Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » 2018 » January (page 3)

Monthly Archives: January 2018

نظم ۔۔۔ معراج دانش

ہاں میں اک بچہ ہی تو ہوں وہ بچہ جس کو پنپنے میں شاید کئی صدیاں لگ جائیں!۔ وہ بچہ جس کے چہرے پہ اداسی چپک کے رہ گئی ہو وہ بچہ جس کی آنکھیں حیرت و یاس کے بوجھ سے آدھ کھلی رہ گئیں وہ بچہ جس کا آنسوؤں سے بنا رستہ رخسار سے گزرتا ہوا کہیں گم ہو ...

Read More »

غزل ۔۔۔ انجیل صحیفہ

ناچتے ناچتے محبوب کی چھب چاہتا ہے عشق بازار میں مٹنے کا سبب چاہتا ہے چیخ آنکھوں سے نکل آئی ہے لاوا بن کر ہجر پھر گریہ کوئی آخرِ شب چاہتا ہے میں تجلی سے تیری طور ہوئی جاتی ہوں اور غضب یہ ہے کہ تو اور غضب چاہتا ہے اْس کی خواہش ہی نہیں کوئی مجھے چھونے کی چاہتا ...

Read More »

موت ہے کتنی شریر: دانیال طریر ۔۔۔ حفیظ تبسم

دانیال طریر!۔ تمھاری یادیں گنتے گنتے ہم سڑک کے بے نشان مین ہول کا حصہ بن چکے ہیں آگے _یا_ پیچھے کوئی نہیں جو ہاتھ تھامے قیام گاہ کا راستہ دکھائے اور تم بے فکری سے ٹہلتے ہو آسمان کی چھت پر تم خدا کو نظم سنا ناچاہتے ہو جو پرانے شہر کی بلند سیڑھیوں پر لکھی ارے دانی! خدا ...

Read More »

غزل ۔۔۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی

آؤ کچھ دیر چلیں درد کی دنیا سے اُدھر خود قریبی کے چمن زار میں صحرا سے ادھر ایک عالم ہو کہ ہونے کی نفی ہو جس میں ایک منظر ہو کہ ہو چشمِ تماشا سے ادھر نہ ’’سبکساریِ ساحل‘‘ہو نہ گِرداب کا غم ساعتِ خوش سے پرے ، وحشت دریا سے ادھر یاد کا شہر ہو جادو ئے فراموشی ...

Read More »

پبلونرودا کی آخری نظم ۔۔۔ پبلونرودا/انور احسن صدیقی

ستمبر سن تہتر کے اذیت ناک دن تاریخ کے سارے درندوں نے ہمارے پرچمِ زریں کو بڑھ کر نوچ ڈالا ہے درندو ، ستم نے کتنا خوں بہایا ہے تمہارے جسم جاگیروں پہ پل کر فربہی سے کس قدر بھر پور ہیں تم وہ لٹیرے ہو جگہ ہے جن کی شیطانی جہنم میں بکاؤ مال کی مانند تم کو بارہا ...

Read More »

ریل چلنے لگی ۔۔۔ عرفان شہود

سر نگوں سبز جھنڈی کا ہلکا پھریرا فضاوں میں لہرا گیا اوس پڑتے ہوئے بنچ پہ زرد پتوں کی چادر کو جھونکے اٹھا لے گئے ریل کی پٹریوں پہ اْداسی کی گونجیں بدن کی سرنگوں سے باہرگزرنے لگیں وِسل بجنے لگی کھڑکیوں کی تھکاوٹ نئی منزلوں کے دھنک رنگ خوابوں کے پیکر میں ڈھل کر رگ و پے کو لوری ...

Read More »

غزل ۔۔۔ رضیہ سبحان

رواں ہر دم رواں اب کے بہاراں ہے مثلِ کارواں اب کے بہاراں شجر مینارِ خوں، گل خون دیدہ عجب ماتم کناں اب کے بہاراں لب و دل کی گواہی رائیگانی ہے کچھ کچھ بدگماں اب کے بہاراں خزاں کے زرد پتے سرخ سارے نہال و شادماں اب کے بہاراں ہوئی ہے جنبشِ شاخِ شجر سے سراپا داستاں اب کے ...

Read More »

روز کا معمول ۔۔۔۔ اسامہ امیر

میرے ساتھ رات کو ہوٹل پر سگرٹ پینے والے دوستوں کو معلوم ہے میں ہر آنے والا دن ایک نئی محبوبہ کے چہرے کے ساتھ گزارتا ہوں اور دن بھر نئے چہرے کی وحشت جو کہ ایک سگرٹ کی محتاج ہے بھول جاتا ہوں کوئی شاعر اتنا بے مروت نہیں ہوتا سوائے میرے کہ تازہ نظم کہنے کے لئے کسی ...

Read More »

جمود ۔۔۔ ذاکر رحمان

مو قلم خشک ہے اب کوئی عکس رِستا نہیں رنگ مِلتے نہیں پھول کا ذکر کیا زخم تک اِس اَذیّت میں کھِلتے نہیں سانس بھی سینہ بے دلِ مبتلا سے گزرتی نہیں آنکھ جنموں سے منظر میں پیوست ہے اِلتوائے تخیّل کی قاتل گھڑی!۔ اور کچھ دیر رْکنے سے ہر کینوس آئینہ ہوئے گا عکس جو بھی بنے گا لہو ...

Read More »