Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » بی ایس او کا نوشکی میں منعقدہ تاریخی سیمینار ۔۔۔ رپورٹ:نسیم بلوچ

بی ایس او کا نوشکی میں منعقدہ تاریخی سیمینار ۔۔۔ رپورٹ:نسیم بلوچ

نوشکی میں بی ایس او کے زیر اہتمام عظیم بلوچ دانشور ماما عبداللہ جان جمالدینی کی یاد میں ایک عظیم الشان و تاریخی سیمینا ر کا انعقاد ہوا. جس کی صدارت بی ایس او کے مرکزی چےئر مین واجہ نزیر بلوچ نے کی۔ جبکہ مہمان بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ اورا عزازی مہمان خاص بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ تھے۔تلاوت کلام پاک کی سعادت بی این پی کے عبدالکریم مینگل نے حاصل کی۔بلوچ شہدا کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔اس کے مقالوں اور تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ بی ایس او کے مر کزی چئر مین واجہ نزیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ عوام کوشعور وآگاہی دینے کے لیے ماما عبداللہ جان جمالدینی نے ملازمت سے استعفی دے کر 1950کے ہائی میں لٹ خانہ کی نام سے ایک تحریک شروع کی۔ اس تحریک کے علمی و ادبی،تحقیقی و تخلیقی اور فکری ونظریاتی اثرات نے بالعموم بلوچ قوم اور بالخصوص قومی تحریک پر ایک نمایاں اثرات مرتب کی.جس کی وجہ سے آج بلوچ قومی تحریک منظم شعوری و فکری اور نظریاتی بنیادوں پر عملی طور پر سائنسی انداز میں اپنے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے منزل کی جانب رواں ہے۔
ماما عبداللہ جان جمالدینی نے ساری عمر علم وادب،تعلیم وتربیت،جدید سائنسی علوم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک تعلیم یافتہ،ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان کی جدوجہد کی۔
آج کے دور میں علم کے بغیر ترقی اور دفاع ممکن نہیں.اس لیے ہمیں تعلیمی اداروں میں 75فیصد حاضریاں یقینی بنانا ہوگا.اور ایسے طلباء قطعی طور پر بی ایس او کی ممبر نہیں ہوسکتے جس کی اپنے کلاس میں حاضریاں 75فیصد نہ ہو۔
آج درحقیقت ہمیں جدید علوم کے حصول میں اہم ٹیکنالوجیز اور دیگر ضروریات فراہم نہیں کئے جارہے ہیں.ہمیں دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر جدید سائنس وٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کی دنیا کے ساتھ ہم قدم ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔
تاہم موجودہ کثرالزبانی نصاب تعلیم قومی کلچر و معاشرتی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے. موجود نظام تعلیم میں طلباء پرائمری سے سیکنڈری لیول تک صرف زبانیں ہی سیکھتے ہیں.جب وہ ہائیر لیول تک پہنچ جاتے ہیں تو انہیں انتہائی افسوس ہوتا ہے.کہ ان سے مضامین کے اصل روح رہ جاتے ہیں.اس لیے موجودہ نصاب میں ایک بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہیں.
عموما اگر دیکھا جائے تو دنیاکی قومی و انقلابی تحریکوں میں دانشوروں کا ایک اہم کردار رہا ہے. دانشوروں کو اساتذہ پیدا کرتے ہیں۔لیکن ہمارے معاشرے میں اساتدہ کی اہمیت ختم ہوچکی ہے.کیونکہ ہمارے ہاں ٹیچر کا عہدہ ملازمت کے طور پر آخری آپشن ہوتا ہے.معاشرے میں استاد کا کوئی احترام نہیں.استاد کا احترام کیے بغیر کوئی بھی معاشرہ آگے نہیں بڑ ھ سکتا.آج ضرورت اس امر کی ہے.کہ ہمیں آگے بڑھنے ،ترقی یافتہ ،تعلیم یافتہ اور خوشحال بننے کے لیے زندگی میں اپنے عظیم بلوچ دانشور ماماعبداللہ جان جمالدینی جیسے عظیم و باصلاحیت لوگوں اور دانشوروں خاص طور پر اساتذہ کا قدر کر نا،عزت افزائی و حوصلہ افزائی کرنا سیکھنا ہوگا.تاکہ مجموعی طورپر بحثیت قوم ہم ایک ترقی یافتہ،خوشحال او رتعلیم یافتہ قوم بن جائیں.
اس کے بعد پروگرام سے مہمان خاص و بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم بلوچ دانشور ماما عبداللہ جان جمالدینی،میرگل خان نصیر مینگل،آذات جمالدینی،مولوی غلام حیدر نوشکوی، مولوی محمد افضل مینگل،گودی گوہر ملک ودیگر نے سیاسی مباحثوں و اپنی علمی وادبی اور قومی خدمات کی بدولت سیاسی ونظریاتی کارکن پیدا کئے.جسں سے قوم و معاشرے نے فکری وشعوری ترقی کرکے ایک سیاسی وادبی ماحول کا تشکیل نو ہوا.لیکن بد قسمتی سے آج کا نوجوان اور سیاسی کارکن علم وادب اور مطالعے سے کوسوں دورہیں.
بلوچ معاشی بدحالی وتنگ دستی اور باہمی ختلافات و قبائلی جھگڑوں میں بری طرح پھنس چکے ہیں.بلوچوں کو مذہبی منافرت و خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے
اب بلوچستان میں قوم پر ستی کے نام پر جعلی قوم پرست پیداکیے جاچکے ہیں.جو اپنے آباواجد اور اکابرین کے فکر ونظریات اور اصولی سیاست کو اپنے ذاتی کاروبار ،مفادات ومراعات اور کرسی کے خاطر پس پشت رکھ کر اہل بلوچستان کو ورغلا نے کی ناکام کوششوں میں مصروف عمل ہیں. ہماری جدوجہد قوم کو غلامی سے نجات دلانے کیلئے ہے۔
حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ آپ پاکستان کی ترقی چاہتے ہو.یاپنجاب کی ترقی چاہتے ہو.سی پیک و اقتصادی رہداری کے نام پر پنجاب کی ترقی اور اہل بلوچستان کی محرومی ہرگز قبول نہیں.ہم سی پیک میں شراکت دار بن کر اپنا حصہ چاہتے ہیں.لیکن ہمارے جائز اختلافات وتحفظات دور کرنے کی بجائے وفاداری اور غداری کا سر ٹیفکیٹ جاری کرنا کہا ں کی جمہوریت ہے؟
ہمیں امید ہے کہ بی ایس او ماماعبداللہ جان جمالدینی جسے عظیم دانشوروں کے نقش قدم پر چل کر ہمارے اکابرین کے اصولی سیاست،فکر و نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریگا.نہ ہی ضمیر فروشی کے مرتکب ہوگا.بلکہ ہمیں ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم بناکر دیں گا.
یمینار سے بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ،بی این پی کے مرکزی رہنماء و سابق فنانس سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی ودیگر نے خطاب کیا۔
جبکہ بی ایس او کے سابق مرکزی چیر مین و بی این پی کے رکن سینٹرل کمیٹی واجہ جاوید بلوچ نے ماما جمالدینی کواسکی قومی خدمات پر خراج عقیدت،1950کے دہائی میں لٹ خانہ کے قیام و اسکی فکری ونظریاتی اثرات و ثمرات،آج کے ضمیر فروش دانشور خاص طور پر تاریخی تناظر کے تسلسل میں علمی و تحقیقی اور بلوچی زبان میں ماسکو،ترکی و چینا سے شائع ہونے والے کتابوں کا حوالہ،موجودہ علمی حالات کا موجودہ نصاب تعلیم کے ساتھ تذکرہ آج بلوچستان میں مطالیاتی رحجان کے فروغ اور وسعت اورمثبت تعمیری تنقید خصوصاعلم اور ذہانت پر مبنی آئندہ کا منصوبہ بندی پر مبنی مقالہ پیش کیا.
راسکوہ ادبی دیوان کے مرکزی چئر مین ملک اکرم مینگل نے عظیم بلوچ دانشور ماما عبداللہ جان جمالدینی کے ساتھ گزرے سنہری اوقات و ملاقاتوں کے تذکرہ اور لٹ خانے کی اہمیت کے ساتھ موجودہ علمی حالات کا موجود نصاب تعلیم میں خامیوں، کثیرالزبانی نصاب تعلیم کے نقصانات،غیر معیاری طریقہ تدریس،تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم دستیابی اور جدید آلات کے عدم فراہمی، موجودہ نصاب تعلیم پر نظرثانی اور مطالعے کی اہمیت و مستقبل کے لائحہ عمل پر مبنی مقالہ پیش کیا.
بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے رکن نسیم بلوچ نے عظیم بلوچ دانشور ماما عبداللہ جان جمالدینی کو علمی وادبی اور قومی خدمات پرخراج عقیدت و لٹ خانہ کی اہمیت،اسکی فکری اثرات خصوصا آج ہم میں موجود باصلاحیت لوگوں و دانشوروں کا ذندگی میں قدر واحترام اور انکی موجودگی میں انکے نام پر سیمینارز منعقد کرنے،ان کے صلاحیتوں سے استفادہ کرنے،انکی حوصلہ افزائی کرنے اورمثبت و تعمیری تنقید کے اہمیت خاص طور پر تنقید و تحقیق پر مبنی تاہم موجودہ علمی حالات کا خصوصا عداد وشمار کے ساتھ ذکراورکتاب وقلم اورمطالعے کی اہمیت وضرورت و مطالیاتی رحجان کے فروغ اور آئندہ کے حکمت عملی پر مبنی مقالہ پیش کیا.
اسی طرح بی ایس او کے رکن سینٹرل کمیٹی عتیق بلوچ نے ماماعبداللہ جان کے علمی وادبی خدمات، عصر حاضر میں ٹیکنالوجیز کا دفاعی مقاصد کے لیے غیرضروری استعمال،علمی حالات کا تنقیدی جائزہ،نصابی خامیوں،بحثیت قوم اپنے نالائقوں و کمزوروں،انٹرنیٹ و فیس کی افادیت اور ہمارے ہاں وقت ضائع کرنے کیلیے استعمال و مطالعے کی اہمیت اور مستقبل کے لائحہ عمل پرمبنی مقالہ پیش کیا.
سٹیج سیکرٹری کے فرائض بی ایس او کے رکن سینٹرل کمیٹی و ضلعی آرگنائزر سلیم جالب بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر سلیمان بلوچ،بی این پی کے حمید بلوچ نے انجام دیے۔

Check Also

سنگت پوہ زانت ۔۔۔ نجیب سائر

                پوہ و زانت اور سنڈے پارٹی کا مشترکہ دیوان اتوار23فروری2020ء کی صبح گیارہ بجے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *