں کر دیا
کون جانے یہ گھڑی ماتم ہے یا تہوار ہے
اب بھی بارکوال! زندہ ہے غرورِ نرگسی
مدتوں سے خود میں بے چارہ پڑا بیمار ہے

Check Also

کورا کاغذ! ۔۔۔  امداد حسینی

(“آصف فرخی“ کے لیے)   وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *