Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی (page 10)

شیرانی رلی

ولادیمیر ایلیچ لینن ۔۔۔ مایا کوفسکی/ شاہ محمدمری

ہر قوم و ہر ڈیھئے عوام جواں واقفیں ژہ لینن ئے زیندھا، کہ آں گوئنڈ ث او ، بالکل کستر اَث۔ سنگت تئی زند ئے حوال، بایو گرافی دراژ تریں، ۔۔۔۔۔۔ تہ نوخی لکھے جی، گڑہ گڑدی اغدہ لکھے جی، گڑدی اغدہ پولے جی دیری، بزاں دو قرن پیش لینن تئی بندات بوت اش کں براملئےؔ پیرکا او گؤجانہ.(4 ڈاڈائیں ...

Read More »

ستیم شیوم سندرم ۔۔۔ قندیل بدر 

میں رات کی طرح تاریک اور گھمبیر ہوں میں نے ہزاروں سال رات کی تاریکی کو گھونٹ گھونٹ پیا ہے اب اندر باہر ایک سی ہوں چاہوں تو تاریکی کے سمندر لمحوں میں اپنے اندر اتار لوں یا باہر انڈیل دوں میں تاریکی سے مزید تاریکی کو جنم دینے والی تھی کہ اچانک آسمان پر سکرپٹ بدل گیا حق نے ...

Read More »

بلوچستان  ۔۔۔ سلیم شہزادکوئٹہ

تناؤ روز بڑھتا جارہا ہے سویرا دیکھے بھی اب تو کئی دن ہوگئے ہیں کئی کردار میرے کھو گئے ہیں کوئی مدت عجب سے حال میں اُلجھے ہوئے ہیں ستارا ، فال میں اُلجھے ہوئے ہیں کسی دیوارِ گریہ سے لگے بیٹھے ہوئے ہیں اور اکثر سوچتے ہیں یہ میرا بویا کب تھا جس کو اب میں کاٹتا ہوں کہا ...

Read More »

موئن جو داڑو کی  ڈانسنگ گرل کے نام ۔۔۔ ریاض تسنیم

مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں تمہاری نسل کیا تھی؟ تمہارے آباؤاجداد کے کارنامے کیا تھے؟ تمہارے آس پاس غلاموں کی زندگی کیسے گزرتی تھی؟ مجھے خبر ہے کہ اس بارے میں ’’ سندھو ‘‘بھی چپ ہے اورتمہارا پیتل کا مجسمہ بھی اے موہن جو دڑو کی رقاصہ !۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تم چاند یا سورج یا ...

Read More »

سکھیاں ۔۔۔ آمنہ ابڑو

گھر کی سب دیواریں اب تو پکی سکھیوں سی لگتی ہیں میں پگلی جب پیتم پیتم۔۔۔ راگ الاپوں تو مسکائیں اور میرے ہر ویاکل پل میں مجھ کو اپنے گلے لگائیں۔۔۔ اپنی پتھرائی آنکھوں سے میرے آنسو پیتی جائیں گھر کی یہ دیواریں اب تو پکی سکھیاں بنتی جائیں

Read More »

وسوسوں کے شہر میں اک شام ۔۔۔ رضوان فاخر

لگتی ہے راستوں پہ ہر اک چاپ اجنبی عفریت ساحلوں پہ اترتے ہیں اس گھڑی کاندھوں پہ ڈالے آتے ہیں سامان اپنا بھوت اک کال سے لرزتی ہوئی ٹیلی فون بوتھ اک خواب سا خمار ہے ہر سو بچھا ہوا ہر کوئی ایک ہاتھ ہے خود سے بڑھا ہوا چُھوٹے ہوئے ہیں سب کے ہی ہاتھوں سے اپنے بھاگ یادوں ...

Read More »

غزل ۔۔۔ رضیہ سبحان

مسامِ جاں میں وحشت مانگتی ہے طبیعت جب محبت مانگتی ہے بڑی عجلت میں رہتی ہے ہمیشہ یہ گردش کب سہولت مانگتی ہے دمِ رخصت جو چھائی ہے کسی کے خموشی ہم سے قیمت مانگتی ہے اْٹھا کر عاشقی سر پر قیامت قیامت در قیامت مانگتی ہے محبت روگ ہے درویش دل کا مرا اشکِ ندامت مانگتی ہے اْٹھا کر ...

Read More »

نسیم سید 

بھور سمے سے دھوپ کے چھپر تلے بیٹھ کے سا نس کی دھوکنی دھونکتے رہنا آس کی مٹی گوڑتے رہنا خواب دراڑیں لیپتے رہنا سیلی سیلی سی یادوں کی تہیں کھولنا، دھوپ لگانا شام پڑے پھر ہنس ہنس کے خود کوسمجھا نا سب اچھا ہے سب کچھ ٹھیک ہے

Read More »

مردہ انگلیوں کی وکٹری  ۔۔۔  سلمیٰ جیلانی 

قبر کی سیاہ تاریکی نے دن کی روشنی کو قتل کر دیا چوہے بلوں سے نکل کر دستاویز کے ساتھ وہ قلم بھی کتر گئے جن سے کبھی سچائی سنہرے لفظ لکھتی تھی انصاف کی دیوی نے مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا انسانیت کی مسخ لاش سے خوں ٹپکنے لگا ...

Read More »

پینٹنگ ۔۔۔۔ محمد طٰہٰ ابراہیم

تْمہیں خبر ہے؟ تمہاری ہِجرت سے کِیا ہْوا ہے؟ ہمارے گھر کی وہ خواب گاہیں جو سْرخ پْھولوں کی بِھینی خْوشبو کی اوٹ لے کر ہماری مرضی کے خواب دِن رات جَن رہی تھیں وہ بانجھ پَن کے جَسِیم سانپوں سے اپنی کْوکھوں کو بھر چْکی ہیں وہ مَر چْکی ہیں! ۔ تْمہیں خَبر ہے؟ ہمارے بِستر، لِحاف، تکیے وہ ...

Read More »