Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وصاف باسط

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

اندروں نیند کا اک خالی مکاں ہوتا تھا
میری آنکھوں میں ترا خواب نہاں ہوتا تھا

روز جاتے تھے بہت دور تلک ہم دونوں
پر یہ معلوم نہیں ہے میں کہاں ہوتا تھا

دشت کے پار بہت دور تھی اک آبادی
اور اس سمت بہت گہرا دھواں ہوتا تھا

خوف کے بعد بھی وحشت ہی نظر آتی تھی
وحشتوں سے بھی پرے کوئی جہاں ہوتا تھا

میں کہانی سے بہت دور نکل آیا تھا
میرا کردار کہیں اور بیاں ہوتا تھا

Check Also

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی! ۔۔۔ گل خان نصیر

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *