Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی

شیرانی رلی

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو جینا بہت اہم جیے جاؤ حصولِ منزل تک جیے جاؤ یہ نہ سوچو: میری زندگانی کب تلک!؟ بس جیے جاؤ ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ بجھتی ہوئی نظر کے ساتھ کم زور جسم وجان کے ساتھ جتنا لکھ سکو، لکھتے رہو جتنا پڑھ سکو ، پڑھتے رہو بس جیے جاؤ غیر مُہذِّب اور ...

Read More »

ہم شاعر ہوتے ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر وحید احمد

ہم پیدا کرتے ہیں ہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیں تو شکلیں بنتی ہیں ہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیں جومٹی تھے وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیں ہم شاعرہوتے ہیں کنعان میں رہتے ہیں جب جلوہ کرتے ہیں تو ششدرانگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیں پھر خون ٹپکتا ہے ، جو ...

Read More »

To And Fro — Qandeel Badar

سلگتا ہے بدن کی راکھ میں اب تک کوئی ایندھن سلگتا ہے دہکتا ہے کبھی انگار بن کر وہ دہکتا ہے اگلتا ہے ابھی اتش فشاں لاوا اگلتا ہے پگھلتا ہے زمیں کی کوکھ میں جاکر پگھلتا ہے بلگتا ہے ابھی اندر کوئی بچہ بلگتا ہے سسکتا ہے ابھی سردی کی راتوں میں وہی سپنا سسکتا ہے بکھر جاتا ہے ...

Read More »

محبت کی کہانی ۔۔۔ سمیرا کیانی

کیا کہوں ان سے جی تو چاہتا ہے کہ بہت کچھ کہوں کچھ اپنی کہوں کچھ ان کی سنوں اتنا تو دل کو ہے یقیں وہ اپنی کہے گا تو ان کا دل ہمہ تن گوش رہے گا پر وہ ان کی آواز سن نہ پائے گا کیونکہ وہ کچھ کہہ ہی نہ پائیں گے میرا منتظر دل منتظر ہی ...

Read More »

سدرہ افضل

نقش گردی میں ڈوبی ہوئی انگلیاں اپنا حق کینوس پر جتا تے ہوئے پینٹ کرتی ہیں کچھ صورتیں جن میں پنہاں ہیں رنگیں مطلب؛ اداسی ، نقاہت ، محبت، خوشی ایک خط میں بتانا مہارت ہے اور یہ مہارت بھری انگلیاں نقش گردی میں ڈوبی ہوئی سوچتی ہیں تو کیا ؟ زندگی کی علامت !۔ علامت کا رنگ ؛ رنگ ...

Read More »

ایک پرانی رسم ۔۔۔افضل مرادؔ 

گاؤں کے جوہڑ سے اکیلی پانی بھرنے جاتی ہوں آتے جاتے نادیدہ آنکھوں سے ڈرتی جاتی ہوں اپنے لرزتے اور الجھتے لہجے سے اماں اباکو باہر کے وحشت کے سب قصے سناتی ہوں شک کی بنا پر تھپڑ گھونسے کھاتی ہوں بھائی کے غصے سے اس کے سرخی مائل آنکھوں سے ڈرجاتی ہوں مشکیزہ رکھ کر پھر جلدی جنگل سے ...

Read More »

غزل ۔۔۔ افضل مرادؔ 

حلقہ ، دار و رسن کے درمیاں پیار ہے دل کے وطن کے درمیاں رہ گیا اک ہاتھ بھر کا فاصلہ اب ہمارے سنگ زن کے درمیاں جانتے ہیں آپ خوشبو ہے سبب پھول کلیوں اور چمن کے درمیاں ان میں تیری یاد کی پرچھائیاں اک سکوں کوہ و دمن کے درمیاں جو ہمیں لے جاتا ہے تیری طرف راستہ ...

Read More »

ولادیمیر ایلیچ لینن ۔۔۔ مایا کوفسکی/ شاہ محمدمری

ہر قوم و ہر ڈیھئے عوام جواں واقفیں ژہ لینن ئے زیندھا، کہ آں گوئنڈ ث او ، بالکل کستر اَث۔ سنگت تئی زند ئے حوال، بایو گرافی دراژ تریں، ۔۔۔۔۔۔ تہ نوخی لکھے جی، گڑہ گڑدی اغدہ لکھے جی، گڑدی اغدہ پولے جی دیری، بزاں دو قرن پیش لینن تئی بندات بوت اش کں براملئےؔ پیرکا او گؤجانہ.(4 ڈاڈائیں ...

Read More »

ستیم شیوم سندرم ۔۔۔ قندیل بدر 

میں رات کی طرح تاریک اور گھمبیر ہوں میں نے ہزاروں سال رات کی تاریکی کو گھونٹ گھونٹ پیا ہے اب اندر باہر ایک سی ہوں چاہوں تو تاریکی کے سمندر لمحوں میں اپنے اندر اتار لوں یا باہر انڈیل دوں میں تاریکی سے مزید تاریکی کو جنم دینے والی تھی کہ اچانک آسمان پر سکرپٹ بدل گیا حق نے ...

Read More »

بلوچستان  ۔۔۔ سلیم شہزادکوئٹہ

تناؤ روز بڑھتا جارہا ہے سویرا دیکھے بھی اب تو کئی دن ہوگئے ہیں کئی کردار میرے کھو گئے ہیں کوئی مدت عجب سے حال میں اُلجھے ہوئے ہیں ستارا ، فال میں اُلجھے ہوئے ہیں کسی دیوارِ گریہ سے لگے بیٹھے ہوئے ہیں اور اکثر سوچتے ہیں یہ میرا بویا کب تھا جس کو اب میں کاٹتا ہوں کہا ...

Read More »