Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » 2017 » July

Monthly Archives: July 2017

تمھارے جانے کے بعد ۔۔۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن

تمھارے تکیے پہ سر کو رکھا تمھاری چادر بدن پہ ڈالی دعائیں مانگیں کہ تم پہنچ جاؤ خیریت سے مکاں تک اپنے پھر آنکھیں موندیں نمی سی گالوں پہ لے کے خوابوں کے دُھندلکے میں اُتر گئی میں وہ نیند کب تھی؟ مگر گماں ہے کہ سو گئی تھی

Read More »

لا محدود کی حدیں ۔۔۔ ثروت زہرا

میں محبت کاشت کرتی مگر وقت کی زمین میں آہوں کا سیم اور تھور بھسس کی طرح بھر دیا گیا ہے میں ابدیت کا الاپ کرتی مگر جینے اور مرنے کے درمیان کا وقفہ مجھے لمبی ہوک لگانے کی اجازت نہیں دے رہا‘ میں تمنا کا سودا تمھارے’خیال سے طے کر لیتی‘ مگر کرنسی کی تبدیلی کے لیے وقت کے ...

Read More »

یونانی انتھیولوجی ئے گونڈیں ۔۔ شاعر ے آگوں تران 

بورخیس؍اجمل کمال؍قاسم فراز کُج انت یات!!!۔ ہما روچانی کہ اے سر زمینا تئی اتنت گم ووشیاں جوڈ اتنت و جوڈینتگا اتے جہانے کہ تہناتئی ات اے سالانی دریا ئے گورماں وتی اندر ا چہ چگل داتنت کُل وتو نوں لڑے آ ایوکیں لبزے آ دیوتاآں دگے میر و واجہ کتنت بے آسریں واجہی، گِبرّاں ہماہانی نام ات،ہما ہر کجا و ...

Read More »

ایک خواب ۔۔۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن

دریا بیچ اک تنہا مندر اور کنارے مسجد جس کے گنبد سات اس کے پاس کھڑا اِک بھکشو اوڑھے گیروا چادر دریا میں اِک کشتی کشتی پر بیٹھی ہے ناری ننھا بالک گود میں اُس کے مانجھی گائے گیت شاہ لطیف کی وائی جیسا سب کی خیر ہو مولا

Read More »

آدمی ! ۔۔۔ امداد حْسینی

آدمی یہ آدمی اشرف المخلوق کہتے، ہیں جسے اپنے منصب سے اگر گر جائے تو وحشی درندے سے گیا گزرا لگے گر لہو لگ جائے اس کی جِیبھ کو آبِ زم زم سے بھی اس کی پیاس پھر بجھتی نہیں !۔

Read More »

خوان  ۔۔۔ ثروت زہرا

کچھ لوگ زندگی کے خوان پر میٹھے کی طرح چن دیے گئے ہیں خوش ذائقہ،،۔۔۔۔۔۔ چاندی کے ورق میں لپٹے ہوئے مگر ان کی باری پیٹ بھرجانے کے بعد آتی ہے اور جن کے لیے ساری تیاری زبان کاذائقہ تبدیل کرنے کے لیے کی جاتی ہے

Read More »

حبشی

شاعر: مہدی اشرفی ترجمہ: احمد شہریار —————————— ہمیشہ ایک ایسے آدمی کا قتل ضروری ہے جو ہمیں عزادار رکھے میں کالے کپڑے پہنوں اور تمہارے سائے جمع کروں یہاں تک کہ صبح کے آٹھ بجے رات ہوجائے رنگوں بھری بالٹی اٹھا کر خود پر انڈیل دوں میں ایک حبشی ہوں میری جلد سے پسینہ نہیں نکلتا بلکہ وہ روتی ہے ...

Read More »

وحید نور

یوں نہ تھا انسان پتھر ہو گیا دیکھ کر بھگوان پتھر ہو گیا ڈھوتے ڈھوتے تھک گئی ہے زندگی زیست کا سامان پتھر ہو گیا پہلے دھڑکا دل کی صورت یک بہ یک اور پھر زندان پتھر ہو گیا بہت کی صورت ہی تراشا تھا اْسے پھر مرا ایمان پتھر ہو گیا بے حسوں پہ نظم کیا لکھی وحید خودبخود ...

Read More »

غزل ۔۔۔ نیلوفر افضل

مچا ہوا ہے خداؤں کی ان کہی کا شور مگر وہ گونج کہ کھا جائے گی سبھی کا شور تمام رات مہکتا تھا اس کی ٹیبل پر گلابِ تازہ کی خوشبو میں فروری کا شور شجر کی تابِ سماعت پہ داد بنتی ہے یہ سنتا آیا ہے صدیوں سے آدمی کا شور اے ناخداؤ سمندر کو مت سنا دینا ہماری ...

Read More »