شاعری

سیل زماں کی ضرب

  احمدو ترکھان کی دوکان سے کچھ دور ٹیڑھے موڑ پر اک پرانے پیڑ کے کچھ ٹمٹماتے سائے میں پیرہ خیر احمد کے بُجھتے قہقہے اور قہقہوں کے درمیاں آنسوؤں کے زہر سے لکھی گئی اِک داستان اِک داستاں، در داستاں، در داستاں داستاں کی اصطلاح جو کہ شوگر کوٹ ...

مزید پڑھیں »

بیجل کے انتظار میں

    کوئی دن اور سب دیکھ لیں گے کیسے آبادیاں جاگتی ہیں نرتکی ، راج منڈپ ، پروھت سر پھری دیویاں جاگتی ہیں سوہنی ، ماروی ، نوری، سورٹھ سر کی شہزادیاں جاگتی ہیں تھر کی ریت اور منچھر کا پانی اجرکیں ، رلیاں جاگتی ہیں جرم ان کا ...

مزید پڑھیں »

جنم  دن کا بوجھا

    خلاوں تک پھیلے ہوئے خواب کا بوجھ ہے مٹی سے قبریں بنائی جائیں یا تختیاں لیپی جائیں نام تو تمہارا ہی گودا جائے گا خالی تکیوں پر پڑی خاموش سلوٹیں اور وقت کی جلد پر پڑی خراشیں میری شناخت کو دفن کرنے ٓا ئی  ہیں کمال تو یہ ...

مزید پڑھیں »

جنم  دن کا بوجھ

  خلاوں تک پھیلے ہوئے خواب کا بوجھ ہے مٹی سے قبریں بنائی جائیں یا تختیاں لیپی جائیں نام تو تمہارا ہی گودا جائے گا خالی تکیوں پر پڑی خاموش سلوٹیں اور وقت کی جلد پر پڑی خراشیں میری شناخت کو دفن کرنے ٓا ئی  ہیں کمال تو یہ ہے ...

مزید پڑھیں »

نظم

  تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے محبت اور اس کی سبھی نرم شاخیں گزشتہ صدی سے بدن کی رگوں میں نمو پارہی ہیں تمنا کی ترشی زباں سے حلق تک گھلی جارہی ہے نظر اور حدِ نظر تک نظارے کہیں بہتے جھرنے، کہیں ابر پارے تیرے نام ...

مزید پڑھیں »

غزل

  لہو سے میں نے سینچی ہے جو سوچی بھی نہیں تو نے جو دنیا میں نے دیکھی ہے وہ دیکھی ہی نہیں تو نے دکھائی دینے لگتے ہیں وہ منظر جو نہیں منظر فلک کی نیلی چادر کیا کبھی کھینچی نہیں تو نے بہت اوپر سے مجھ کو دیکھتا ...

مزید پڑھیں »

خودی

میری ذات ذرہ ذرہ میری ذات کرچی کرچی مجھے یوں ہے جو بکھیرا کہ سمٹ گیا جسم میرا زباں جو لب کشا ہوئی تو دن میں رات بین کرتی جو میں موندھ لوں یہ آنکھیں رات اندھیرے میں مچلتی اری سیاہ کار او بے خبر بنے تو جو میری چارہ ...

مزید پڑھیں »

ایک سندیسے کی آس میں

ایک سندیسے کی آس میں ۔۔۔  علی بابا تاج منڈیروں پہ پنچھی جب سے چلنا بھول گئے اڑنا بھول گئے اجلے دن میں دیر تلک کیا رہنا تھا اک منظر جو آنکھ میں اترا بے شکلی میں اک آواز تھی بوسیدہ وقت کے پہلو میں سو وہ بھی سورج پار ...

مزید پڑھیں »

حملہ

شب کے شب خون میں اک تیرہ شبی کا خنجر دہر کے سینہِ بیدار میں حسبِ معمول وار بھرپور تھا ؛ پیوست ہوا قبضے تک رو کے خاموش ہوئی گنبدِ مسجد میں اذان میوزیم میں کہیں اوندھی گری گوتم کی شبیہہ نے شکستہ ہوئی ؛ نوحے تھے نہ نغمے باقی ...

مزید پڑھیں »