Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » 2016 » September (page 3)

Monthly Archives: September 2016

ہم شہر کی خفیہ جیب میں گر جاتے ہیں ۔۔۔ زاہد امروز

اِن شہروں میں زندگیاں تو مرغی کاڈربہ ہیں دن، دانوں کا ایک کٹورا جس کوجیون بھرہم ختم نہیں کر سکتے ڈربے سے باہر بھی توپھندے ہیں! حِرص بھری بلیوں کے بھوک زدہ چیلوں کے! سورج کے پیچھے اُکھڑے پلستر کی دیوار سا بادل ہے اُس کے آگے مسجد کے مینار ہیں یا پھر ٹیلی فون کے ٹاور اُس سے آگے ...

Read More »

مست سمو ۔۔۔ امداد حسینی

میں نے مست کی سمو کو دیکھا اور اُس کو اُس کے سانولے رنگ اور اُس کی ’’ لوڈ‘‘ سے پہچانا لیکن ہاں اِس جنم میں اس کے بال تراشے ہوئے تھے جس طرح ’’لوڈ‘‘ لفظ کا کوئی متبادل نہیں، اُس طرح ’’سمو‘‘ کا بھی کوئی متبادل نہیں! اور سمو اُسی لوڈ سے آرہی تھی اپنے ’’ مست‘‘ کی اور

Read More »

پیدا کُھزے ۔۔۔ محمد رفیق مغیری بھاگ

کُفر اما ایمان پیدا کُھز ئے گندا شہ انسان پیدا کُھز ئے پروشتاں پھول کُھزااے حذا زوراخیں انسان پیدا کُھز ئے انسانا اشرف کھنغ واسط علم ءِ سامان پیدا کُھز ئے آدم ذات شہ عظیمیں ہستی محمدؐ ذیشان پیدا کھز ئے ھل جزا ءُ لا حسان بدلہ اِلا اِلا حسان پیدا کھز ئے نیکو کاراں پہ جنت نیاما ذواتا أ ...

Read More »

نظم ۔۔۔ وصاف باسط

نوحہءِ مات آج میں اس سے دور جا رہا تھا اسی سے جس نے میری راتوں میں خوابوں کی کیلیں ٹھوکیں میرے بستر کی سلوٹیں اور پیچیدہ کیں میری خوشیوں میں غموں کا اضافہ کیا آج میں اس سے دور جا رہا تھا جس نے مجھے انسان سے بھیڑیا بنادیا اور مجھے دن بہ دن خود کو کھانے کی ریہرسل ...

Read More »

تم عورت سے با ہر نہیں آ سکتے ۔۔۔ سدرہ سحر عمران

تمہا ری آ نکھیں سنبھال سکتی ہیں دنیا بھر کی بے لبا سی اور۔۔۔ تمہارے ہا تھ کی لکیریں منسوب ہو سکتی ہیں فحش اشارے والی با لکو نیو ں سے تم اپنے جسم کے مسئلے پر خدا سے دوبارہ مذاکرات کر سکتے ہو کاش ثواب کے معنوں میں کثرت سے استعمال ہو نے والے مرد ان جملوں میں برتے ...

Read More »

غزل ۔۔۔ افضل مرادؔ

غم کے لہجے کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں میری آنکھوں میں چھبتی ہوئی چوڑیاں زندگی کی کتابوں کے اک باب میں دل کے بستے میں روٹھی ہوئی چوڑیاں ایک رنگوں کا میلہ لگا جاتی ہیں میرے رستے میں ٹوٹی ہوئی چوڑیاں تیرے ہاتھوں کی نرمی سے کِھل جاتی ہے پھول دستے پہ سمٹی ہوئی چوڑیاں رات کے ایک پہر گونجتی ہیں ...

Read More »

غزل ۔۔۔ جمیل ادیب سید

اب قوم پہ ہے نیند کے عالم کا گماں اور غفلت سی ہے پھیلی ہوئی تا حد سماں اور وہ حسِ لطافت جو سجھا دیتی ہے سب کچھ نا پیدا گر ہو تو نہیں ہوتا عیاں اور اک آتشِ پنہاں جو نظر آتی ہے مجھ کو جلتے ہیں خس و خار تو اُٹھتا ہے دھواں اور کون آئے گا سوئے ...

Read More »

نظم سوچتی ہے ۔۔۔ عاصمہ طاہر

نظم میرے اندر سانسیں لیتی ہے مجھے خوبصورت وادیوں کے منظر دکھاتی ہے اور کبھی ورق پلٹ کر کسی اندھیر نگری میں تنہا چھوڑ دیتی ہے نظم میری اداسی ہے وہ اداسی جو میری آنکھوں میں تیرتی ہے جسے دیکھا نہیں جا سکتا نہ ہی محسوس کیا جا سکتا ہے یہ اداسی نظم لکھ لیتی ہے خبر نہیں کیوں نظم ...

Read More »

غزل ۔۔۔ سرکش سندھی / جاوید شیخ

روز ہاتھ میں گْلاب رکھتی ہو دل تو کو ئی لاجواب رکھتی ہو تیری آنکھوں میں شہید ہو جاؤں غضب کا حْسن و شباب رکھتی ہو اگر دیکھنا ہے بے حجاب دیکھو مْنہ پر کس لئے کتاب رکھتی ہو پہلے سرکش نے دیکھا سْنا نہ تھا پیار میں تم حساب رکھتی ہو

Read More »

غزل ۔۔۔ عبدالمجید محور

تو نے جب سے مجھے قربت بخشی جاں بلب زیست کو راحت بخشی دیکھنے والا کیوں نہ ہو تسخیر ایسی رب نے تجھے صورت بخشی توڑ کر آگئے انا اپنی اس قدر مجھ کو فضیلت بخشی تیرا دیوانہ بن کے پھرتا ہوں مجھ کو رسوائی نے شہرت بخشی شکریہ اے غمِ جاناں تیرا مسکرانے کی اجازت بخشی کتنا ممتاز ہوگیا ...

Read More »