Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ رضوان فاخر

غزل ۔۔۔ رضوان فاخر

دیا کہتا رہا ، چپ تھے دریچے
پتنگوں نے سنے خوشبو کے قصے

ان ہونٹوں پر تبسم کھلتے کھلتے
بدل جاتے ہیں انگوروں میں غنچے

یہ ساحل پہلے بھی دیکھا ہوا ہے
مگر پہلے یہاں دیوار و در تھے

کوئی سلوٹ نہیں دریا پہ لیکن
کنول رکھے ہیں پانی پر قدم کے

میں جل لے کر بناوں تیری صورت
جو رنگوں میں ادھوری رہ گئی ہے

یہاں آکر ہیں حیراں شام کے سنگ
کسی انجان بستی سے یہ رستے

یہ وہ موسم ہے بچھڑی صورتوں کے
بکھر جاتے ہیں آوازوں کے پتے

Check Also

غزل ۔۔۔۔ افتخار عارف

قصہِ اہلِ جنوں کوئی نہیں لکھے گا جیسے ہم لکھتے ہیں، یوں کوئی نہیں لکھے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *