Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » بلا عنوان ۔۔۔ آمنہ ابڑو

بلا عنوان ۔۔۔ آمنہ ابڑو

“مما، لگتا ہے آج بھی ماسی نہیں آئے گی۔۔۔۔” فضا، میری بڑی بیٹی سخت بیزاری کے عالم میں بڑبڑاتی میرے کمرے میں داخل ہوئی، اس کے ہاتھوں میں پکڑے ٹرے میں قہوے کا کپ دیکھ کر میں پیار سے مسکرا دی۔ “تھینک یو فجنی”۔۔۔۔
“مما” قہوے کے گرم کپ کو مجھ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے کرتے اْس نے اپنا ایک بازو میرے گلے میں ڈال دیا۔ اور میرے چار اطراف بکھرے کاغذات اور فائلز کو ایک طرف سرکا کر قہوے کی ٹرے کے لئے جگہ بنائی۔
“مما، پارسا ماسی کی کوئی خیر خبر تو پوچھئے کسی سے، کہیں بچاری بیمار ہی نہ پڑ گئی ہوں ” ۔فضا کے لہجے میں ہمدردی کے ساتھ پریشانی بھی تھی۔
گذشتہ آٹھ دنوں سے میرے گھریلو کام کاج میں مدد کرنے والی میری پرانی مددگار پارسا نہیں آ رہی تھی۔ اور میری دونوں بیٹیاں گھر کا کام کر کر کے اور آپس میں لڑ لڑ کے تھک چکی تھیں۔
فضا پارسا کے بارے میں شاید مزید کچھ کہنے والی تھی جب بیرونی گیٹ کھلنے کی مخصوص آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
وہ میرے کمرے سے باہر چلی گئی اور تھوڑی دیر میں ہی مجھے اْس کی آواز سنائی دی۔ “ماسی آپ اتنے دن کہاں تھیں، طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی، آپ اتنی کمزور کیوں لگ رہی ہیں، ارے یہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟؟؟ ” یہ فضا کی بچپن کی عادت ہے، جب سوال پوچھنے پہ آتی ہے تو خود سانس لیتی نہ سامنے والے کو سانس لینے دیتی۔
میں لکھنے کا کام چھوڑ کر کمرے سے باہر آگئی۔ سامنے پارسا لِوِنگ روم کے دروازے کے قریب رکھی کرسی میں تھکی ، بیسْدھ سی دھنسی ہوئی تھی۔ اور خوشی، میری چھوٹی بیٹی پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے آنکھوں میں ہمدردی سمیٹے پارسا کو تکے جا رہی تھی۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی پارسا نے اٹھ کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن کسی تکلیف کی وجہ سے جلدی اْٹھ نہیں پائی۔ اْس کو بیٹھے رہنے کا اشارہ کرتی میں جلدی جلدی اُس کے قریب چلی آئی۔
“خیر تو ہے، یہ ہو کیا گیا ہے تمہیں، کسی سے لڑائی ہو گئی کیا، یہ سر پے چوٹ کیسی۔۔؟؟؟ ” میں نے بھی فضا ہی کی طرح اْس پر سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔
“ہائے ہائے مڈم۔۔ یہ تو قسمت کی چوٹیں ہیں” وہ شروع سے ہی مجھے مڈم (میڈم) کہتی ہے، بہت کہا تھا میں نے کہ مجھے ادی کہہ کے بلاؤ۔ آپا کہو، چاہو تو میرا نام لے کر بلاؤ لیکن نہیں مانی، کہنے لگی سبھی تمہیں مڈم بلاتے ہیں، میں بھی مڈم ہی بلاؤں گی۔
“تمہارے گھر میں تو سب ٹھیک ہے نا پارسا۔۔؟” تھوڑا ٹھہر کے میں نے پھر پوچھا۔
“میری لڑکی حْسنہ نکل گئی مڈم”۔ وحشت اْس کی سہمی آنکھوں سے جھانک رہی تھی۔ اْس نے ابھی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پانی کا گلاس پیا تھا لیکن پھر بھی اْس کے ہونٹ سوکھے پڑ رہے تھے۔
“حسنہ کی منگنی کروائی تھی نا تم نے” میں کچھ یاد کرتے پوچھتی ہوں۔ “ہاں، بھانجے کے ساتھ منگنی کروائی تھی چھوری کی،
مرتے دم بہن نے بیٹے کا ہاتھ تھمایا تھا۔۔۔کیسے نہ مانتی مرتی ہوئی بہن کا کہنا مڈم؟ ” تھوک نگل کر حلق کو گیلا کرتے بولی “منگیتر کے ساتھ نکلی ہے نبھاگی ”
“پھر۔۔۔” مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس سے آگے کیا پوچھوں۔
