Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی (page 4)

شیرانی رلی

نظم: غیر طبقاتی  ۔۔۔ کاوش عباسی

(۱) معیشت کو طبقاتی سے غیر طبقاتی کرنا ہی بَس حل نہیں لوگوں کو لوگوں کی عادتوں لوگوں کے ذہنوں کو غیرطبقاتی کرنا بھی پیہم ضروری عمل ہے کہ مستقبل انسان کا غیر طبقاتی پیہم عمل سے ہی ہوگا یہ پیہم ، گراں تر ، عمل محض چند اور چْنیدہ عناصر نہیں سارے لوگوں کا ہو گا یہ لمبا سفر ...

Read More »

کشور ناہید

بہانہ سازی اُسے راس آگئی ہے بہت گزرتی رات کہانی سناگئی ہے بہت بڑے سنبھال کے دھویا ہے میں نے زخمیوں کو محبتوں کی یہ آندھی رلاگئی ہے بہت تم اس کو خواب کا تعویز کیوں سمجھتے ہو یہی زمیں تو مرے خواب کھا گئی ہے بہت یہ آسمان بھی چلتا ہے ساتھ ساتھ مرے کہ میری دربدری اس کو ...

Read More »

میرغوث بخش بزنجو کے نام ۔۔۔ اعجاز منگی

بلوچستان کی سرد ہوائیں اب ابھی اس شخص کے سنگ لحد سے لپٹ کر روتی ہیں جس نے گرم دل ٹھنڈے دماغ اور صاف ہاتھوں کے ساتھ سیاست کی!!۔ وہ شخص جو سردار نہیں تھا وہ شخص جوجی ایچ کیو کا جمعدار نہیں تھا وہ شخص جو بلوچستان کا بچہ اور بلوچ قوم کا باپ تھا وہ شخص جو دائیں ...

Read More »

رقیب  ۔۔۔ فیض احمد فیض

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھْلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے ...

Read More »

انسان کی موت کے بعد ۔۔۔ نور محمد شیخ

انسان کی موت کے بعد:۔ اُس کی ، ۔ ساری ذمّے داریاں ختم نہ زندگانی نہ سماج نہ ہنسی خوشی نہ درد ورنج اور نہ ہی ، اقدار ومسائلِ حیات نہ شدید حسّاسیت نہ انتہائی بے حِسی نہ انسان دوستی کے جذبات اور نہ ہی ، انسان دشمنی کے خیالات نہ گھروالوں کے تقاضے نہ زندگانی کی ضرورتیں نہ کوئی ...

Read More »

اے کاش ۔۔۔ ثروت زہرا

اے کاش میں پیمانہ ہوتی جسے تم اپنی مرضی کے ذائقے اور برانڈ سے بھرتے اپنی مرضی کا پانی ملاتے اور اپنی طلب کے مطابق پی کر الٹ کر رکھ دیا کرتے مگر میں تو انسان ہوں صاحب سو کبھی کبھار چھلک جاتی ہوں

Read More »

غزل  ۔۔۔ قندیل بدر 

عشق ہے بن واس ہے قیس کی میراث ہے تو میرا وشواس تھا تو میرا وشواس ہے مَیں ضرورت ہوں تری ہاں مجھے احساس ہے ریت پینے سے بجھی لمس ایسی پیاس ہے دل کے ویراں دشت میں دیکھ کتنی گھاس ہے گھٹ رہا ہے دم مرا اس قدر تو پاس ہے میں نے چاہا ہے تجھے کیا تْو اتنا ...

Read More »

آؤ علَم اٹھاؤ ۔۔۔ انیس ہارون

(عاصمہ جہانگیر کے لیے) وہ ہمسفر تھی ، ہم نواتھی روحِ رواں تھی یوں اچانک بیجھڑجائے گی خبر ہی نہ تھی وہ اُس قافلے کا نشان تھی جو جہدِ حق کی علامت ہے جو آبلہ پاہے شکستہ پانہیں جس نے خواب دیکھے ہیں دنیا بدلنے کے تاریخ گواہ ہے دنیا وہی بدلتے ہیں جن کی آنکھوں میں خواب بستے ہیں ...

Read More »

ہونے کے خواب ۔۔۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی

سُنا ہے دور،بہت دور، بہت فاصلے پر گھنے اندھیروں کے جنگل کے پار گرجائیں تو ایک چشمہ ہے ایسا، کہ جس کے پانی کا بس ایک گھونٹ پیئے جو امر وہ ہوجائے۔ ۔۔۔۔ گراِس جہان سے (جو جھوٹ اور دھوکا ہے) چلے بھی جائیں تو کیا ہے پلٹ کے آئیں گے نئے بدن میں نیا نام اور روپ لیے ۔۔۔ ...

Read More »

شبیر عومر

پرشتگیں ماحیال چادرا بستگاں زندئے رنگ و جمال چادرا بستگاں تئی شوہازا پدا مرچی سرگپتگاں عشق ئے زپتیں مثال چادرا بستگاں اے کپوتاں دگہ منزلے آ براں چار ہشکیں چنال چادرا بستاں دوشی یار ئے شگانا جگر آس دات تئی وڑیں ما شگال چادرا بستگاں کبرئے شکا منیگ نبشتہ کن ات شعر ئے یک و دوگال چادرا بستگاں زند مانی ...

Read More »