Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی

شیرانی رلی

July, 2020

  • 6 July

    کورا کاغذ! ۔۔۔  امداد حسینی

    (“آصف فرخی“ کے لیے)   وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس کاغذ پر اْس کو کچھ لکھنا تھا کیا لکھنا تھا؟   کوئی نام گام یا کوئی کام   نام کبھی جو لے نہیں پاتے لیکن اْس کا پہلا حرف لکھ لیتے ہیں!۔   یا وہ گام جو ہم سے کبھی کا چھوٹ گیا وہ گلیاں ...

  • 6 July

    دشمن جاں کے لیے۔۔ ۔۔۔ مریم مجید ڈار

    آج کل میری پوروں کی سب جنبشیں۔۔ تیرے دلکش خدوخال گنتے ہوئے۔۔ رنگ، خوشبو لفظ عشق لکھتے ہوئے۔۔۔۔ تجھ کو گنتے ہوئے، تجھ کو چنتے ہوئے۔۔۔۔۔ کینوس پر برش سے ہماری کہانی کے سب ممکنہ نام کہنے لگی ہیں۔۔۔ تیری مغرور آنکھوں کو پینسل کی سیاہی سے اک بار میں ہی مکمل بتانا تو ممکن نہیں۔۔۔ ترے بند ہونٹوں پہ ...

  • 6 July

    ملک الموت سے ایک مکالمہ ۔۔۔ رضوان علی

    کیا تجھے ہے خبر کتنی چپْ کس کے اندر کہاں قید ہے؟ میرے کتنے  نئے روپ  ہیں کتنی سانسیں ابھی چل رہی ہیں مرے  دل کی اس تھاپ پر کتنے چہروں پہ جا کے رکی ہے نظر کتنے پیروں میں ٹہرا ہوا ہے سفر   میں ازل سے ابد تک ہوں پھیلا ہوا میں وجود و عدم  سے کہیں دْور ...

  • 6 July

    میں عورت ہوں ۔۔۔ صبا (راجی)

    زخم دل،اشک اور یہ لب کسں قدر ویران ہوں میں کیا ہوں۔۔۔۔۔؟ کیوں ہوں میں۔۔۔۔۔؟ سخت پریشان ہوں میں پری پیکر ہوں یا بسں نشان کہیں بے سخن، بے کلام ہوں میں کیا ہوں۔۔۔۔۔؟ کیوں ہوں میں۔۔۔۔؟ سخت پریشان ہوں میں… کئی گمنام القاب ہیں پیوست کئی خیال میرے نازاں ہے کیا ایک ضرورت تو نہیں ہوں؟؟ کیا میں فقط ...

  • 6 July

    میں کون ۔۔۔ نیلم احمد بشیر

    کبھی کبھی جب اپنا چہرہ دیکھتی ہوں ڈر جاتی ہوں سوچ میں ہی پڑجاتی ہوں کون ہے میرے روبرو ویران انکھوں والی حسرت جس نے پالی پھر بھی چھب نرالی جس کی مجھے پہچان نہیں شاید دیکھ رکھا ہے کہیں نام ہے کیا۔کیا اس کا پتہ کاٹ رہی بے جرم سزا کون شہر کی رہنے والی کس شہر میں گھر  ...

  • 6 July

    عابد رضا

    ذرا سی بات پہ معتوب ہو گئے ہم لوگ زباں جو کھولی تو مصلوب ہو گئے ہم لوگ   وہ بارگاہِ تمنا، یہ جوشِ رقصِ جنوں قبائیں چاک ھیں مجذوب ہو گئے ہم لوگ   تمام عمر رہے دوستوں میں ہم بدنام جو مر گئے تو بہت خوب ہو گئے ہم لوگ   نہ آیا سامنے کوئی جو بر سرِ ...

  • 6 July

    جوتے ۔۔۔ غزالہ محسن رضوی

    زندگی نام کی فاحشہ کے منہ کو خون لگا ہے یہ بھینٹ چاہتی ہے ایک کنواری کنہیا کی بھینٹ یہ ہی تو صدیوں کی رِیت ہے قحط پڑا ہے اناج کے دیوتا کی آنکھیں لال ہیں بارش کا دیوتا روٹھ گیا ہے باڑھ نے تباہی پھیلائی ہے دریا اُتر نہیں رہا ہے سورج دیوتا قہر ڈھا رہا ہے سارے دیوتا ...

  • 4 July

    دم گھٹتا ہے ۔۔۔  فاطمہ حسن

    ہتھکڑیوں اور طوق سے بڑھ کر بھاری بوجھ گھونٹ رہا ہے دم میرا ماں سانسیں میری روک رہا ہے دم گھٹتا ہے ماں آہ یہ گھٹنا کیوں نہیں ہٹتا صدیوں کے ہر ظلم سے بھاری اس کا گھٹنا میری سانسیں روک رہا ہے آہ مجھے یہ مار رہا ہے ماں میرا دم گھونٹ رہا ہے مرتے مرتے چیخ میری تم ...

  • 4 July

    راز ازل ۔۔۔ سیمیں درانی

    کوئی نہ جانے راز ازل کا کہ، دل جب ماتم کرتا ہے وہ  خوشی کا لبادہ اوڑھے ہنسی کی جھنکارکی چلمن پیچھے بال پھیلائے مانگ میں چاہ کی راکھ سجائے دن رات، آہ و زاری کرتا ہے اس کے بین سن سن گھائل روح کلبلاتی پھرتی ہے پھر  وہ گھائل روح خاموشی سے، آنکھوں کے دریا پہ اپنی پھونک  سے ...

  • 4 July

    بھولنے  تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ۔۔۔  رخسانہ صبا

    یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس غلامی کی فصلیں ہی اگتی رہیں بادباں کرب سے پھڑ ...