Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ وصاف باسط

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

چار سو خوف ہی میں رکھی ہے
روشنی تیرگی میں رکھی ہے

میں نے خواہش لپیٹ کر اپنی
ایک صندوقچی میں رکھی ہے

موت سے اب نہیں ہے ڈر کوئی
موت تو زندگی میں رکھی ہے

وہ کسی کو نہیں ملے گی یہاں
سندری جھونپڑی میں رکھی ہے

سانس رکھی نہیں ہے طوطے میں
جان میری پری میں رکھی ہے

چیخ کر بھی تو دیکھ لو باسط
بات کیا خامشی میں رکھی ہے

Check Also

انسان کی موت کے بعد ۔۔۔ نور محمد شیخ

انسان کی موت کے بعد:۔ اُس کی ، ۔ ساری ذمّے داریاں ختم نہ زندگانی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *