Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » 2018

Yearly Archives: 2018

نیلم احمد بشیر

کچھ چڑیاں گِدھوں سے محبت کرتی ہیں گِدھ جو آسمانوں میں اڑتے کم ہیں منڈیروں پر بیٹھتے زیادہ ہیں کبھی کبھی وہ چڑیوں سے ملنے نیچے آنے کے لئے زقند بھرتے ہیں یوں جیسے کسی نظم کی اچانک آمد ہو جائے یا چھن سے کسی بازو کی چوڑیاں کھنک اٹھیں سب کچھ بھلا لگنے لگا آنگن سے امبر کو تکتی ...

Read More »

پاروتی کا نیل کنٹھ ۔۔۔ ثروت زہرا

میں نے دھیرے دھیرے خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا میں نے آہستہ آہستہ تمنا کی شاخ سبز زندگی کے مرتبان میں ڈال کر اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا اور دل کے زخموں پر لگا لیا مین نے چپکے چپکے شوق کے رسیلے پھل سے ایک سانس نچوڑی اور ...

Read More »

گھردالان ۔۔۔ کشور ناہید

رشتوں کی راہداری میں کون کھڑا ہے خواہشوں کا تو سایہ نہیں ہوتا مگر یہ تو سایہ ہے غورکرو، یہ تو بہت سے سائے منجمد ہیں تم نے یہ کیوں سوچ لیا کہ سائے میں ہمزاد کی مہک ہوتی ہے لمبے ہوتے سایوں میں تو جان بھی ہوتی ہے اسی لیے وہ غائب ہوجاتے ہیں میرے دالان میں نہ دھوپ ...

Read More »

اسامہ امیر

تم پہاڑ کی چوٹی سے قوس قزح کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھ کر۔۔۔۔ کتنے سرشار ہو جاتے ہو نا؟ ایک معصوم بچے کی خواہشیں اور تمہاری خواہشات میں صرف عمر کا فرق ہے پہاڑ کے نیچے سے سیلِ رواں تمہارے خیر مقدم کے لئے خوبصورت چاکلیٹ اور سبز گلاب کے ساتھ کافی دیر سے منتظر ہے جو ایک وقت کے ...

Read More »

خواب ٹوٹ جانے کے سبب  ۔۔۔ اسامہ امیر 

پیاری دوشیزہ شام کے ڈھلتے ہوئے مناظر دیکھنے والی آنکھیں جو کہ تمہاری ہیں۔۔۔۔ ! ۔ اگر خیرہ کردیں جائیں تو ،۔ ہم اِنہیں خیرہ کی ہوئی آنکھوں سے گذشتہ ڈھلتے ہوئے مناظر “Rewind” کر کے دیکھ سکتے ہیں یہ میرا خیال ہے تمہاری پوریں ہرے سمندر کے کنارے ہلکی نم مٹی سے گلابی رنگ کے ہونٹ بنانے میں کامیاب ...

Read More »

غزل  ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

تم سے ہو جائیں بھی تو کیسے لوگ کہاں ملتے ہیں تیرے جیسے لوگ ایک تیری وجہ سے یار عزیز چل کے آتے ہیں کیسے کیسے لوگ حبس کے شہر بے مقدر میں سانس لیتے ہیں جانے کیسے لوگ جیسی تیسی ہو زندگی ہی جب جی ہی لیتے ہیں جیسے تیسے لوگ شہر کا شہر جل رہا ہے اور شہر ...

Read More »

غزل ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

لباس عمر یقیناََ بہت نیا ہوتا جو اختیار میرے پاس خود مرا ہوتا میری حیات میری دسترس میں ہی ہوتی یا میری موت میرا اپنا معاملہ ہوتا یا مجھ سے پوچھتا کوئی، کہ تم نے جینا ہے یا مجھ کو موت کی تشکیل کا پتہ ہوتا اے کاش مجھ سے ستاروں کی پرورش ہوتی میرا وثوق مہ و مہر پالنا ...

Read More »

سرمایہ داری ۔۔۔ اسرار الحق مجاز

کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہے بتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے یہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہے یہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہے یہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہے مگر مزدور کے تن سے لہو تک ...

Read More »

غزل ۔۔۔ سلام عاصی

ذرا سی خاک بھی اس کی اٹھان میں گم ہے وہ اک پرندہ جو اونچی اڑان میں گم ہے ہر ایک دل کہ پرکھتا ہے قیمتِ اشیا ہر اِک نگاہ یہاں پر دوکان میں گم ہے وہ جس کے ماتھے پہ گِنتے ہو تم ستاروں کو میری زمین اسی آسمان میں گم ہے کہیں تمھیں بھی بنا ڈالے یہ نہ ...

Read More »

غریوعوام ۔۔۔ محمد رفیق مغیری

دڑداں مانیں غریوعوام نئیں درکار مارہمے نظام رمغیں ڈھوریں ڈولا کپتو زندا گزارغیں تھیو غا عوام ظلما ذوراخ کھنغیں کپتو لُچاں نیستیں ایدا لغام جنگ وجدل لُٹ و پُھل ایذا استیں صُحو و شام ڈیہے مڑدم گژنغ لافاں دری آں ملغیں ایذا انعام سرکار، سردار، جاگیردار مست واستاں مست مُدام اُڑدو لشکر وزیریں استیں نیستیں ایذا کھس حُکام غیرت حمیت ...

Read More »