Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی

شیرانی رلی

نظم ۔۔۔ زہرا بختیاری نژاد/احمد شہریار

March-17 sangat front small title

میں جبراً تم سے نفرت کروں گی تمہارے عشق سے میری زندگی کے حصے بخرے ہوجائیں گے میں پانی پیتی ہوں تو اس میں تمہارے بوسے کا ذائقہ ہوتا ہے اور میرا ایک ٹکڑا گلاس میں گرجاتا ہے تکیہ میرے لمبے بالوں کو چھوڑ کر تمہارے چھوٹے بالوں سے چپکا ہوا ہے میرے خیال کا ایک ٹکڑا تکیے پر رہ ...

Read More »

غزل ۔۔۔ محسن چنگیزی

March-17 sangat front small title

سنا رہا تھا کہانی سنانے والا کوئی اور اس کہانی میں تھا سچ بتانے والا کوئی یہ شام بھی بڑی مصروفیت میں گزری ہے سو یاد آیا نہیں یاد آنے والا کوئی یہ منحرف ہے پرندوں کی دوستی سے بہت ہے اس شجر پہ برا وقت آنے والا کوئی گزر ہوا ہے یہ کس بے لحاظ بستی سے ملا نہ ...

Read More »

نظم  ۔۔۔ پابلو نرودا / سلمی جیلانی

March-17 sangat front small title

تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو گر سفر نہیں کرتے گر مطالعہ نہیں کرتے گر زندگی کی آوازیں نہیں سنتے گر خود کو نہیں سراہتے ۔ تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو جب خود توقیری کو قتل کر تے ہو جب دوسروں کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ تمھاری مدد کر سکیں ۔ تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو جب ...

Read More »

ادھوری نظمیں (سپیشل بچے)  ۔۔۔ سبین علی

March-17 sangat front small title

کمزور ذہن چوڑے ماتھے والے اور ان کے ہر خط پیشانی میں کنداں اک کرب مسلسل چھوٹی آنکھیں کمزور نظر دھندلے مناظر اور وہ دیکھ لیتے ہیں مکمل انسانوں کا ادھورا پن سانس لیتے ہیں آڑی ترچھی لکیروں آبی رنگوں میں اور چل پڑتے ہیں ہوا کی خانہ بدوش موجوں کے سنگ سر دھنتے ہیں موسیقی کی لَے پر اور ...

Read More »

غزل ۔۔۔ وصاف باسط

March-17 sangat front small title

اندروں نیند کا اک خالی مکاں ہوتا تھا میری آنکھوں میں ترا خواب نہاں ہوتا تھا روز جاتے تھے بہت دور تلک ہم دونوں پر یہ معلوم نہیں ہے میں کہاں ہوتا تھا دشت کے پار بہت دور تھی اک آبادی اور اس سمت بہت گہرا دھواں ہوتا تھا خوف کے بعد بھی وحشت ہی نظر آتی تھی وحشتوں سے ...

Read More »

غزل ۔۔۔ احمد شہریار

March-17 sangat front small title

دریا سخت دباؤ میں ہے ڈوبنے والا ناؤ میں ہے اب ذرے ذرے کا ہاتھ صحرا کے پھیلاؤ میں ہے مرہم میں آرام نہیں ساری تسکیں گھاؤ میں ہے تصویروں میں جلتا شہر کب سے سرد الاؤ میں ہے آئنہ گر کو کیا معلوم جو لذت پتھراؤ میں ہے

Read More »

کہیں ٹوٹتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد

March-17 sangat front small title

بہت دور تک یہ جو ویران سی رہگزر ہے جہاں دھول اڑتی ہے صدیوں کی بے اعتنائی میں کھوے ہوے قافلوں کی صدائیں ، بھٹکتی ہوئی پھر رہی ہیں درختوں میں ۔۔۔۔۔۔ آنسو ہیں صحراؤں کی خامشی ہے ادھڑتے ہوے خواب ہیں اور ہواؤں میں اڑتے ہوے خشک پتے کہیں ٹھوکریں ہیں صدائیں ہیں افسوں ہے سمتوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حد ...

Read More »

غزل ۔۔۔ رضوان فاخر

March-17 sangat front small title

دیا کہتا رہا ، چپ تھے دریچے پتنگوں نے سنے خوشبو کے قصے ان ہونٹوں پر تبسم کھلتے کھلتے بدل جاتے ہیں انگوروں میں غنچے یہ ساحل پہلے بھی دیکھا ہوا ہے مگر پہلے یہاں دیوار و در تھے کوئی سلوٹ نہیں دریا پہ لیکن کنول رکھے ہیں پانی پر قدم کے میں جل لے کر بناوں تیری صورت جو ...

Read More »

غزل ۔۔۔ منیر فیاض

March-17 sangat front small title

چاند کے ساتھ گئی جھیل کی تابانی بھی سسکیاں لینے لگے رات کے زندانی بھی شہرِ معلوم کی گلیوں سے گزرتے لوگو دھیان میں رکھنا کوئی لمحہء امکانی بھی ساتھ چلتی ہے کسی منزلِ گم نام کی اور گام دو گام مری بے سروسامانی بھی آئنہ وار مجھے دیکھے چلی جاتی ہے تیری تصویر سے لپٹی ہوئی حیرانی بھی ہجر ...

Read More »

غزل ۔۔۔ رحمان راجہ

March-17 sangat front small title

بْجھے ہوئے سے جو چند سگریٹ پڑے ہوئے ہیں سو ہم محبت میں اس طرح سے جلے ہوئے ہیں یہ میرا کمرہ۔۔۔یہ میرا گھر ہے؟۔۔ میں کیسے مانوں یہاں تو ہر سْو تمہارے فوٹو لگے ہوئے ہیں جواں درختوں کی چھاوں میں بھی وہی مزہ ہے مگر جوبوڑھوں سے اپنے رشتے بنے ہوئے ہیں وہ خط پْرانے، پْرانے فوٹو،،تمہارے تخفے ...

Read More »