Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ (page 24)

قصہ

کتبہ ۔۔۔۔ غلام عباس

شہر سے کوئی ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر پُر فضا باغوں اور پھلواریوں میں گھر ی ہوئی قریب قریب ایک ہی وضع کی بنی ہوئی عمارتوں کا ایک سلسلہ ہے جو دُور تک پھیلتا چلا گیا ہے ۔ عمارتوں میں کئی چھوٹے بڑے دفتر ہیں جن میں کم و بیش چار ہزار آدمی کام کرتے ہیں۔دن کے وقت اس ...

Read More »

بکاﺅ مال ۔۔۔۔ آدم شیر

”ساتھیو! آپ مجھے ایک موقع دیں۔ میں علاقے کی تقدیر بدل دوں گا۔ گلیاں پکی کرا دوں گا۔ ٹوٹی پھوٹی، گندی میلی سڑکیں میرے بوٹوں کی طرح چم چم کرنے لگیں گی۔ ہسپتال بناﺅں گا جہاں مفت علاج ہوگا۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے کالج بنواﺅں گا۔ بس مجھے ایک بار آزما کے دیکھیں۔ میں کوئی باہر سے نہیں آیا۔ ...

Read More »

شہر کی آگ اور ایک مجذوب کا خواب ۔۔۔۔ فصیح الدّین

ابھی صبح کی اذان میں کچھ دیر باقی تھی ۔ چولہے ابھی ٹھنڈے ہی تھے۔ انسان نیند کی سرحدوں سے غنودگی کے پھاٹک تک آچکے تھے ۔ بس ایک ذان کی آواز سے نیند کی کنڈلی تڑاخ سے لٹک جاتی۔ مو¿ذن شاید ابھی مسجدوں میں گرم پانی کے غرارے کر رہے ہوں گے۔ یہ وقت مسلمانوں کے جاگنے اور عاشق ...

Read More »

کوشش سی ۔۔۔ طاہرہ اقبال

اس عشق کی نوعیت فرق تھی۔ یہ عشق دو مخالف جنس کے حسن و محبت کا بے اختیار اظہار نہ تھا ، بلکہ دو اہلیتوں اور ذہانتوں کے ٹکراﺅ کا فطری ردِّ عمل تھا۔ ایسا ٹکراﺅ جو دشمن بنا دیتا ہے یا پھر دوست ۔ جوں جوں یونیورسٹی میں اِس عشق کے چرچے پھیل رہے تھے، اس کی توجیہات بھی ...

Read More »

تابوت ساز ۔۔۔ عابد میر

دکان کا مرکزی دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ ہاتھ میں پکڑا ہو ا اخبار اس نے دروازے کی دائیں جانب استقبالیہ کی میز پہ رکھا۔ اس میز کے نچلے کونے میں پڑا ہوا ایک کپڑا اٹھایا۔منہ میں کچھ آیات بڑبڑاتا ہوا ،اسی کپڑے سے تابوتوں کی گرد جھاڑنے لگا۔درجن بھر تابوں پہ کپڑا لگا چکا تو ایک بوتل ...

Read More »

کھلے پنجرے کا قیدی ۔۔۔ آدم شیر

”یہ موت کا گولا ہے یا پنجرہ ، ایک بہت بڑا پنجرہ، میں نہیں جانتا۔ ایک بار مجھے محسوس ہوا کہ یہ موت کا گول گول بڑا گولا ہے جس میں مَیں موٹرسائیکل چلا رہا ہوں۔ کبھی گھڑی کی سوئی کی طرح دائیں سے بائیں گھوم رہا ہوں اور کبھی موٹرسائیکل کو آڑھا ترچھا بھگا رہا ہوں۔ یوں اوپر نیچے ...

Read More »

کچرا چُننے والے ۔۔۔ اقبال خورشید

یہ اُس انتہائی غیراہم المیے کی رُوداد ہے، جس نے میرے طرز زیست کو یک سر بدل دیا! کچرا چُننے والے باپ بیٹے کے بہیمانہ قتل کو ایک معمول کا واقعہ خیال کرتے ہوئے اُس یخ بستہ شام تو مَیں اپنی غیرضروری مصروفیات ہی میں جُٹا رہا، لیکن ٹھیک چار روز بعد، یک دم گلی کے نکڑ پر وقوع پذیر ...

Read More »

تین کلومیٹر روڈ ۔۔۔ انور شیخ/ ننگر چنا

انکوائری افسر اللہ رکھا کو ایک انکوائری تفویض ہوئی کہ ایک پختہ سڑک جو کہ تین کلومیٹر تعمیر ہونے کے باوجود محلِ وقوعہ پر موجو د ہی نہیں ہے اس کا پتہ لگایا جائے۔ انکوائری افسر اللہ رکھا بمع سٹاف، سفید کاغذات، کاربن پیپرز اور بال پوائنٹس کے ، تحقیقات کرنے نکل کھڑا ہوا اور پہنچ گیا محکمہ تعمیراتِ سڑک ...

Read More »

صبح کی اذانوں تک ۔۔۔ محسن ایوب

رات کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی چھا ئی ہوئی تھی۔ گھڑیال کی سوئی معمول سے کچھ زیادہ تیزی میں وقت کو سر کر رہی تھی۔ سردیوں کی ہلکی ہلکی سی ہوا پورے گاﺅں والوں کو ٹھنڈی ٹھنڈی تھپکیاں دیتے ہوئے چین سے سلارہی تھی۔ میں معمول کے مطابق کرسی پر بیٹھا تھا۔لیکن آج ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ذہن کی ...

Read More »

سونے میں اُگی بھوک ۔۔۔ آغا گل

الیکشن کے ہارنے کے بعد سے الحاج میر پاسوند خاں اپنے بیٹے ڈاکٹر شیر دل کی تجویز کو سنجیدگی سے لینے لگا۔ اپنی مقبولیت کے لئے قریب کے قبیلے سے جھگڑا کیا اور اپنے قبیلے کو مدد کے لےے پکارا۔ قبرستان میں ایک نیا مزار بنا کر اس پہ متولی بٹھادیا۔ لوگ مزار پر آنے لگے۔ جہاں پاسوند نے سبیل ...

Read More »