Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » Javed Iqbal (page 5)

Javed Iqbal

سیاسی کارکن اور مایوسی؟

ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے سیاسی احباب کومایوسی میں ،سماج کے سکوت اور جمود کی شکایتیں کرتے سنتے دیکھتے ہیں ۔ اور وہ سچ کہتے ہیں ۔ آپ سو سال قبل انگریزوں کے خلاف بلوچ مبارزین کے رپورٹر شاعر رحم علی کا سماج دیکھیں ، اور آج کی حالت دیکھیں ایک صدی میں سماج سیاسی طور پر ایک ملی ...

Read More »

شاکر شجاع آبادی

اے ہوا توں ونج کے آکھیں میڈے سونہڑیں یار کوں کوئی دوا تاں ڈے ونجیں ہا عشق دے بیمار کوں کالے بدلاں دے وچوں سئیں بجلی دا چمکار ہے کہیں طرح تاں آبچا ونج ریت دی دیوار کوں کیندی بکری کون پالے ہے وناداں دا اَکھانڑ سونہیں وی اَنڑ سُو نہیں بنڑ گن ڈیکھ کے لاچار کوں تیڈے وعدے نت ...

Read More »

شاعری ۔۔۔۔ فاطمہ حسن

کیسا لاوا ہے یہ پھوٹتی اور اُمڈتی ہوئی تہ سے احساس کی کچھ اُلجھتی ہوئی سانس سے اور چٹختے ہوئے میرے جذبات سے ڈھالتی شکل میں ایک بے شکل احساس کو دیوتا اِک بناتی ہوئی یہ مری شاعری

Read More »

غزل ۔۔۔ شجاعت سحر جمالی

زندگیشتہ شزا بہار شتہ مے دلے زرتھو کھے قرار شتہ مارا ہچ شے نہ وش بی پرتو ہر خوشی تئی پجی آ یار شتہ سختیں موسم جدائی ئے موسم زیندا کشتو بکند مار شتہ ہم گورا نند دلئے گپے جن تئی شمشتو منا تھوار شتہ دیر چھے بیزگاں شرابی چم مے چمیں لیزو کل خمار شتہ چے رنگیں آفتیں چمن ...

Read More »

قفس کا بلبل ۔۔۔۔ فائزہ امام آسکانی

قفس کے بُلبل کی آرزو ہے کھلی فضاؤں میں سانس لینا بلند وبالا عمارتوں سے بہت بلند تر اُن آسمانوں کو چھو کے آنا اُن لہلہاتے سنہرے کھیتوں سے رزق لینا اُس ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کو چھونا اور گلے لگانا درختوں پہ تنکا تنکا جوڑے گھونسلے بنانا صبح شبنم کی تشنگی کو گھونٹ گھونٹوں سے یوں مٹانا کہ اس میں ...

Read More »

غزل ۔۔۔۔ ظہیر مشتاق

دیکھا نہیں ہے آنکھ نے کچھ بھی سوائے خواب اور خواب بھی نئے نہیں دیکھے دکھائے خواب راتوں کی خاک چھاننے والوں سے تجھ کو کیا تیرے تو پورے ہو گئے بیٹھے بٹھائے خواب تعبیر وہ بھی بانٹتے پھرتے ہیں شہر میں دیکھی نہیں جنہوں نے کبھی شکل ہائے خواب پیشِ نظر ہے تیرگی اور ایسی تیرگی منظر تو دور ...

Read More »

مجھے پناہ دو ۔۔۔۔ علی داوودی/احمد شہریار

بارش برستی ہے گرما گرم اور موسلادھار بیروت بارش کے نیچے ایک سخت جان محبوبہ ہے مجھے پناہ دو، مجھے پناہ دو مجھے پناہ دو بمب کی رات میں مجھے پناہ دو راکٹوں کی بارش میں مجھے پناہ دو میری محبوبہ! چھتریاں چھلنی ہوچکی ہیں!

Read More »

اک عام سی عورت ۔۔۔۔ حاجرہ بانو

میں کون ہوں؟کیا ہوں۔۔۔ یہ کیسی الجھن ہے۔۔۔ جسیسلھجا نہیں سکتی۔۔۔ میں سمندر ہوں تو لہروں میں بہہ کیوں نہیں جاتی میں جنوں ہوں تودیوانگی سر کیوں نہیں چڑھتی میں روح ہوں تو جسم سے نجات کیوں نہیں پاتی میں شام ہوں تو سائے میں ڈھل کیوں نہیں جاتی میں انسان ہوں تو ڈرتی ہوں انسانی روپ میں چھپے ان ...

Read More »