کہانی

قصہ گو

یہ ایک گرم سہ پہر تھی ۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی ۔اگلا سٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا ۔مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی ،ایک اس سے بھی چھوٹی تھی ۔اور ایک چھوٹا لڑکا تھا ۔بچوں کی خالہ / پھوپھی ایک کارنر سیٹ پر ...

مزید پڑھیں »

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »

ٹارچ

"اس بات کے لیے میں ہمیشہ تمھاری ماں کا شکر گزار رہوں گا کہ اس نے تمھیں تیرنا سکھادیا۔” "کیوں؟”، یہ انداز سوالیہ نہیں تھا بلکہ ایک ا حتجاجی کراہ کی صورت میں باہر نکلا۔لوئیسا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس کی ماں کے بارے میں گفتگو کرے۔وہ ...

مزید پڑھیں »

چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ

ہم تعداد میں چھبیس تھے۔چھبیس متحرک مشینیں ایک مکان میں مقید۔ جہاں ہم صبح سے لے کر شام تک بسکٹوں کے لئے میدہ تیار کرتے۔ ہماری زندان نما کوٹھڑی کی کھڑکیاں اینٹوں اور کوڑا کرکٹ سے بھری ہوئی کھائی کی طرف کھلتیں جن کا نصف حصہ آہنی چادر سے ڈھکا ...

مزید پڑھیں »

کایا کلپ

زاہد کی چال ڈھال میں کچھ غیر معمولی نہ تھا۔دھوپ میں سنولایا چہرہ، تیکھے نقوش، مضبوط کاٹھی کا جوان تھا۔ وحید مراد ہیئر سٹائل میں بالوں کی لٹ ماتھے پر ڈالے سارے گھر میں بے تکلفی سے پھرتا تھا۔ رابعہ کے گھر میں سرونٹ کواٹر میں رہتا۔ کچن اور بچے ...

مزید پڑھیں »

چور اور بہادر سپاہی

وہ چور تھا،ایک عقل مند چور۔وہ جب کم سن تھا تب اس نے نابینا گداگروں کے کشکولوں سے پیسے چرائے۔جب جوان ہوا تب اس نے دل چُرائے اور جب بڑھاپے کے قریب ہوا تو اسے پتہ چلا کہ کہیں نوفل کا محل بھی ہے،جہاں پندہ سوبرس پرانی ابوجہل کی بوتل ...

مزید پڑھیں »

دوپہر

سورج دوپہر کے نیلے آسمان میں پگھلا جارہا ہے۔ اور اپنی گرم، قوس قزح کے رنگوں کی شعاعیں زمین پر اور سمندر پر بکھیر رہا ہے۔ نیم خوابیدہ سمندر میں سے رنگ بدلتے ہوئے بلور کا سا کہرا اٹھ رہا ہے نیلگوں پانی فولاد کی مانند چمک رہا ہے اور ...

مزید پڑھیں »

شہربانو اورشہرزاد!

اماں کا ڈنڈا سر پہ تھا اور بیٹی کی دہائیاں! کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دو محبت کرنے والیوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمئی شام کا جھٹپٹا رات کی تاریکی میں ضم ہونے کو ہے، تبھی تو ...

مزید پڑھیں »

یوٹوبروٹس

کالج میں چھوٹے سے باغیچہ میں ہری گھاس پہ آتی پالتی لگائے بیٹھی تھی۔ سعدیہ کی دور سے لہراتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ ”پیریڈ فری؟“۔ ”ہاں یار!“ میں نے اثبات سے سر ہلایا۔ ”تو پھر چلیں مٹر گشت پہ“ سعدیہ نے ہال کی چھت کی ریلنگ کے ساتھ لگے ...

مزید پڑھیں »

پاداش

جانتی ہو اُداسی راس آجائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ مشکلیں مشکلیں نہیں لگتیں۔ الجھنیں الجھن میں نہیں ڈالتیں۔جھیل کے پانی کی طرح ٹھہراؤ آجاتا ہے۔ دیکھتی ہو نہ جھیل کے پانی کی سطح کیسے کنول کے پھولوں سے بھر جاتی ہے۔ دیکھنے والے کی آنکھ کو کیسے دھوکہ ...

مزید پڑھیں »