شاعری

نظم

جب احتجاج کرتے میرے ہم وطنوں کا ہجوم گزر چکا تو میں نے اس جگہ کی مٹھی بھر مٹی اٹھا لی مٹی میرے ہم وطنوں کے آنسوو¿ں سے نم تھی جہاں جہاں سے وہ گزرے تھے وہاں وہاں اک اک زرّہِ خاک میں وہ اپنا دکھ چھوڑ گئے تھے میں ...

مزید پڑھیں »

حدی خوان ٹھہرو !

حدی خوان ٹھہرو ! میں حانی ‘ حدی خوان ! مندو کی بیٹی حُدی خواں! تُم نے مُبارک کے بیٹے کی مَہری کو دیکھا؟ وہ بدبخت پاگل جواری کو دیکھا؟ حدی خوان شے کی سواری کو دیکھا؟ مری اور دیکھو! میں حانی ‘ حدی خوان ! مندو کی بیٹی سعیدوں ...

مزید پڑھیں »

ایک نظم

پہلا منظر کچھ لوگوں نے جلا دیا تھا ایک بدن کو سبب تو کچھ معلوم نہیں تھا آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے اور چیخوں سے لپٹ رہے تھے ایک ہجوم تھا چاروں جانب لیکن کوئی بچاتا کیسے سب ہی کو تو فکر تھی اس کی ویڈیو اور تصویریں لےکر ...

مزید پڑھیں »

Do More(کچھ اَور) یا ہجرمسلسل

چاروں اَور خوشی کی چُنری پربت ہاتھ بڑھاتے ہیں بادِ صبا ہے مستی میں بادل بھی اب دوست ہوئے دستر خوان سجا رہتا ہے رونق ِشہر بحال ہوئی رستے بھی دشوار نہیں لیکن چُبھتا رہتا ہے دل میں گڑا مسلسل تیرے ہجر کا کانٹا !!

مزید پڑھیں »

فوسل

یاد ہے؟ جب میں نے ایک بچے کی طرح تمہاری طرف ہاتھ پھیلائے تو تم نے کچھ کہا اور میں اچانک ہزاروں سال بوڑھا ہوگیا اس فوسل کی طرح جسے یاد بھی نہیں کہ وہ کہاں جیا اور کیسے مرا؟!

مزید پڑھیں »

عورت

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ ...

مزید پڑھیں »

جلتی کُڑھتی نظم

میرے پاؤں دوکمروں کے درمیان رات دِن مسلسل چکراتے رہتے ہیں تمہارا کمرہ اور میرا کمرہ خیال اُس خیال سے چِڑتا ہے جھگڑتا ہے جب وہ خود کو تمہارے کمرے میں کہیں نہیں پاتا ماتھے کی شکنوں میں اضافہ چُپکے سے کہتا ہے وقت کے ساتھ بہت کُچھ بدلتا ہے ...

مزید پڑھیں »

یہ شہر شہرِ نا رسا ہے

یہ شہر بھی شہرِ نا رسا ہے کہ اس کے اطراف خواہشوں کا مہیب جنگل سُلگ رہا ہے کہ اس کی گلیوں میں ہر صداقت بریدہ پا ہے کہ نوحہ گر ہیں یہاں کے باسی محبتوں کے کٹھن سفر میں وجود انکے بکھر چکے ہیں یہ لوگ وہ ہیں جو ...

مزید پڑھیں »

شاہ مرید منظر در منظر

( پہلا منظر ) حانی زرّیں دور تھا وہ حانی اب جب یاد کروں تو روتا ہوں ڈاڈر ارض ِ پاک تھا گویا سیوی جنّت کا نقشہ تیر اندازی کی مشقیں تھیں گُھڑ تاچی کے میلے تھے اُونٹوں کی نا ختم قطاریں آگے آگے چلتی تھیں تیغوں کی بَجتی شہنائی ...

مزید پڑھیں »