Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » Javed Iqbal

Javed Iqbal

ایک اور نظم! ۔۔۔ امداد حسینی

آ بھی جاؤ کہ آج اکیلا ہوں آگئی ہو تو بیٹھ بھی جاؤ اور پھر بیٹھ بھی گئی ہو تم تو کوئی بات بھی کرو مجھ سے کھٹی اِملی سی بات ہو کوئی سندھڑی آم جیسی میٹھی بات تلخ کوئی شراب کی سی بات دودھ سی اْجلی اْجلی کوئی بات اپنے ملبوس جیسی رنگین بات بات وہ بات جو کبھی ...

Read More »

جزیرہ ۔۔۔ قمر ساجد

جزیرہ جو یہاں تھا جاوداں تھا سمندر میں کھڑا تھا ہوا اور ضرب طوفاں سے کبھی لرزا نہیں تھا تھپیڑے اور کٹاو  جسم میں گھستے جگہ پانے کی سازش میں سمندر کے شریک کار ہوتے جزیرہ سازشوں سے بھی کبھی بکھرا نہیں تھا فلک کی دشمنی سہتا جزیرہ بے اماں طیور اور بھٹکے ہووں کا آخری مسکن رہا تھا جزیرہ ...

Read More »

زیوروں کے بوجھ تلے ۔۔۔ ثروت زہرا

میں تو تمھارے ہمراہ چلی مگر زمانے نے مجھے نتھ کی جگہ ہالا پہنایا وقت کی باگ کا جھمکوں جھالوں  کی جگہ وزنی سمجھوتے لٹکائے ست لڑوں کی جگہ انتظار کا طوق پہنایا پائلوں کے بدلے مجبوریوں کی بیڑیاں   باند ھیں اوڑھنیوں کی جگہ تمازت اوڑھنا سکھائی لمس کی جگہ پیاس سجانا سکھائی تگڑیوں کی جگہ پوروں کے قتل کی ...

Read More »

فنا

شاعر: مہدی مظاہری ترجمہ:احمد شہریار   جاننے کے لیے مرنا ضروری ہے مرنے کے لیے جاننا تم مرے نہیں تو کیا سمجھے؟ اور مرگئے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں؟  

Read More »

ماضی کی ناف ۔۔۔  سمیرا قریشی

ہم نے بچوں کے ماضی کی ناف کاٹ کر موئن جو دڑو میں دفن کر دی اور انہیں عرب میں اگے کجھور کے پتوں کا پوتڑا پہنا دیا ہم نے موئن جو دڑو کی کھدائی کے فنڈ کی عربی تسبحیاں اور عربی مصلے خریدے مبادا بچے اپنی کٹی ناف کے ساتھ رقص کرتے کرتے پاؤں کی تھاپ سے موئن جو ...

Read More »

صائمہ خان۔ملتان

سنگتوں کی محفل میں موتیوں کی مالا ہیں   کچھ غزال آنکھیں ہیں باکمال باتیں ہیں   علم کی کمانیں ہیں درجنوں مثالیں ہیں   شاعروں ادیبوں کی نِت نئی کتابیں ہیں   جُگنوؤں کی ہیں شمعیں ہر طرف اُجالے ہیں   روشنی کے دریاہیں کچھ عظیم ڈھالیں ہیں

Read More »

سرمدی آگ تھی  ۔۔۔ نسیم سید

سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا تی ہو موْ بہ موْرچ گئی سوچ کا حرف کا نظم ...

Read More »

گلزار

مجھے کاجل!۔ وہ فرینچ ٹوسٹ اور کافی  پہ مرتی تھی ، اور میں ادرک کی چائے پہ!۔   اسے نائٹ کلب پسند تھے ، مجھے رات کی شانت سڑکیں!۔   شانت لوگ مرے ہوئے لگتے تھے اسے ، مجھے شانت رہ کر اسے سننا پسند تھا!۔   لیکھک (رائٹر) بورنگ لگتے تھے اسے ، پر مجھے منٹوں دیکھا کرتی جب ...

Read More »

سپردگی ۔۔۔ مصطفی زیدی

میں ترے راگ سے اس طرح بھرا ہوں جیسے کوئی چھیڑے تو میں اک نغمہِ عرفاں بن جاؤں   ذہن ہر وقت ستاروں میں رہا کرتا ہے کیا عجب میں بھی کوئی کرمکِ حیراں بن جاؤں   رازِ بستہ کو نشاناتِ خفی میں پڑھ لوں واقفِ صورتِ ارواحِ بزرگاں بن جاؤں   دیکھنا اوجِ محبّت کہ زمیں کے اوپر ایسے ...

Read More »

اک بدصورت نظم ۔۔۔ نیلم احمد بشیر

لال سوہا جوڑا اسکے تن پہ تھا ماتھے کو سستے پیتل سے داغا گیا تو دھواں اٹھا آنسو بہہ رہے تھے حیرانی بھری انکھوں سے کومل گلے سے نکلتے تھے خوف میں لتھڑے ہوئے سُر نہ وہ کوی مہ وش تھی نہ اک حسین اپسرا ابھی تو وہ عورت بھی نہ بن پائی تھی اک گڈی۔۔گڈ یاں پٹولے کھیلتی ہوئی ...

Read More »