Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظمیہ ۔۔۔ ادا جعفری

نظمیہ ۔۔۔ ادا جعفری

ستارہ زاد آنکھیں
تم نے نہیں دیکھیں
تم نے نہیں پڑھیں
کنگن کے حلقوں کی تحریریں
اُڑتے ہوئے رنگوں
اور دم توڑتی ہوئی
خوشبو کی آواز بھی نہیں سنی
وہ کہہ رہی تھی
یا شاید صرف سوچ رہی تھی
ریشمیں ساڑیوں
کم خواب لباسوں
اور دیبا کی اوڑھنیوں سے
میرے بدن کارواں رواں چھل گیا ہے
وقت کی چھلنی میں
تھوڑی سی ریت باقی ہے
کیا اب بھی میرے زخموں کے لیے
کسی مرہم کی سماعت نہیں آئی
کب تک گونگے آئینے کے سامنے بیٹھی رہو
دیواروں کے قرضے چکائے جاچکے
یہاں وہاں دائروں میں نقوشِ قدم
اب تو میں سالن اور موسم دونوں کا
دھیان رکھتی ہوں
کو تھمیر اور پودینے کا فرق بھی پہچان ئی ہوں
ہتھیلی پر کوئی جگنو نہیں تو نہ سہی
میری پلکیں امانت دار ہیں
اور اب
آندھیوں کے بازار میں جو آخری دیا
جلتا ہوا باقی رہ گیا
اجازت دو
کہ اس دیے سے
اپنی آخری رات روشن کرلوں!۔

Check Also

چوتھا دن ۔۔۔ قندیل بدر

ابھی کچھ کام باقی ہے ابھی سورج پہ پہلا پاؤں رکھنا ہے فلک کا ریشمی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *