Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ کاوِش عباسی

غزل ۔۔۔ کاوِش عباسی

سبھی ِ تیر جو ِ مرے دِ ل میں ہیں، ہیںِ عنا یتیں ِ مرے یار کی
اُسی یار کی ِ مرے خوں نے دی جسے کرّ و فر سرِ دار کی

میں کٹا پھٹا ہی رواں رہا اُسی سچ کی دو رُخی دھار پر
وہی سچ کہ اہلِ جہا ں نے جس کی غلاف پوشی ہزار کی

مِرے ہر عمل کی اساس ہے رُخِ حق کی جلتی لگن مری
اِسی چلچلاتی لگن پہ میں نے حیات اپنی نثار کی

مئے ناب شیریں سرُو ر کی تُو ہے پی کے جُھو متا اس قدر
کبھی پی مزاحمتِ جہا ں کی شراب تلخ خُمار کی

مرے بازووں پہ نشان ہیں ، مرے دست و سینہ ہیں زخم زخم
یہی زخم اب مرے پُھول ہیں، مُجھ ے جُستجو تھی بہار کی

مُجھے کاوِش آپ ہی ہوش تھا ، نہ کسی کا ہاتھ میں ہاتھ تھا
ِمِری ہم سفر مِری چیخ تھی یا اُداسی راہ گُزار کی

Check Also

The Axiom of connectivity

نوشین قمبرانی زندگی ہے روح مزیخ اور زمیں ہم ۔روح ہیں اپنے اپنے اُوربِٹ کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *