Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ فر حت پروین

غزل ۔۔۔ فر حت پروین

دل ہی کعبہ ہے حجر پیش نظر ہو کہ نہ ہو
دِل کی تسکین ثمر اور ثمر ہو کہ نہ ہو

جنگ توکرتی رہی ظلمتِ حالات سے میں
چاہے اِس رات کی بھی کوئی سحر ہو کہ نہ ہو

زندگی ! کیوں نہ ترے قرض چکادیں سارے
وقت اِس طرح کا پھر بارِدگر ہو کہ نہ ہو

ٹل نہیں سکتا ازل سے جو اجل کا ہے مقام
خود ہی پہنچیں گے وہاں عزم سفر ہو کہ نہ ہو

اپنے احساس کو لفظوں کا بدن دے لوں میں
غم نہیں پاس کوئی اور ہنر ہو کہ نہ ہو

بوتی جاؤں گی ثمردار شجر رستے میں
چاہے اُس راہ سے پھر میرا گزر ہو کہ نہ ہو

Check Also

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو جینا بہت اہم جیے جاؤ حصولِ منزل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *