مضامین

طبقاتی سماج میں سچ

آج کی دنیا کے تقریباً ہر ملک پہ سرمایہ داروں جاگیرداروں، سرداروں اور بیوروکریسی کی متحدہ حکومت قائم ہے۔ کس پہ؟ مزدوروں پہ، کسانوں، چرواہوں، ماہی گیروں اور معدنی مزدوروں پہ۔ یعنی دولتمند لوگوں کی بے دولتوں پہ حکومت ہے۔ دولت مند تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں جبکہ بے ...

مزید پڑھیں »

آزاد امریکہ کے قید خانے آخر اتنے آباد کیوں ہیں؟

جب میری ملازمت امریکہ کے ایک جیل میں بطور منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ کے ہوئ توکرم فرمائ کے دعوی دار ایک حضرت نے کچھ تمسخر اور کچھ طنز سے فرمایا، “ضرور کام کیجیے وہاں۔ تاکہ آپکے سوشل ورک سے متعلق آئیڈیلزم کا نشہ تو اترے”۔ میں نے اس ...

مزید پڑھیں »

بخت نامہ کاکڑ

بخت نامہ کاکڑ پہلی خاتون قیدی اور پہلی خاتون شہید کے رتبے پر فائز ھونیوالی بہن بیٹی ھے۔ بخت نامہ شہید کاکڑ قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ مورخین کا کہنا ھے کہ 1925 تا 1930 کے درمیان بخت ہندوباغ (مسلم باغ) کے علاقے میں ناپاک فرنگی راج کیخلاف مسلح جدوجہد ...

مزید پڑھیں »

اداریہ سنگت نومبر 2020

کٹھور دائرہ ٹوٹ رہا ہے وہ بَلا ،جو دوسو برس قبل یورپ کے سروں پر منڈ لا رہی تھی، وہ اب پاکستان کے حکمران طبقات کے کمپاﺅنڈ میں لینڈ کرچکی ہے ۔ حکمران طبقات پہ قیامت آئی ہوئی ہے ۔ اُن کے فکری ذخیرے لمحہ بہ لمحہ سکڑتے جارہے ہیں۔ ...

مزید پڑھیں »

بندہ مزدور کی سلگتی آنکھیں!

سوا نیزے پہ سورج، چلچلاتی دھوپ، مانو آسمان سے آگ برس رہی ہو لیکن کاروبار حیات موسموں کا مرہون منت تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے پرسکون، نیم تاریک اور خنک آمیز گھر کے دروازے سے نکل کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے لو کے تھپیڑے چہرے سے ٹکراتے ہیں۔ اونگھتا ...

مزید پڑھیں »

قافلے کی گھنٹی!

کتاب کا نام :سائیں کمال خان شیرانی مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری مبصر: عابدہ رحمان سرسبز وشاداب، چشموں کی جھنکار اور بارش کی رم جھم برستے بادلوں کے شین مرغزارٹھنڈے میٹھے علاقے، شنہ پونگہ، میں دنیائے فکرو فلسفہ اور انسانیت کے آسمان پرایک ایسا ستارہ طلوع ہواکہ جس کی روشنی ...

مزید پڑھیں »

صدیوں کی غلامی نسلوں کا المیہ (پوسٹ ٹرامیٹک سلیو سنڈروم)

ایسا نہیں کہ تاریخ کی کوکھ سے خوشیوں نے کبھی جنم ہی نہیں لیا۔ لیکن مسرتوں کے لمحات اکثر وقت کی ڈیوڑھی پہ اپنا نشان ثبت کیے بغیر سرعت رفتاری سے گذر جاتے ہیں ۔ ٹھہرجانے والے تو دکھ اور اذیت کے لمحات ہوتے ہیں جو تاریخ کے سینے پہ ...

مزید پڑھیں »

ثمینہ راجہ

(11ستمبر31-1961اکتوبر 2012) ثمینہ راجا کی ، جواں سال موت کی خبر ، بہت تکلیف وہ تھی۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے نہ تھے۔ میں نے تو جینوئن شاعرہ کے بطور اس کا نام سن رکھا تھا مگر وہ تو پہلے مجھ سے بالکل ناواقف تھی۔ جینوئن میں نے اُسے سوچ ...

مزید پڑھیں »