“میرے مْڑس اور جیٹھ نے بہت مارا ہے مجھے، کہتے ہیں چھنال اپنی لڑکی کو تْو نے ہی بھگایا ہے۔ مائی، میرے تو ملائکوں کو بھی نہیں پتہ کہ چھوری کہاں گئی ”
“لیکن۔۔۔ جب منگیتر تھا تو اْس کے ساتھ بھاگنے کی کیا ضرورت؟” میں نے الجھن میں پڑی پڑی سوال کیا۔۔
وہ اْٹھ کر باورچیخانے کی طرف جانے لگی ، “کام کو رہنے دو پارسا، آج تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، لڑکیاں خود ہی کچھ کر لیں گی۔” میں نے اْسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے اپنی دونوں بیٹیوں کی طرف دیکھا۔ “ہاں ماسی آپ رہنے دیجئے، ٹھیک ہو جائیے پھر کام بھی کرتی رہنا” دونوں نے ایک ہی سْر میں حامی بھر لی۔
“ارے نہیں میری بچیو میں صدقے، بس تھوڑا بہت کام کر ہی لوں گی” کچن کی طرف جاتے، دوپٹے کے پلو سے آنکھوں کے بھیگے کونوں کو پونچتے ہوئے پارسا بولی اور برتن دھونے میں جْت گئی۔
مجھے بھی ایک رپورٹ پر کام جلدی پورا کرنا تھا سو میں بھی اپنے کمرے میں آ کے پھر سے کاغذوں کے ڈھیر میں دھنس گئی۔
دونوں لڑکیاں بھی اپنے کمرے میں جا چکی تھیں۔
مجھے اچانک کچھ یاد آیا، “خوشی، بیٹا ڈیٹا سرچ کر لی تم نے؟”۔ میری قریب کی نظر کم ہوتی جا رہی ہے سو میں اکثر انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنے کے لئے خوشی کی مدد لیتی ہوں۔
“آتی ہوں مما۔۔” ادھر سے خوشی کی آواز آئی۔
آجکل میں ایک سٹڈی پر کام کر رہی ہوں ، مجھے ماضی قریب میں عورتوں پر مختلف طریقوں سے کئے گئے تشدد اور عورتوں کے قتل کے اعداد و شمار جمع کرکے لکھنے ہیں۔ آج چْھٹی ہونے کا فائدہ اٹھا کر میں نے وہ کام خوشی کے حوالے کیا تھا۔
“صرف گذشتہ برس میں ہمارے ملک میں سولہ سوعورتیں عزت کے نام پر قتل کی گئی ہیں، جن میں دو سو ہمارے خطے میں قتل کی گئیں” میرے کمرے تک پہنچتے ہی وہ درد اور تشویش کے ساتھ مجھے بتاتی ہے۔ خوشی کی آواز شاید پارسا کے کانوں تک بھی جا پہنچی تھی تبھی تو وہ اپنے گیلے ہاتھ اپنے دوپٹے سے پونچتی میرے کمرے تک چلی آئی تھی۔
“خوشی بٹیا، کیا کہہ رہی تھی تم ابھی ابھی، عورتیں قتل ہوئی ہیں، کیوں؟؟؟”
“ہاں ماسی، سولہ سو۔۔ پورے پاکستان میں، اور ان میں سے دو سو ہمارے سندھ میں” ۔پارسا کے ماتھے پر ایک شکن سی نمودار ہوئی۔
“عزت کے نام پر۔۔۔ یعنی کاری کر کے۔۔؟” پارسا کی آواز دور خلاؤں سے آتی سنائی دی، اْس کے چہرے کا رنگ کسی خطرے کو محسوس کر کے خوف کے مارے سیاہ پڑ گیا۔”اوپر والا غارت کرے اْن ظالموں کو، عزت کے نام پر ہمیں بے عزت کرنے والے موئے جانور۔۔ ”
خوشی نے پھر سے بولنا شروع کر دیا “مما،اب تک کی ڈیٹا کے مطابق رواں سال کے فقط چار مہینوں میں اٹھائیس عورتیں۔۔۔مطلب اٹھائیس عورتیں اپریل دو ہزار چودہ تک ماری جا چکی ہیں” خوشی ڈائری میرے سامنے رکھ کے آنسوؤں سے چھلکتی آنکھوں کے ساتھ کمرے سے باہر چلی گئی۔
پارسا کسی گہری سوچ میں اْلجھی، گم سم بیدلی سے ادھر سے اْدھر کام میں مصروف نظر آتی ہے۔ میں نے اسے اپنے پاس بلایا “پارسا ادھر آؤ اور فضا کو بھی بلاؤ”۔
فضا کو میں نے اپنے اور پارسا کے لئے دو کپ چائے بنانے کو کہا، پارسا کسی سوچ میں گم تھی۔ فضا کو باہر جاتا دیکھ، اس نے کہا “مڈم، مجھے گھر سے باہر پاؤں نکالنے نہیں دیتے تھے مروان، میرا اپنا پیٹ کا جنا، میرا اپنا بیٹا بھی انھی کے ساتھ مل کر ایک ہوا ہے۔۔ سچ کہتے ہیں مرد کا کیا اِتبار (اعتبار)، چاہے وہ باپ ہو یا بیٹا۔۔”
