Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » 2017 » January (page 2)

Monthly Archives: January 2017

اور جبران نے اپنی نظم کہی ۔۔۔ ندا بتول

ٹوٹے پروں کو سمیٹے پیغمبروں کی روح حلول کر کر کے جبران نے اپنی نظم کہی وہ نظم جو وقت گذشتہ اور فردا کے قصوں کا مظہر ہے جس میں حال کا شائبہ تک نہیں جہاں وقت نے اپنا آپ دریا برد کر کے لمحوں کی گنتی کو رواں کر دیا جب لمحے رواں ہوجائیں تو وقت ساکت ہوجاتا ہے ...

Read More »

بھلے کی صدا ۔۔۔ مبشر مہدی

ہزیمتوں کے اس لعین دور میں ہاں شور شوں کے بے پناہ، بے اماں سے دور میں کسی دکھی کی آس گر نہ بن سکو کئی دریدہ دا منوں کے ساتھ گر نہ چل سکو بے نْور ہوتی آنکھ میں دیا اگر نہ جل سکے بے سَمت ہو کے ڈولتی خِرد کی رو کو جسم گر نہ دے سکو بھلا ...

Read More »

نور محمد شیخ ۔۔۔ ایک اظہار

نثری نظم اے دل، تم بہت حد تک اپنی زندگی کے شناسا ہوگئے ہو اس کی ہر بات پہچان گئے ہو وہ کس بات سے خوش ہوتی ہے! اور کس بات سے روٹھتی ہے! یہ سب تم جان گئے ہو اس لیے، اب تجربوں سے گزرا ہوا ایک سُلجھا ہوا آدمی بنو محبوبہ زندگی سے پیار بڑھاؤ تاکہ وہ اور ...

Read More »

ممکن ہے کسی روز ! ۔۔۔ حسّام رِند

ممکن ہے کسی روز کسی دشت میں تنہا چلتے ہوئے تم کو کوئی احساس پکارے ماضی کا کوئی عکس، کوئی نقش یا چہرہ گزرے ہوئے لمحات کی کرنوں میں چھپا ہو یادوں کے سمندر میں کوئی تیرتی کشتی تم کو میرے احساس کی بوندوں سے بھگو دے تم مڑ کے ذرا دور کسی راہ کو دیکھو قدموں کے نشانات کو ...

Read More »

غزل ۔۔۔ بلال اسود

سب ہی افرادِ مَحَل روک رہے ہیں مجھ کو پر تری زلف کے بل روک رہے ہیں مجھ کو ایک تُو ہے کہ مجھے کھینچتا ہے شدت سے ایک یہ پاؤں ہی شل روک رہے ہیں مجھ کو کچھ تمناؤں کی لذت مجھے للچاتی ہے کیا ہے فردوس کے پھل روک رہے ہیں مجھ کو میں نے اس بار کسی ...

Read More »

غزل ۔۔۔ تمثیل حفصہ

خواب میرے ، دیکھتے ہو، تو لتے ہو، بولتے ہو کیا قیامت ، کیا قیامت ، چیختے ہو، بولتے ہو سرخ وحشت ، سبزآنکھیں ، زہر نیلا ، رات کالی شور ، ماتم ، راکھ ، ہر سو گھولتے ہو، بولتے ہو دن سویرا ، اڑتے پنچھی ، بہتا پانی ، کھلتے غنچے امن گانا، یہ ترانا، بیچتے ہو، بولتے ...

Read More »

غزل ۔۔۔ کرامت بخاری

مال حُسن تھا چشم حسود میں آیا حدوں کو پار کیا تو حدود میں آیا ہر اِک حصار سے باہر تھا زیست کا لمحہ قضانے قید کیا تو قیودمیں آیا جمالِ ماہِ منور کی آرزو لے کر ستار ا شام کا شہرِ شہود میں آیا زمانے بھر کی نگاہیں تھیں منتظر اُس کی یونہی نہیں وہ عدم سے وجود میں ...

Read More »

غزل ۔۔۔ سعید اللہ قریشی

ایک لمحہ بھی میں اوجھل نہیں ہونے دیتا یعنی میں آج کبھی کل نہیں ہونے دیتا روز کے روز بدلتا ہوں میں خود اپنا جواز زندگانی میں تجھے حل نہیں ہونے دیتا شاہ سے میرا قضیّہ ہے پْرانا ، اور میں اْس کی مرضی سے اِسے حل نہیں ہونے دیتا اے مرے پیٹ کی چکی میں پسے میرے دِن ظْلم ...

Read More »

غزل ۔۔۔ شجاعت سحر جمالی

ہم کو تقدیر سے ملا ہے کیا؟ تیری تصویر معجزہ ہے کیا؟ زخم اک اور پھر ہوا تازہ اس میں کیا درد تھا ،اٹھا ہے کیا؟ اے ستارو! وہ ہجر کا مارا دیر تک اب بھی جاگتا ہے کیا؟ شہر کے لوگ اجنبی، تو بھی؟ آشنائی کو اور بچا ہے کیا؟ جو بھی کہنا ہے کان میں کہہ دے تو ...

Read More »

غزل ۔۔۔ افضل مرادؔ

ہجر کا یہ سفر اتنا بھاری نہیں بے قراری تو ہے آہ و زاری نہیں میری آنکھوں میں اک بے قراری تو آنسوؤں کی لڑی اس میں جاری نہیں اس کا پھل کب ملے اور امرت بنے صبر کے ہم سفر کی سواری نہیں مل نہیں پارہا ہوں میں تجھ سے کہیں کون کہتا ہے یہ وقت بھاری نہیں تو ...

Read More »