کہانی

ہیپی اولڈہومز

” سالا چریا مغز! بک بک کیے جانا تو اس کی پرانی خو ہے۔ اب حرامزادے کو کان بھی لگ گئے ہیں“۔ بائو جی ساری زندگی نستعلیق ہونے کی پریکٹس کرتے رہے۔ مرتے ہی جانے کیوں گالیاں بکنے شروع ہو گئے تھے۔ اوپری لب پر پھیلی ہوئی راکھ رنگ مونچھیں ...

مزید پڑھیں »

موچی

  اس کا چہرہ زرد ہے ۔ وہ سڑک کے کنارے دھوپ میں ناامید اور مایوس بیٹھا ہے اور اس کی نگاہیں سب سے پہلے پاس سے گزرنے والے لوگوں کے پیروں پر پڑتی ہیں، یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا اُس کے جوتے پھٹے ہوئے ہیں کہ نہیں؟ تاکہ ...

مزید پڑھیں »

کسان کی بیٹی

  نازو اپنے خیالات میں مگن پشتو کا ایک گیت گنگنا رہی تھی۔ ” اے رنگ ریز کل عید ہے ۔ میرے کپڑوں کو جامنی رنگ دو کہ میں نازنین ہوں۔ میرے کپڑوں کو کئی باررنگ میں ڈبو دو۔ ”ہاں کل عید ہے خوشیوں اور مسرتوں کا دن۔ چھوٹے بڑے ...

مزید پڑھیں »

شہ رگ

  نہر کا پاٹ چوڑا تھا‘ اور پانی کا بہاﺅتیز تھا۔ کبھی مورنی سی پیلیں ڈالتابھنور سا گھومتا‘ کبھی پنہاری سی گاگریں لڑھکاتا ‘چھلیں اُڑاتا‘ نہر کے ان عنابی رنگ پانیوں میں عورتیں نہاتیں تو اموکو اپنی گابھن بکریوں کی طرح رس بھری معلوم ہوتیں۔ اُن بکریوں کی طرح جن ...

مزید پڑھیں »

پذيرائی

  وہ زَد آلودگی کا پہر، وہ دن کی آخری کِرنیں اُس اداسی بھرے چھرے پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ۔ معمول کے مطابق آج بھی ڈھلتے سورج نے اُسے افسردہ کردیا۔ وہ ہر روز اسی سوال پہ سوچتا اور جواب حاصل کیٸے بغیر ہی گھر کو لوٹتا۔ آج بھی ...

مزید پڑھیں »

نیل پالش

وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی۔ یہ راز کوئی نہیں جانتا تھا۔ مگر اس عورت کا تیزاب سے مسخ شدہ چہرہ، اس امر کا گواہ تھا کہ تھی وہ بد کردار اور بے وفا بھی، جبھی تو اپنی مردانگی جتاتے ہوئے کسی مرد نے اُس کا حسن اور نسوانیت ...

مزید پڑھیں »

ایفیزیا

ہاں تو بات یہاں سے شروع ہوئی تھی ۔ نہیں بات تو ہوئی ہی نہیں تھی۔ پھربھی کوئی بات تو ہوئی ہوگی۔ ہاں یادآیاکہ بات تو ہوئی تھی۔ پر کیا بات ہوئی تھی یاد نہیں۔ میں بھی باتوں باتوں میں کیا لے بیٹھی۔ کیا خوب کہ باتوں باتوں میں اس ...

مزید پڑھیں »

قصہ

  روش شتوں ناواشام بیساں شف تارمہ بیغاں حالاندایغئے، سیاھے شف ناز بی بی آ دل آ بتر تڑسیناغئے۔ آہی دل آ اے شف چو دھکاواں بھیراں دہکاناں جانغئے۔ استی اے تڑس دے ہچو ناغومانینئے پر ناز بی بی جوانیاں سییاں کہ گھوڑوئے کوفیساں بھانگاں۔ آسییاں کہ بھانگاں روش ایشیاں ...

مزید پڑھیں »

گم شدہ گاﺅں کا باشندہ

جاتے ہوئے دسمبر کی خون جما د ینے والی سرد رات تھی۔ ہر چیز کو دھند نے یوں لپیٹ رکھا تھا کہ زندگی کی رمق اپنی اپنی پناہ گاہوں میں دُبکی پڑی تھی۔ گہری خاموشی کا راج تھا۔ سنّاٹا گلی گلی سسکاریاں لے رہا تھا۔ ماحول میں بس ہوا کی ...

مزید پڑھیں »

بارش ، خواب اور سمندر

میں نے خواب میں دیکھا، سمندر میرے کمرے میں داخل ہو گیا ہے اور میں مچھلیوں کے بیچ انہی کی طرح تیر رہی ہوں۔ کیا میں واقعی مچھلی بن گئی ہوں؟ ۔مگر مچھلیاں تو مجھ سے منہ موڑ کر اپنی راہ پر چلی جا رہی ہیں، انہیں میرے ہونے کا ...

مزید پڑھیں »