تھوڑا ٹھہر کے ایک گہری سانس لے کر بولی “پیسے کم پڑ گئے ہیں مردودوں کے۔ کہا، جاؤ پگھار لے کے آؤ تاکہ پھر سے حسنی کے شکار پر نکل سکیں”
“تو۔۔۔کتنے دوں۔۔؟” میں نے پوچھا۔
اْس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی نہریں بہہ بہہ کر جیسے اسے ڈبونے لگیں تھیں۔
“میرا تو کلیجہ پھٹا جارہا ہے۔ میرا بس چلے ایک دھیلا نہ دوں۔ اپنی کمائی سے کیسے اپنی بچی کا گلا کٹواؤں؟” سسک پڑی۔۔سسکتے ہوئے کہنے لگی “پر جو اگر میں خالی خولی ہاتھ گھر گئی تو مجھ بڈھی کی ہڈی پسلی توڑ کے رکھ دیں گے قہاری، بس کوئی ہزار سوا دے دو مڈم” آنسو اْس کی آنکھوں سے ساون کی جھڑی کی طرح رواں تھے۔ “میرا چھورا رموْ کہتا ہے پوپھی کی بیٹی بیاہوں گا، پوپھی وٹے سٹے سے کم پہ مانتی نہیں۔ چھورے کا دماخ (دماغ) اْلٹا ہے، کہتا ہے بہن میری ہے جہاں چاہے اس کا رشتہ کروں، منگنی ونگنی کچھ نہیں ہوتی۔۔ پتہ تو تب چلا جب حسنی نکل گئی”
میں نے اْسے دو ہزار روپے دیئے، پیسے لیتے ہوئے اْس کے ہونٹوں سے ایک سرد آہ نکل گئی۔ دبے ہونٹوں سے آہستہ سے بڑبڑانے کی آواز آئی “میرا مالک سائیں تیرا مددگار ہو حسنی، میری دِھی ، میری بچی”۔ اور پھر کچھ سوچ کر اس نے پانچ سو روپے واپس کر دیئے “شل پئسے کم پڑ جائیں، شل حسنی نہ ملے ظالموں کو”
میں جیسے خاموشی میں لپٹی ہوئی ہوں، سمجھ نہیں آتا کیا کہوں۔
“چلتی ہوں مڈم، بس دعا کرنا سب خیر ہو، پتا نہیں کیا ہو گا، دو چار دن شاید نہ آ سکوں” سر پے دوپٹے کو جماتے ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی طرف بڑھتی گئی۔ خوشی کسی کام سے اندر چلی آئی تھی، خوشی کی ٹھوڑی کو انگلیوں سے چھوْ کر کہنے لگی “بٹیا رانی دعا کرنا کہ یہ جو اٹھائیس ہیں وہ اٹھائیس ہی رہیں شل اْنتیس نہ ہو جائیں۔”
دوپٹے کے ایک کونے میں کانپتے ہاتھوں سے پیسے باندھہ کر مردہ قدموں سے گھر سے باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔
میرے گھروالے کو ہیڈ آفس کی طرف سے پندرہ بیس دنوں کے لئے اسلام آباد بلایا گیا تو وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
تقریباً تین ہفتے کیسے گذر کئے پتہ ہی نہیں چلا، واپسی پر گھر کی حالت بدتر تھی، ہر طرف ہر چیز پر مٹی اور دھول کی تہہ جم گئی تھی۔ میں اور میری دونوں بیٹیاں الجھی الجھی پریشان گھر کو دیکھ رہی تھیں کہ صاف صفائی کا کام کہاں سے شروع کریں جب بیرونی دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
ہم تینوں کی منتظر نگاہیں دروازے کی طرف اْٹھ گئیں۔
وہ پارسا ہی تھی، دو تین ھفتوں میں وہ ادھیڑ عمر کی عورت ایک بوڑھی عورت میں تبدیل ہو چکی تھی۔ روندا ہوا چہرا، اندر کو دھنسی آنکھیں،بوجھل قدم۔۔۔ تھکا تھکا سا وجود۔۔۔ آتے ہی دروازے کے قریب رکھی اپنی مخصوص کرسی میں ڈھے گئی۔ میں اس کے قریب آکر صوفا کے ایک کونے پر بیٹھ گئی۔
“پارسا، حسنہ کی کوئی خیر خبر، خوش تو ہے نا وہ؟؟؟” اس نے صحرا جیسی سْوکھی آنکھیں اْٹھا کے میری طرف ایک لمحے کے لئے دیکھا۔ اور اپنی نگاہیں زمین میں گاڑ دیں۔
“مڈم، اپنی رپوٹ (رپورٹ) میں لکھ دینا۔۔۔ سندھ میں کاریوں کی تعداد اٹھائیس سے بڑھ کے اْنتیس ہو گئی ہے۔”
سسکیاں پارس کے وجود میں گھْٹ کے رہ جاتی ہیں۔ اپنا آپ سنبھال کر وہ اْٹھ کر زور زور سے دروازے اور کھڑکیاں جھاڑنے لگتی ہے۔

Check Also

کونج ۔۔۔ مصباح نوید

چیری کے شگوفوں جیسے لب ادھ کھلے، چمکیلی آنکھوں سے جن میں جیسے کانچ کوٹ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *