Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی (page 3)

شیرانی رلی

درتہ پچّ  ۔۔۔ عبداللہ شوہازؔ 

در نہ بُتکگ چلّگانی موسمانی لنٹ حشک انت بو چہ میتاپ ئے دریگاں رتکگ انت ہاکاں ہوار انت (کہ)ماہل ئے جیگ ئے کلمپر درتہ پچّیں یک فقیریں بے رعائیں مردمے آ سستہ آساں دور داتگ درتہ پچّ !۔ ساہکندنا انت وہدئے زوراکیں حداہاں پُر گوں ہاکاں رُپتگ انت او، درتہ پچّ ئے ہردو چمّاں مان ریتک انت حکم بیتگ !۔ ...

Read More »

تعمیل وفا کا عہد نامہ ۔۔۔ زہرا نگاہ

خاموش ہیں صاحبان منصف حیران ہیں رہبران مخلص لاشوں کا کوئی وطن نہیں ہے مردوں کی کوئی زباں نہیں ہے اجڑے ہوئے گھر کی خامشی میں نوحے کی ندائیں ایک سی ہیں ماتم کا ہے لہجہ ایک جیسا رونے کی صدائیں ایک سی ہیں آنکھوں کی سیاہیاں ہیں مدھم پلکوں کی قلم ہے پارہ پارہ خوناب ہوا ہے مصحف رخ ...

Read More »

مائے ۔۔۔ مدثر بھارا

(شاہ حسین دے ناں۔ جنہاں نے ماں دے ناں کافی لکھ کے اپنی امڑی نوں امر کردتا) غماں دے نے حال مائے لنگھے کنے سال مائے اکھیاں توں دور ہوئے ہجراں دے نال مائے اپنے شریک ہوئے ویکھے نی کمال مائے وصلاں نے بال دِتے آپ ہن پال مائے متاں میرا خان ہووے پاکوئی فال مائے عمراں تے کجھ نئیں ...

Read More »

غزل  ۔۔۔ وصاف باسط

پانیوں میں بکھر گئی ہوگی جل پری جل سے ڈر گئی ہوگی دھند کے پار کس کو دکھتا ہے کون جانے کدھر گئی ہوگی میں اسے دیکھ تک نہیں سکتا وہ مرے ساتھ مر گئی ہوگی رات سے اس کو خوف آتا ہے شام سے پہلے گھر گئی ہوگی وہ تو مضبوط تھی۔۔۔ بہت مضبوط خودکشی کیسے کر گئی ہوگی

Read More »

غزل ۔۔۔ شاہدہ سحر

وہ یہیں کہیں پر ہے یا جہاں سے باہر ہے ڈھونڈتی ہوں میں جس کو وہ گماں سے باہر ہے اسکی وسعتیں کوئی کیسے جان سکتا ہے جو زمیں کے اندر اور آسماں سے باہر ہے فکر اور فن اسکا ہے ہر اک سخن اسکا وہ مکان والا جو لا مکاں سے باہر ہے خواب میں حقیقت میں درد میں ...

Read More »

دھرم کی گلوبلائزیشن ۔۔۔ کشور ناہید

میں ٹی وی براہ راست نہیں آئینے میں دیکھتی ہوں میرے آئینے میں بال آیا ہوا ہے اس لیے کہیں کسی کی آنکھ کہیں پھٹے ہونٹ اور کبھی کچھ بھی نظر نہیں آتا کہ آئینہ دھندلا میری طرح پرانا ہوگیا ہے۔ پھر بھی راکنگ چیئر پر بیٹھ کر بند آنکھوں کے ذریعے سنائی دینے والی آوازوں کو شناخت کرنے کی ...

Read More »

کشور ناہید

کانٹوں میں رہے ، پھر بھی محبت نہیں بھولی دیوار کو در کرنے کی عادت نہیں بھولی کیا کھاتے زمیں زاد ہوئے اور نہیں بھی محکوم رہے ، پھر بھی بغاوت نہیں بھولی سب بھول گئے پیاس بجھانے کے قرینے تھا اوک میں پانی ، یہ روایت نہیں بھولی گم ہوکے کسی شہر کی ویران گلی میں دیواروں سے باتوں ...

Read More »

اے شریف انسانو! ۔۔۔۔ ساحر لدھیانوی

خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے ...

Read More »

معمول ۔۔۔ سلیم شہزاد 

اْس سے آواز کا سلسلہ منقطع ہی رہا فرطِ حیرت میں گم اْس کو چْپ چاپ تکتے رہے وہ سنورتا رہا جانے کتنے ہی رنگوں میں ڈھلتا رہا مختصر ’’ وہ بدلتا رہا ‘‘ ہم بہت دیر گریہ کیے سر بہ سجدہ ہوئے ، ضِد کیے ایڑیاں بھی رگڑتے رہے اور اثر نہ ہوا تِشنگی ۔۔۔. تیرا شکوہ بجا کوئی ...

Read More »

بے سبب مشورہ ۔۔۔ کشور ناہید

میرے اندر جو کلبلاہٹ ہے وہ مجھے مزید کھوکھلا کر رہی ہے مجھے پُر اعتماد ہونے کے لیے مزید اکسارہی ہے مگر اب اعتماد کس خواہش کے لیے وہ جو تمام رشتے تھے وہ توبے عکس ہوگئے ہیں وہ جو وطن سے تو قعات تھیں وہ خاک ہوگئی ہیں زن اور زر کے عفریت غیرت کو ادھیڑ پھینکنے کو قبروں ...

Read More »