Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی (page 3)

شیرانی رلی

زاہدہ رئیس راجی

آج کا بچہّ زندگی موت بن گئی یا پھر موت کا خوف مر گیا ہوگا گولیوں کی صدا ئیں سُن کر بھی ماں کے آنچل میں اب نہیں چھپتا مقبروں سے یا مرتے انساں سے اب کے بچّے کو ڈر نہیں لگتا موت سے زندگی جُدا کرتا حاشیہ بھی تو مٹ گیا ہوگا؟ دیکھ لو کس قدر بہادر ہے اگلے ...

Read More »

رضوان فاخر

ایر رچ ایر رچ! ۔ چہ قدحے آایر رچ چو خمار شنگ بو چو بہار ایر رچ ایر رچ ماں جان ئے ہورکیں قدح آ کہ زردے ہشکیں کہچرانی بے قراریں خرگوشک پہ بہارے ءَ زراں اے تیوگیں ندارگانی آسک چرتگیں بدن پہ خمارے ءَ زراں ایر رچ!۔ وسوسوں کے شہر میں اک شام لگتی ہے راستوں پہ ہر اک ...

Read More »

روِش ندیم

سوچوں کے ہینگر پہ ٹنگی آنکھیں  انا میکا!ذرادیکھو کہ سورج کتنے جنموں سے مری گلیوں میں ٹھہرا ہے مگر ایسی سیاہی تو کبھی دیکھی نہیں ہو گی سیہ سورج ، سیہ گندم، سیہ آنسو، سیہ پرچم ، سیہ اوراق بھی تم نے کبھی دیکھے نہیں ہوں گے انامیکا! جنم بھومی ہے یہ میری جہاں عیسیٰ صلیبِ شہر کا ہمزاد ہو ...

Read More »

ذی شان ساحل

مشرق  جب سورج مغرب میں ڈوبنے لگتا ہے ہماری کوشش ہوتی ہے تھوڑی روشنی کی خاطر اسے ایسا کرنے سے روک دیا جائے شام ہونے سے پہلے ہم سمندر کے کنارے جا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور سورج کے آنے کا انتظار کرتے ہیں وہ آہستہ آہستہ آتا ہے اور ہمیں جُل دے کر سمندر میں ڈوب جاتا ہے ہم ...

Read More »

ذولفقار یوسف

نظم مرے بدن پر ہے بوجھ اتنا کہ انگ سارے چٹخ گئے ہیں میں دھار مِک بھاوناؤں کا اک وِشال پتھر اٹھاکے صدیوں سے پھر رہا ہوں برمُودا مُثلث  جذبے سارے گم گشتہ ہیں لوگوں کی گویائی کم ہے آنکھوں کے دپپک روشن ہیں پر ان کی بینائی گم ہے ظلم وستم کی ارزانی ہے مصنف کا انصاف بھی گم ...

Read More »

ذکیہ جمالی

منظر نامہ آنکھوں میں کچھ خواب اُترے ہیں تخیل نے کچھ منظر بُنے ہیں اک انجان ڈگر ہے اور میں ہوں شاید کوئی خواب فکر ہے اور میں ہوں شش جہت خوشبو پھیلی ہے عشق پیچاں کے پھول کھلے ہیں دھرتی ماں کے دامن میں کاسنی شگوفے پھوٹے ہیں پاکیزہ سوچوں کے گلاب کھلے ہیں!۔ خواب نگر کی باڑ سے ...

Read More »

دانیال طریر

من تو شدم۔۔ کتنے دن سے ہونٹ صحرا کی سلگتی ریت کے اوپر پڑے ہیں جل رہے ہیں اب انہیں جھرنے پہ رکھ دو کھردری بوری پہ دیکھو جسم کب سے چھل رہا ہے روئی لے کر برف کی اک نرم سا بستر بنادو کتنی مدت سے نہیں سویا سلا دو روح کانٹے دار جھاڑی میں کہیں اٹکی ہوئی ہے ...

Read More »

ڈاکٹر منیر رئیسانی

PARASITE CLASS بستی بستی نام ہے جن کا جن کے چرچے قریہ قریہ جن کے گرد بنے ہیں ہالے تیز سنہرے رنگوں والے جن کے پاس ہیں جال نرالے مقناطیسی دھاگوں والے جن کے پاس طلسم ہیں ایسے جو بھی ان کی جانب دیکھے بس وہ ان کی جانب دیکھے جو بھی دیکھ وہ یہ بولے اور نہیں ہیں ان ...

Read More »

عصمت دُرانی

خواب دھمم دھمام ڈھول پر وہ دلنواز موگری برس پڑی تو خلق کے ہجوم ناچنے لگے فضائیں ناچنے لگیں ہوائیں ناچنے لگیں وہ جوش ، وہ خروش رونما ہوا کہ عرش سے زمیں کو جھانکتے ہوئے نجوم ناچنے لگے مگر یہ خواب دیر تک چلا نہیں (سراب جوئے آب میں ڈھلا نہیں) کہ دفعتاً نگاہ میں وہ دلنواز موگری چمک ...

Read More »

خیام ثناء

انسانیت  میرے چاروں طرف میں ہوں!۔ مگر کچھ اجنبی ٹوٹے ہوئے چہرے، پرانے لوگ ، اور انجان، ان دیکھے سے سایے مجھ کو پیار میں نجانے کیوں؟ عزیزوں،خون کے رشتوں سے زیادہ آج کل مجھ کو بھکاری ، اور وہ مزدور مجھ کو اپنے لگتے ہیں!۔ میں جب بھی اُن سے ملتا ہوں میرے اندر کوئی چلانے لگتا ہے نگاہوں ...

Read More »