Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » Javed Iqbal (page 4)

Javed Iqbal

غزل ۔۔۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی

شہر نو اطوار تیری خامشی بھی ہاؤ ہو خواہشوں کا رقص جاری،لمحہ لمحہ چار سو   اک مسلسل جنگ ہے جو لڑ رہے ہیں خاکزاد لفظ لفظ اور گیت گیت اور، دور دور اور دوبدو   جو بھی سوچا اور چاہا اس کو کرتی ہے بیاں چشم ولب کی خامشی اور چشم ولب کی گفتگو   جسم کا ہر ایک ...

Read More »

قید تنہائی ۔۔۔ ثروت زہرا

میں اک ساعت نم گزیدہ  کی کھونٹی پہ ٹانگی گئی ہوں خرابے کی صورت مرے آنکھ  کے منعکس آئینوں میں گھری یک بہ یک بے تکاں رقص کرنے لگی ہے سوالی کتابیں، جوابی نگا ہیں مرے کتب خانے کے چپ کے دہانوں میں پاٹی گئی ہیں مرے ہم سبق. نطق  تو بول دے                               کہ خموشی کی کثرت سے وحدت خفا ...

Read More »

محراب ۔۔۔ سیمیں درانی

دیوتابپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں کالی جبینیں،ناتریشیدا بال اپنے اپنے شبدوں کی تسبیحاں کرتے دندناتے چوڑی چھاتیاں لیے تکبر کے خمیر میں گندھے فتووں کی تلاش میں کوشاں ادھر تو جبیں موحد ہے دل جھکتا نہیں روح تڑپتی نہیں قدم مستقیم ہیں ہتھیلیاں سلی ہوئی۔ مگر وہ دیوتا اپنی بدبوگار غلیظ بغلوں میں اپنے بنائے کبیرہ و،صغیرہ اعمال نامے لیے کہ۔جن ...

Read More »

محبت مار دیتی ہے ۔۔۔ زرغونہ خالد

بہت پہلے سنا میں نے محبت مار دیتی ہے توکھل کے ہنس پڑی یک دم بھلا ایسا بھی ہوتا ہے؟؟ کبھی ایسا بھی ہوگا کیا؟ محبت مار سکتی ہے جو جینے کی اک آس ہوتی ہے وہ کیسے مار سکتی ہے؟ مگر جب پھر مدتوں بعد اک ایسا سانحہ گزرا تو ہوا احساس تب مجھ کو میں ہنس دی تھی ...

Read More »

سعید اختر مزاری

چھم دہ انڑزی نیاں سوزاں شہ دل دہ زہیر نئیں تھئی گنوخیں عاشقا را نام دہ تھئی گیر نئیں گڑدغاں ہرو شہ راہا تھؤ نواں بدنام بئے ماں تھرا پہریزغاں تھئی لوغ اکھر دیر نئیں کل نہ ایں کہ تھانرگا تھا چیرثا سینغ منی گندغاں من دہ تھئی دستاں کمان و تھیر نئیں ریش مئی کلیں سفیزاں لٹھ زورا جزغاں ...

Read More »

عابد رضا

سنہری دھوپ کے پروردگار، دھند کے پار کوئی صحیفہ یہاں بھی اتار، دھند کے پار   ہماری آنکھ میں اب تک دھواں ہے خوابوں کا کہ جل بجھے ہیں ستارے ھزار، دھند کے پار   یہیں کہیں تھا وہ جادو نگر، پری زادی! اڑن کھٹولا یہیں پر اتار، دھند کے پار   رکا ہے وقت یہاں جیسے کہر دریا پر ...

Read More »

پو ۔۔۔ سبین علی

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا  خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی رہت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام جسموں کے اندر تڑپتی ہے بھٹکتی پھرتی ہے درد سے ...

Read More »

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں ۔۔۔ نسیم سید

تم  خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں  ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور کھانے کے ڈبوں کی صورت دنیا کے سا منے تصویر ...

Read More »

Sangat 1st Page

Read More »

ہوم ورک ۔۔۔ مصطفی مستور/شائستہ درانی

شروع شروع میں سب کچھ بہت دھیرے دھیرے گذرتا تھا۔ہر کام کی جیسے برسوں کی عمر تھی۔جب اپنا ماتھا پونچھنے کے لئے ہاتھ اٹھاتا یوں لگتا گھنٹوں بیت گئے ہوں۔جب  بیٹھتا سوتادوڑتاتو لمبی شامیں تھیں جو ختم ہی نا ہوتیں تھیں۔  گلیاں کتنی طویل ہوا کرتی تھیں۔اور جب درخت پر چڑھتے تھے تو اتنا اونچا لگتا جیسے آسمان تک جا ...

Read More »