کہانی

دانہ جلا کر وقت دیکھتا ہوں

چہرہ کھڑکی سے باہر۔ سبز جھنڈی ہوا میں پھڑپھڑاتی نظر آرہی ہے۔’’کُو…. چھک چھک ….کُو…کُو…‘‘ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی ہے۔میں چہرہ اندر کرکے کھڑکی بند کردیتا ہوں۔سردی کا احساس۔ مفلرکھینچ کرکانوں پرباندھ دیتاہوں۔سگریٹ جلاکر دانہ کی روشنی میں کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوں۔ڈیڑھ بجے ہیں۔سوچتا ...

مزید پڑھیں »

لاٹری

دن بڑے اداس تھے۔ راتیں بھی سنسان تھیں۔ میں روٹین کی زندگی سے عاجزآ چکی تھی۔ اچانک ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ایک صاحب نے کہا مبارک باد آپ کی لاٹری نکلی ہے۔میری لاٹری۔۔۔۔؟ میں پریشان پہلے حیران بعد میں ہوئی۔ جی جی! آپ نے ایک دفعہ ہماری پراڈکٹ خریدی ...

مزید پڑھیں »

مائخان

آسمان پر غروبِ آفتاب کی زردی نے ایک عجیب اداسی پھیلا دی تھی۔ سمند ر میں چلتے چلتے وہ کافی دور نکل گئی تھی۔لہریں جب اس کے پاؤں سے ٹکرا کے مڑتیں تو ایک لہر سی اس کے دل سے بھی آ ٹکراتی اور سمندر کی لہروں میں گم ہو ...

مزید پڑھیں »

پوہیں ناپوہ

پہوالانی شنزار, مالانی ٹلو آنی وشیں آواز۔۔۔ شہے شہے۔۔ٹنگ ٹنگ۔۔۔ منی چم گیست سالا رند مرشی صحو ا بانگو بانگا کھلنت۔ گوش اکھر سالا رندا ہمے وشیں آوازاں اشکونغئے ثنت۔ دل نہ گوشغیں کہ ہمے آواز کھٹاں نہ کہ بانگو آنی بانگ آہنجاماں۔۔۔ اکہر سالا رندا وثی وطن او وثی ...

مزید پڑھیں »

ہڑتال

نیپلزا ٹرام ئے کارندہاں ہڑتال کتگ ات ۔ ریویرادی کیایا آ چے سرا تا چا سرا ہشکیں کنڈیکٹر ، ڈرائیور و اوشتاتگیں ٹراما ابید دگہ ہچ گندگا نیاتک ۔ وشدل و گپّوئیں نیپلزی آنی یک مزنیں مچّی یے پیازادیلاویتوریا آ مچّ ات ۔ چہ ہمیشانی سر ئے برزی آ و ...

مزید پڑھیں »

کھڑکی

شہر میں بلکہ دنیا میں پھیلی وبا کی وجہ سے آج کل میں کمرے میں بند ہوں۔ میرے باہر کی دنیا بس ایک بڑی سی کھڑکی سے نظر آتی ہے جو گھر کے لان کی طرف کھلتی ہے۔ اس کھڑکی کو پتا نہیں کیوں فرینچ ونڈو کہا جاتا ہے۔ شاید ...

مزید پڑھیں »

شام ڈھلے

اب تو عادت سی بن گئی ہے۔ میں شام ڈھلتے ہی لارنس باغ کی سیر کو نکل جاتا ہوں۔ لارنس مجھے سحر زدہ کر دیتا ہے۔ تازہ ہوا، خوشگوار فضا، قدیم، سرسبز، خوبصورت، شاہانہ انداز میں ایستادہ وہ درخت مجھے ہر شام متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور پھر ...

مزید پڑھیں »

دَلّی

وہ رات دیر گئے گھر آیا تو اس کی تھکن دیکھ کر بیوی سب سمجھ گئی۔ فوراً بولی ”آپ ابھی نہائیں گے یا بعد میں؟ گیزر آن ہے ویسے تو، آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔“ اس نے کھانے سے انکار کر دیا اور بستر پر جا پڑا۔ اور کچھ ...

مزید پڑھیں »

امیج

میرا کوئی امیج نہیں۔ میں کسی وقت، کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔”، اس نے اپنی ہی کہی ہوئی بات کو دہرایا۔ رات تین بجے وہ بے چین ہو کر اٹھی اورکھڑکی کے قریب آ گئی۔ اس کھڑکی سے نظر آنے والے نظارے دن کی روشنی میں اس ...

مزید پڑھیں »