Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » صاحب اور خواجہ سرا ۔۔۔ شاہجہان بلوچ

صاحب اور خواجہ سرا ۔۔۔ شاہجہان بلوچ

شہرِ اقتدار کی خاصیت ہی یہی ہے کہ یہاں میرے جیسے عام آدمی کو بھی شخصیات سے ملنے، گفتگو کرنے اور ہاتھ ملانے کا موقع ملتا ہے۔اس چیز کو لوگ ایکسپوژر کا نام دیتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ یہاں کے مذہبی، سیاسی، سماجی و بیوروکریسی غرض کہ ہر مکتبہء فکر سے وابستہ لوگوں سے ملنے کا شرف ہمیں بھی حاصل ہوا ہے۔اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر کے ہمیں نے خوب داد وصول کی ہے۔مگر ان ملاقاتوں میں ہمیشہ سے کوئی غرض، کوئی مطلب و لالچ بہرحال موجود تھا۔ کوئی سیاست دان ہمدردی اور حقوق کے نام پر طلباء کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا تو کوئی مذہبی مُلا، دین کے نام پر بھی سیاست کرتا تھا۔
لیکن آج اسلام آباد کے سبزازاروں میں، سڑک کنارے، درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ایک ایسی نشست ہوئی جو ہر طرح کے غرض و لالچ سے پاک تھی، جس نے کئی ایک سوالات کو جنم دیا اور انسانیت کی کوکھلے نعروں کی حقیقت کو ظاہر کر دیا۔ میک اَپ کے پیچھے چھپے ان سیاہ چہروں نے معاشرے کی سیاہ کاریوں کو عیاں کر دیا۔
’’معاشرہ‘‘ جہاں ایک طرف توجانوروں کے حقوق سے آگاہی کے لیے سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے تو دوسری طرف ان لوگوں کو جانور سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے نام اگر میں شاعر کے یہ اشعار کردوں تو بیجا نہ ہوگا۔
’کہیں پتھر کڑھتا ہے تو ان کا دل دھڑکتا ہے
اگر وہ سانس بھی لیتے ہیں تو گھٹ گھٹ کے لیتے ہیں
انہوں نے اپنا تن من بیچ ڈالا خوف کے ہاتھوں
وہ ایسے تنگ و تاریک تہ خانوں میں رہتے ہیں
جہاں تازہ ہوا کا جھونکا بھی آجائے تو ٹھٹک جاتا ہے
فوراً ۔۔۔۔ ہڑ بڑ ا کر لوٹ جاتا ہے
میں ایک سگریٹ سُلگائے، خاموش، اپنے وجود کو کوستا ہوا جارہا تھا کہ دفعتاً پیچھے سے آواز آئی:
’’صاحب۔۔۔!‘‘
آواز مردانہ تھی نہ زنانہ۔۔میں نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی زنانہ کپڑوں میں ملبوس، ایک کم صورت والے مرد نما عورت نے مجھ سے پوچھا؛ ’’آپ بلوچستان سے ہو؟‘‘
جی ہاں!
’’ صاحب میں نے آپ کو آواز دی، آپ کو بُرا تو نہیں لگا؟‘‘
جی نہیں ۔ بالکل بُرا نہیں لگا،مگر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں بلوچستان سے ہوں؟
’’وہ صاحب۔۔ آپ کی شلوار دیکھ کر۔۔ میں ناں۔۔۔ تین سال گوادر اور پسنی میں رہی ہوں تو مجھے پتہ ہے کہ بلوچ لوگ کیسے شلوار پہنتے ہیں۔‘‘
او۔۔او۔۔ ٹھیک ۔۔ اور گوادر میں کیا کرتی رہی ہو؟
’’بس صاحب۔۔ یہی مانگنے کا کام‘‘
تمہارا کیا نام ہے؟
سائقہ اور اس کا(دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) نجمہ۔۔
بہت حسین۔۔۔ تم دونوں ۔۔ ویسے تم دونوں جا کہاں رہی ہو؟
’’عیسائیوں کی جھونپڑیوں میں۔ مانگنے۔۔‘‘
کمال کے لوگ ہو آپ۔۔ بنگلوں کو چھوڑ کر، جھونپڑیوں میں مانگنے جا رہی ہو؟
ارے صاحب۔۔ بنگلوں والی باجیاں گھنٹی کی آواز سن کر، صرف کھڑکیوں سے جھانک کر واپس ہوجاتی ہیں۔ گرمی میں پانی تک نہیں دیتیں۔ جھونپڑی والیاں پانچ ، دس دے ہی دیتی ہیں۔ کافی ہوتاہے وہ بھی‘‘۔
ہاں۔۔۔۔کیسی گزر رہی ہے یہ زندگی؟
بس صاحب کیا بتائیں۔۔ ہم لوگ گاڑیوں میں نہیں بیٹھ سکتے۔لوگ ہمارے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے۔ مسجد میں بھی ہمیں جانے نہیں دیا جاتا۔صاحب ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمیں تو خدا نے ہی ایسا بنایا ہے۔
ہاں ۔۔۔
صاحب جی۔ یہ جو پیچھے میٹرو بن رہا ہے، کیا اس میں ہمیں بھی سواری کی اجازت ہوگی؟
’’صاحب ۔۔۔۔لاجواب‘‘
’’صاحب جی۔ آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘
جی یہ جو سامنے یونیوورسٹی ہے ناں۔۔ اس میں پڑھتا ہوں۔
’’بہت اچھا صاحب۔۔۔ صاحب ایک لڑکی ہے۔ اس نے آٹھ جماعت پڑھ لی ہیں۔500 میں سے300 نمبر لی ہیں۔ اسے آگے کیا پڑھاؤں؟ اسے کمپوٹر پڑھنے کا شوق ہے۔
بہت خوب۔۔ ذہین لڑکی ہے۔ کس کی ہے؟
’’بس صاحب کیا بتاؤں۔۔ میری بیٹی جیسی ہے۔مجھے تو بچپن میں ایک فقیر کے پاس چھوڑ دیا گیا تھا۔بس ایک بھائی ملنے آتا تھا۔ بہت اچھا تھا۔وہ بیماری سے مر گیا۔یہ اسکی بیٹی ہے۔مانگتی ہوں اور اسے پڑھاتی ہوں۔ لاہور میں پڑھتی ہے صاحب۔۔ہم خود گجرانوالہ کے گاؤں حافظ آباد میں رہتے ہیں۔‘‘
تم تو عظیم ہستی ہو ۔۔
’’بس صاحب کیا کریں۔ لوگ کام نہیں دیتے۔ عزت نہیں کرتے۔ پولیس والے ہمیں تنگ کرتے ہیں۔صاحب ہمیں پڑھایا جاتا تو ہم بھی افسر بن سکتے تھے۔‘‘
پیچھے گزرتی گاڑی میں سوار دوستوں نے دیکھا تو آواز کسنے لگے۔سیٹیاں بجھانے لگے۔
’’صاحب۔ آپ بہت اچھے ہو۔ آپ جاؤ۔لوگ آپ کے پیچھے ہزار باتیں کریں گے۔‘‘
’’صاحب پروا نہیں کرتا۔ صاحب ان چیزوں سے بے نیاز ہے۔‘‘
گھنٹوں باتیں ہوتی رہیں۔۔۔جاتے وقت صاحب نے کہا ’’بچی کو ضرور کمپیوٹر سائنس پڑھانا‘‘
’’ضرور صاحب۔۔ میں اسے افسر بناؤں گی ۔۔۔۔صاحب آپ بہت اچھے ہو۔ اللہ آپ کو بہت بڑا افسر بنائے۔‘‘
جاتے جاتے صاحب نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’صاحب تو صرف اچھا ہے لیکن آپ لوگ عظیم ہو‘‘۔

Check Also

طوفان کی رات اور سمولنی ۔۔۔ شاہ محمد 

سمولنی سراپا چراغاں تھا۔ پرجوش لوگوں کے گروہ تیزی سے آگے پیچھے آجارہے تھے۔ یوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *