مضامین

جہاں جسکیں دَہ روش

چوکہ ہمے ڈولیں ہر زمانہ اے آ بی، شہر ئے عامیں زیندھ دہموذ کہ بیثہ بیثہ انقلابا نظر انداز کناناں روغئے چلاّناں۔ شاعر شیئراں لکھغئے ثنت………… پر انقلابہ باروا نہ۔ حقیقت پسندیں آرٹسٹ مِڈایول ئے روس ءِ سوادھانی بزاں انقلابا سوا دوہمی ہر چیز ئے پینٹنگاں ٹاہینغئے ثنت۔ صوبہاں ژہ ...

مزید پڑھیں »

آرٹ اور سماجی زندگی

1 آرٹ کا سماجی زندگی سے تعلق ایک ایسا سوال ہے جو ہر اُس لٹریچرمیں موضوع بحث بنتا ہے جو اپنے ارتقا کی ایک واضح سطح تک پہنچ چکا ہو۔ اکثر اس کا جواب متخالف ومتضاد معنوں میں دیا جاتا ہے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ آدمی سبت (آرام کا ...

مزید پڑھیں »

کروپسکایا،اسکرا کی ایڈیٹوریل سیکریٹری

کروپسکایا لینن کی طرح ایک پروفیشنل انقلابی تھی۔ اُس نے بیرون ِ ملک جلاوطنی محض برائے جلاوطنی نہیں جھیلی۔ وہ ایک کاز کے لیے دربہ در رہی۔ اور اسی کاز، اسی مقصد ہی کو سامنے رکھا۔اٹھنے بیٹھنے میں، وطن اور پروطن میں، جیل اور جبر میں۔ا ور وہ کاز انقلاب ...

مزید پڑھیں »

سمو بیلی

” فکر مست محض نظریاتی دانشورانہ نکتہ وری نہ تھی-یہ تو عوامی پذیرائی اور قبولیت کا ایک ایسا انقلاب تھا جسے جان ریڈ کے بقول،”ہزاروں لاکھوں کان ایسے تھے جو اس کی باتیں سننے کے لیے جیسے پہلے ہی تیار ہوں”- ذرا غور کیجیے کہ غربت و افلاس میں پڑا ...

مزید پڑھیں »

گارشیا مارکیز اور "محبت کا انتظار”

اپنی وفات سے پہلے، جب وہ آہستہ آہستہ ہر چیز کو بھول رہا تھا، تو اس نے اپنے پڑھنے والوں کے نام جو آخری خط تحریر کیا، اس میں لکھا تھا کہ "آدمی اس وقت بوڑھا ہوتا ہے، جب وہ محبت کرنا ترک کر دیتا ہے”. یہ الفاظ اس لکھاری ...

مزید پڑھیں »

بارشوں کی تباہی

سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کی مجموعی زندگی ستر سال گزر جانے کے باوجود مکمل طرح اربنائیذڈ نہیں ہوسکی، اور وہ ہو بھی تو کیسے ہو، جب قدرتی وسائل جو قدرت نے مقامی لوگوں کے قدموں تلے رکھے تاکہ ان کو کسی کی محتاجی نا کرنی پڑے ان سے ان ...

مزید پڑھیں »

ہفت روزہ عوامی جمہوریت ۔۔۔چَنّی گوٹھ کسان کانفرنس

ہفت روزہ عوامی جمہوریت ستر کی دھائی کے اوائل میں پاکستان میں عوامی تحریک کے ابھار کا سمجھیے ترجمان رہا ہے۔ اِن برسوں میں سی آر اسلم کی پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے تحت بہت بڑی ٹریڈ یونین اور کسان تحریک چلی۔ لاکھوں کو چھوتی ہوئی تعداد کی بڑی کسان کانفرنسیں ...

مزید پڑھیں »

فاصلوں سے ماورا

ڈاکٹر فاطمہ حسن کی زیرِ نظر کتاب کے تین حصے ہیں، نظمیں، غزلیں اور عقیدتیں۔ ان کی نظمیں مجسم احساس ہیں اور غزلیں مجسم فکر جب کہ عقیدتیں مجسم توسل۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن کا طرزِ احساس اضطراب کو جنم دیتا ہے جبکہ ان کی فکر اس اضطراب کا تجزیہ کرتی ...

مزید پڑھیں »

نوائے جرس کی خاموشی!

جاتی سردیوں کی بارش۔۔۔شال تو نکھر گیا۔۔۔!۔ بارش؛ جو ہر پتے ، گُل، بوٹے کو نم کر کے فضا میں سبزے کی خوشبو ہر سُو بکھیر دیتی ہے۔۔۔ ایسے ہی وہ بہت سوں کے اندر کو بھی نم کر دیتی ہے۔ ٹِپ ٹِپ کرتی بارش کی وہ جھل تھل کہ ...

مزید پڑھیں »

سیوی گپتہ تی دنگاں ۔۔۔

سرحد پار اظہر صاحب کے آبائی علاقے میں اُس کا بچپن بہت اچھا گزرا۔ اُس زمانے میں سکھ، ہندو،اور مسلمان لڑکوں کی آپس میں کی زبردست دوستیاں تھیں۔ کوئی تعصب، اور خراب دلی نہیں تھی۔ اس نے جب مجھے اپنے اسکول کا نام بتایا تو میں حیران رہ گیا۔ تضادات ...

مزید پڑھیں »