شاعری

یہ دنیا

ﯾﮧ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﺨﺘﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﺎﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﻤﺎﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﻭﺍﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﺴﻢ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺡ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ...

مزید پڑھیں »

غزل

مَکیں اِدھر کے ہیں ، لیکن اُدھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھرمیں لگی ہو، تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سَیلِ بَلا کی زَد میں ہو تو پِھر ثَمر کی نہیں ، پِھر شَجر کی سوچتے ہیں اُڑے توطَے ہی نہیں کی،حَدِّ آشیاں بَندی اَب اُڑ ...

مزید پڑھیں »

وچھوڑا

روح دا در کھلیا سی آس دی کنڈی پجی سی دل شور سنیا دھک دھک داب لکی پا،باری توں تکیا تیری یاد دا تاج سر تے سجاے اداسی وال کھلارے روندی جائے اتھرو اداسی دے ڈگڈے جاندے دوارے لگیا زنگ، دھوندے جاندے دل میرے نے شکوہ پایا بکل ماری، باری ...

مزید پڑھیں »

واشنگٹن کی کالی دیوار

اپنی فیروز بختی پہ نازاں سیہ پوش دیوارپر آبِ زرسے لکھے نام پڑھتے ہوئے میری آنکھیں پھسلتی ہوئی نیہہ پرجاگریں الغِیاث! الاَماں!۔ ایک بستی کے جسموں کا گارا سیہ ماتمی مرمروں کے تلے اس کی بنیاد کا رزق تھے زائرین جوق در جوق اس غم زدہ دل گرفتہ کو اشکوں ...

مزید پڑھیں »

تعریف کا خراج فہمیدہ ریاض کو

تاریخ کی خونی گلی تھی، اور فہمیدہ ریاض ٹارچر سیلوں میں تھے کڑیل جوان گمشدہ جن کی جوانی گمشدہ تاریخ کی خونی گلی تھی اور فہمہدہ ریاض عورتیں سنگسار تھیں اورُگناہگارُمحبت آدمی اورانکاری جبیں انسان کی وقت کے سارے خدائوں کے قہر کے سامنے سینہ سپر ایک فہمیدہ ریا ض۔ ...

مزید پڑھیں »

سندھ دا جوگی

کل راھ تے ویندے ھوئیں میکوں ہک جوگی ٹکرے آکھن لگا ،میڈا بچڑا میں سندھ دریا دی من جمیاں میڈی ساری عمراں سندھ دے کٹھے ھنڈ گئی ھن میں بڈھا تھی گئیاں کہیں ڈیہاڑے واہندے وگدے اگلے پندھ تے ٹر پوساں میڈے مرن پچھوں میڈی ہک اکشا پوری کریں میڈیاں ...

مزید پڑھیں »

تماشا گاہ دنیا میں

اڑیں مہکی ہوئی زلفیں جھکیں بے باک سی نظریں بہکنے کو چلیں سانسیں الجھنے کو کہیں باہیں مگر دل میں دبے یہ کاغذی جزبے ضرورت سے بندھے بے نام دھوکے ہیں نہ صبحیں سورجوں کے رنگ پہنے ہیں نہ راتوں کے لئے چندا کے گہنے ہیں نگاہوں نے گھڑی کی ...

مزید پڑھیں »

دعا

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی زہرِ امروز میں شیرینیِ فردا بھردے وہ جنہیں تاب گراں باریِ ایام نہیں اُن کی پلکوں پہ شب وروز کو ہلکا کردے جن کی آنکھوں کو رُخِ صبح کا یارا بھی نہیں اُن کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے جن کی قدموں کو ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ

سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا تی ...

مزید پڑھیں »

ہم ہیں ۔۔۔۔۔۔ حالانکہ نہیں ہیں ۔۔

ہم نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے سے چرایا اوراس کنویں میں چھپا دیا جسے بلیک ہول کہتے ہیں ہم تھے۔۔۔۔۔۔۔۔مگرنہیں تھے پھر۔۔۔۔۔ وقت کے ہیرپھیرنے، اتھل پتھل نے کا ئنات کا سارا لکھا مٹا دیا سارا بنا بگاڑ دیا مشرق سے مغرب تک شمال سے جنوب تک زمیں پرنقطوں ...

مزید پڑھیں »